حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنازہ جلدی لے جایا کرو۔ اگر نیک (روح) ہوئی تو تم اچھی چیز آگے لے جا رہے ہو اور اگر نیک نہ ہوئی تو وہ بری ہوگی۔ جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔
(ابوداؤد کتاب الجنائز باب کراھیۃ المغالاۃ فی الکفن 3154)
حضرت علیؓ بن ابو طالب نے فرمایا کہ آپؐ نے فرمایا کفن میں غلو نہیں چاہیے میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کفن میں غلو نہ کرو۔ کیونکہ وہ اس سے جلد ہی چھین لیا جاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے گھروں کو قبریں اور میری قبر کو عید مت بنانا، مجھ پر درود بھیجنا، تم جہاں بھی ہو گے وہیں سے تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جائے گا۔
(مسلم کتاب الجنائز باب من صلی علیہ مائۃ شفعوا فیہ (1565
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی بھی میّت نہیں جس پر مسلمانوں کی ایک جماعت نمازِ جنازہ پڑھے جو سو تک پہنچے اور وہ سب اس کی شفاعت کریں مگر اس کے بارہ میں ان کی شفاعت قبول ہوتی ہے۔
حصین بن
وَحْوَحْ
سے روایت ہے کہ حضرت طلحہؓ بن براء بیمار ہوگئے۔ نبی
ﷺ
ان کے پاس ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپؐ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اس کی وفات ہونے والی ہے۔ مجھے اس کی اطلاع کردینا اور جلدی کرنا کیونکہ ایک مسلمان کی میت کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اس کے اہل کے درمیان روک رکھی جائے۔
(موطاء امام مالک ، کتاب الجنائز باب ما جاء فی دفن المیت543)
حضرت امام مالکؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سوموار کے روز ہوئی اور دفن بروز منگل ہوئے اور حضور ﷺ کا جنازہ لوگوں نے الگ الگ گروہوں کی شکل میں پڑھا کسی نے امامت نہیں کرائی کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ منبر کے قریب آپ کو دفن کیا جائے اور کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ جنت البقیع میں آپ کو دفن کیا جائے حضرت ابو بکرؓ نے آ کر بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اسی جگہ دفن ہوتا ہے جہاں اس کی وفات ہوئی ہو اس وجہ سے حضور کے لئے اسی کمرے میں قبر تیار کی گئی حضور علیہ السلام کے غسل دینے کے وقت کپڑے اتارنے کا ارادہ کیا گیا تو ایک غیبی آواز آئی کپڑے نہ اتارو اس لئے کپڑوں میں ہی حضور ﷺ کو غسل دیا گیا۔ نوٹ :۔ غالباً یہاں حضور ﷺ کی ذات اقدس یا مستقل شریعت لانے والا نبی مراد ہے ورنہ تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کی نعشیں مصر سے ارض فلسطین میں لا کر دفن کی گئی تھیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(الاستبصار فیما اختلف من الاخبار ،کتاب الطہارۃ ،ابواب الجنائز ، باب جواز غسل الرجل امراتہ و المراۃ زوجھا، جلد1صفحہ 200روایت نمبر (703
مفضل بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام کو کس نے غسل دیا تھا تو انہوں نے فرمایا امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے غسل دیا تھا مجھے ان کی بات بہت عجیب لگی اس پر آپ فرمانے لگے معلوم ہوتا ہے کہ میری بات سے تمہیں تعجب ہوا ہے میں نے کہا کچھ ایسا ہی معاملہ ہے فرمانے لگے حیران ہونے کی کوئی بات نہیں کیونکہ حضرت فاطمہ صدیقہ تھیں اور انہیں صدیق کے علاوہ کوئی اور غسل نہیں دے سکتا تھا کیا تجھے معلوم نہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کو (ان کے بیٹے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے غسل دیا تھا۔
(موطاء امام مالک ، کتاب الجنائز باب غسل المیت (519
حضرت عبداللہ بن ابو بکرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرؓ فوت ہوئے تو ان کی بیوی اسماء بنت عمیسؓ نے ان کو غسل دینے کے بعد، مہاجرین صحابہ جو وہاں پر موجود تھے، سے دریافت کیا کہ میں روزے سے ہوں اور آج سردی شدت کی ہے تو کیا غسل دینے کی وجہ سے مجھے بھی غسل کرنا ضروری ہے؟ صحابہؓ نے کہا نہیں یعنی غسل ضروری نہیں۔