بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 24 hadith
حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا رحم کرنے والوں پر رحمان خدا رحم کرے گا۔ تم اہل زمیں پر رحم کرو۔ آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے نواسے حضرت حسنؓ بن علیؓ کو بوسہ دیا۔ اس وقت آپﷺ کے پاس اقرع بن حابس بھی بیٹھا تھا۔ اقرع نے یہ دیکھ کر عرض کیا۔ میرے دس بیٹے ہیں، میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ آپﷺ نے اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس نے نبی ﷺ کو دیکھا۔ آپؐ حضرت حسن ؓ کا بوسہ لے رہے تھے۔ اس نے کہا میرے دس بچے ہیں میں نے کبھی ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے بد ترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہے اور اس کے ساتھ بُرا سلوک کیا جاتا ہے۔
حضرت انس ؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیمؓ کے پاس ایک یتیم بچی تھی اور وہ (حضرت ام سلیمؓ) حضرت انسؓ کی والدہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس یتیم بچی کو دیکھا تو فرمایا تم وہی ہو، بہت بڑی ہو گئی ہو، اب تمہاری عمر نہ بڑھے۔ تب وہ یتیم بچی روتے ہوئے حضرت ام سلیمؓ کے پاس آگئی تو حضرت ام سلیم ؓ نے پوچھا اے میری پیاری بیٹی تجھے کیا ہوا ہے؟ (اس) لڑکی نے کہا اللہ کے نبی ﷺ نے میرے خلاف دعا کی ہے کہ میری عمر نہ بڑھے۔ اب کبھی میری عمر نہیں بڑھے گی۔ یا اس نے کہا میرا زمانہ۔ اس پر حضرت ام سلیم ؓ جلدی سے اپنی اوڑھنی اوڑھتے ہوئے باہر آئیں اور رسول اللہ ﷺ سے جا ملیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا اے اُمّ سلیم! کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ! کیا آپؐ نے میری یتیم بچی کے خلاف دعا کی ہے؟ آپؐ نے فرمایا ام سلیم ؓ ہوا کیا ہے؟ وہ کہنے لگیں اس کا خیال ہے کہ آپؐ نے اسے دعا دی ہے کہ نہ اس کی عمر بڑھے اور نہ اس کا زمانہ بڑھے۔ راوی کہتے ہیں اس پر رسول اللہ ﷺ مسکرائے پھر فرمایا اے ام سلیمؓ! کیا تجھے میرے رب سے میری شرط کا پتہ نہیں جو میں نے اپنے رب سے کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا کہ میں تو ایک بشر ہوں اور ایک بشر کی طرح خوش ہوتا ہوں اور ایک بشر کی طرح ناراض (بھی) ہوتا ہوں۔ پس جس کسی کے خلاف میں اپنی امت میں سے اس کے خلاف دعا کروں جس کا وہ اہل نہ ہو تو (اللہ) اسے قیامت کے دن اس کے لئے طہارت، پاکیزگی اور اپنے قرب کا موجب بنا دے جو اسے قیامت کے دن اس کے قریب کرے۔
حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : کون سی گردن آزاد کرنا سب سے افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا جو اپنے مالک کے نزدیک سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اگر میں ایسا نہ کر پاؤں؟ آپؐ نے فرمایا پھر کسی کاریگر کی مدد کردے یا کسی سادہ لوح (بے ہنر، اناڑی) کو کچھ بنا کر دے۔ وہ کہتے ہیں : مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمائیے اگر میں ایسا کوئی کام (بھی) نہ کر سکوں۔ آپؐ نے فرمایا اپنے شر کو لوگوں سے روک رکھ۔ یہی تیری طرف سے تیرے نفس کے لئے صدقہ ہے۔
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک آدمی راستے پر جا رہا تھا۔ اسے سخت پیاس لگی۔ وہ ایک کوئیں پر گیا اور اس میں اتر کر پانی پیا۔ جب وہ نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور گیلی مٹی پیاس کے مارے چاٹ رہا ہے۔ اس نے دل میں کہا کہ پیاس کی وجہ سے اس کتے کو بھی اتنی ہی تکلیف پہنچی ہے جتنی تکلیف مجھے پہنچی تھی۔ یہ سوچ کر وہ دوبارہ کوئیں میں اترا۔ پانی سے اپنا موزا بھرا اور اس کو اپنے منہ میں پکڑ کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل کو قبول فرمایا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا چارپایوں پر رحم کرنے سے بھی ہمیں ثواب ملے گا۔ آپﷺ نے فرمایا ہر زندہ جان پر رحم کرنے میں ثواب ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک پیاسا کتا کنویں کا چکر لگا رہا تھا اور پیاس سے مرا جا رہا تھا کہ بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے دیکھ لیا۔ اس نے اپنا جوتا اتارا اور اس سے پانی بھر کر کتے کو پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اس نیکی کی وجہ سے اسے بخش دیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک بار ایک کتا ایک کنوئیں پر گھوم رہا تھا۔ قریب تھا کہ پیاس اس کو مار ڈالے۔ اتنے میں بنی اسرائیل کی کنچنیوں میں سے ایک کنچنی نے اسے دیکھ لیا۔ اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس کتے کو پانی پلایا۔ اس سبب سے اس کو بخش دیا گیا۔