بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim CommunityMuslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmadas of Qadian
Sayings of the Holy Prophetﷺ
16,900+ Ahadith
Showing 9 of 9 hadith
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا اور لوگ اس وجہ سے فکر مند ہوں گے۔ ابن عبید کہتے ہیں اس لئے ان کے دلوں میں ڈالا جائے گا تو وہ کہیں گے کیوں نہ ہم اپنے رب کے پاس کسی کی شفاعت لے کر جائیں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دلائے۔ فرمایا چنانچہ وہ آدم ﷺ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ آدم ہیں ابو البشر ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کی خاطر سجدہ کیا آپ اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کریں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے۔ آدم کہیں گے میں تو اس مقام پر نہیں ہوں اور اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی تھی اور جس کی وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے اور (کہیں گے) نوح ؑ کی طرف جاؤ جو پہلے رسول تھے جنہیں خدا نے مبعوث فرمایا پھر لوگ نوح ﷺ کے پاس جائیں گے۔ وہ کہیں گے میں تو اس مقام پر نہیں ہوں اور اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو اُن سے ہوئی اور وہ اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے اور (کہیں گے) ابراہیم ﷺ کے پاس جاؤ جن کو خدا نے گہرا دوست بنایا تھا۔ اس پر لوگ ابراہیم ﷺ کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے میں اس مقام پر نہیں ہوں اور اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے اور جو ان سے ہوئی تھی اور اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے (اور کہیں گے) موسیٰ ﷺ کے پاس جاؤ جن سے خدا نے خوب کلام کیا اور انہیں تورات دی۔ فرمایا تو لوگ موسٰی ﷺ کے پاس جائیں گے مگر وہ کہیں گے میں اس مقام پر نہیں ہوں۔ وہ اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو ان سے ہوئی تھی اور اس کی وجہ سے اپنے رب (کے پاس جانے) سے شرمائیں گے (اور کہیں گے) عیسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جو روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے۔ چنانچہ وہ عیسیٰ ؑ کے پاس جو روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ میں اس مقام پر نہیں ہوں لیکن تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے عبد ہیں جنہیں خدا نے اگلے پچھلے گناہوں سے منزہ کیا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تب وہ میرے پاس آئیں گے۔ میں اپنے رب کے پاس آنے کی اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی۔ جب میں اس کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اللہ مجھے (اس حالت میں) رہنے دے گا جب تک وہ چاہے گا پھر کہا جائے گا اے محمد ﷺ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جو میرا رب مجھے سکھائے گا پھر میں شفاعت کروں گا اور میرے لئے وہ ایک حد مقرر کر دے گا۔ میں ان کو جہنم سے نکال لوں گا پھر میں دوبارہ واپس آؤں گا اور سجدہ میں گروں گا اور جب تک اللہ چاہے گا مجھے سجدہ میں رہنے دے گا پھر کہا جائے گا اے محمد ﷺ! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری سنی جائے گی مانگو تمہیں دیا جائے گا شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ تب میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا وہ میرے لئے حد مقرر کر دے گا۔ میں ان کو جہنم سے نکال لوں گا اور جنت میں داخل کر دوں گا۔ راوی کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا میں کہوں گا اے میرے رب اب جہنم میں صرف وہ رہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روک رکھا ہے یعنی جن پر لمبا عرصہ رہنا واجب ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح بھسم کر دیتا ہے جس طرح آگ ایندھن اور گھاس کو بھسم کر دیتی ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھاتی ہے اور صدقہ گناہ کو بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے اور نماز مومن کا نُور ہے اور روزے آگ کے مقابل میں ڈھال ہیں۔
حضرت انسؓ بن مالک نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ فقر اور احتیاج کفر کا باعث بن جائے اور حسد مقدر پر غالب آ جائے (یعنی محرومی اس کا مقدر بن جائے)۔
حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ فقر اور احتیاج کفر کا باعث بن جائے اور حسد مقدر پر غالب آ جائے (یعنی محرومی اس کا مقدر بن جائے)۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو حسد نہ کرو بے رخی اور بے تعلقی اختیار نہ کرو باہمی تعلقات نہ توڑو بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے اور اس سے قطع تعلق رکھے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بے رُخی نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بنو اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلق کرے۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے اور اس وجہ سے اس سے ملنا جلنا چھوڑ دے اور جب ایک دوسرے سے سامنا ہو تو ایک ادھر منہ موڑ لے اور دوسرا ادھر۔ اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ ناراض رہے اور اس وجہ سے اس سے ملنا جلنا چھوڑ دے اور جب ایک دوسرے سے سامنا ہو تو ایک ادھر منہ موڑ لے اور دوسرا ادھر۔ اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔