بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
حضرت عقبہؓ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں کہا یا رسولؐ اللہ! نجات کیسے حاصل ہو؟ آپﷺ نے فرمایا اپنی زبان روک کر رکھو۔ تیرا گھر تیرے لئے کافی ہو (یعنی حرص سے بچو)۔ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو نادم ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر معافی طلب کرو۔
حضرت عبد اللہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا طعنہ زنی کرنے والا، دوسرے پر لعنت کرنے والا، فحش کلامی کرنے والا، یا وہ گو زبان دراز مومن نہیں ہو سکتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں میں سے بدترین دو رنگی اختیار کرنے والے کو پاؤ گے جو اِن کے پاس ایک رخ سے جاتا ہے اور اُن کے پاس اور رخ سے جاتا ہے۔
(حضرت حذیفہ ؓ کو خبر پہنچی کہ ایک آدمی چغلیاں کرتا پھرتا ہے) تو حضرت حذیفہ ؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بندہ کبھی رضاء الٰہی کی بات منہ سے نکالتا ہے اس کا کچھ خیال نہیں رکھتا تو اللہ اس کے ذریعہ سے کئی درجہ اس کو بلند کر دیتا ہے اور بندہ کبھی اللہ کی ناراضگی کی بات منہ سے نکال بیٹھتا ہے اس کا کچھ خیال نہیں کرتا اس کے ذریعہ سے جہنم میں جا گرتا ہے۔
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عمرؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے بھائی سے کہا اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کفر لے کر لوٹے گا۔ اگر تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا تو ٹھیک ہے ورنہ وہ کفر اس (کہنے والے) پر لوٹ جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ تیرا اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔ عرض کیا گیا کہ حضور فرمائیے اگر میرے بھائی میں وہ بات ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو؟ آپ ؐ نے فرمایا جو (بات) تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہے تو یقینا تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ (بات) اس میں نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔
حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب مجھے معراج ہوا تو حالت کشف میں میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا۔ اے جبرائیل! یہ کون ہیں تو انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے اور ان کی عزت و آبرو سے کھیلتے تھے۔