بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
حضرت جابرؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک دن خطاب فرمایا اور (حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے) آپؐ کے ایک صحابی کا ذکر کیا جو فوت ہو گیا۔ تو اس کو ایک معمولی کفن میں کفن دیا گیا اور رات کو دفن کر دیا گیا۔ نبی ﷺ نے تنبیہ کی کہ آدمی کو رات کو دفنایا جائے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے سوائے اس کے کہ آدمی ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اس کو اچھا کفن دے۔
حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں جنازوں کے ساتھ جانے سے ہم روکی گئی تھیں مگر ہمیں تاکیدی حکم نہیں دیا گیا تھا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز جنازہ پڑھتے تو یوں دعا کیا کرتے اے اللہ! ہمارے زندہ اور وفات یافتہ کو اور ہمارے حاضر کو اور غیر حاضر کو اور ہمارے چھوٹے اور بڑے کو اور ہمارے مَرد اور عورت کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جس کو بھی تو زندہ رکھے اُسے اسلام پر زندہ رکھنا اور ہم میں سے جس کو بھی تو وفات دے اُسے ایمان پر وفات دینا۔ اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھنا اور ہمیں اُس کے بعد گمراہ نہ کر دینا۔
ابو ابراھیم الاشھلی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب جنازہ پڑھاتے تو یہ دعا کرتے۔ اے ہمارے خدا! ہمارے زندوں کو اور ہمارے وفات پانے والوں کو، ہم میں سے جو حاضر ہیں اور جو غائب ہیں، ہمارے چھوٹوں کو اور ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو سب کو بخش دے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے بھی ایسی ہی روایت ہے ، اس میں مزید یہ ہے کہ ’’اے ہمارے اللہ! جس کو تو ہم میں سے زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو تو ہم میں سے وفات دے اس کو ایمان پر وفات دے‘‘۔
حضرت عوف بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازہ پڑھایا تو میں نے آپؐ کی دعا یاد کرلی۔ آپؐ کہہ رہے تھے اے اللہ! اس کو بخش دے۔ اس پر رحم کر، اس کو عافیت سے رکھ اور اس سے درگزر کر اور اس کی باعزت مہمانی فرما۔ اور اس کے داخل ہونے کی جگہ کو وسیع کر دے اور اسے پانی اور برف اور اولوں سے دھو دے اور اسے بدیوں سے صاف کردے جیسے ایک سفید کپڑے کو تو آلودگی سے صاف کرتا ہے۔ اور اسے بدلے میں اس کے گھر سے بہتر گھر دے اور اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے عطا کر اور اس کے ساتھی سے بہتر ساتھی دے۔ اور اس کو جنت میں داخل کر اور اس کو قبر کے عذاب سے پناہ دے یا (کہا) آگ کے عذاب سے۔ راوی کہتے ہیں یہاں تک کہ مجھے خواہش ہوئی کہ کاش وہ مرنے والا میں ہوتا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاشیؓ کے فوت ہونے کی خبر اُسی روز دی تھی جس روز وہ فوت ہوئے تھے اور آپؐ ان (لوگوں) کے ساتھ عید گاہ کو گئے اور ان کی صفیں بندھوائیں اور ان کے لئے چار تکبیریں کہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان کی وجہ اور رضائے الٰہی کی خاطر جاتا ہے۔ جب تک اس کے جنازے کی نماز نہیں پڑھ لی جاتی اور اس کے دفنانے سے لوگ فارغ نہیں ہو جاتے، تب تک وہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے تو وہ دو قیراط اَجر لے کر واپس آتا ہے۔ ایک ایک قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہوگا اور جس نے جنازہ پڑھا اور پھر اس کے دفنانے سے پہلے لوٹ آیا تو وہ ایک قیراط لے کر واپس آتا ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ ایک جنازے کے پاس سے گذرے اور انہوں نے اس کی اچھی تعریف کی تو نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی۔ پھر ایک اور جنازے کے پاس سے گذرے۔ انہوں نے اس کی مذمت کی۔ (نبی ﷺ) نے فرمایا واجب ہوگئی۔ حضرت عمر بن خطّاب رضی اللہ عنہ نے کہا کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپؐ نے فرمایا جس کی تم نے اچھی تعریف کی، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم نے مذمت کی ہے، اس کے لئے آگ واجب ہوگئی۔ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک ہمارے پاس سے جنازہ گزرا۔ آپؐ اُس کی خاطر کھڑے ہوئے۔ جب ہم اُسے اُٹھانے کے لئے گئے تو وہ ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا موت ایک گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز ہے۔ پس جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد بن عبادہؓ قادسیہ میں تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو یہ دونوں بزرگ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ جنازہ یہیں کے کسی (غیر مسلم) باشندے کا ہے یہ سن کر دونوں (بزرگ) کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اسے دیکھ کر آپ ﷺ کھڑے ہو گئے عرض کیا گیا کہ حضور ﷺ یہ جنازہ تو یہودی کا ہے آپ نے فرمایا تو اس سے کیا ہوتا ہے کیا یہ انسان نہیں (یعنی احترام میت ہر حال میں ضروری ہے)۔