بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 28 hadith
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین ذکر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) ہے اور بہترین دعا الحمدللہ (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) ہے۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ذکر الٰہی کرنے والے اور ذکر الٰہی نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے (یعنی جو ذکر الٰہی کرتا ہے وہ زندہ ہے اور جو نہیں کرتا وہ مردہ ہے)۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ؐ نے فرمایا کہ اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے اور اس گھر کی جس میں اللہ کا ذکر نہ کیا جائے زندہ اور مردہ کی مثال ہے۔
حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے لوگو! جنت کے باغوں میں چرنے (کی کوشش) کرو ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! جنت کے باغ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ذکر کی مجالس۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ صبح اور شام کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے اس قدر و منزلت کا علم ہو جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی ہے تو وہ یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ایسی ہی قدر کرتا ہے جیسی اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فضیلت رکھنے والے فرشتے چکر لگاتے رہنے والے ہیں جو ذکر کی مجالس تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں (اللہ تعالیٰ کا) ذکر ہو رہا ہو تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے انہیں گھیر لیتے ہیں یہانتک کہ جو کچھ ان کے اور ورلے آسمان کے درمیان ہے اس کو بھر دیتے ہیں۔ پھر جب لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو وہ (فرشتے) بھی اوپر چڑھتے اور آسمان تک جا پہنچتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا پھر اللہ عزوجل ان سے سوال کرتا ہے ـــ حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے ـــ تم کہاں سے آئے ہو؟ تب وہ کہتے ہیں ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو زمین میں ہیں وہ تیری تسبیح اور تیری بڑائی بیان کر رہے تھے۔ تیری تہلیل (لا الہ الا اللہ کا ورد کرنا) اور تیری حمد بیان کر رہے تھے اور تجھ سے مانگ رہے تھے۔ اللہ فرماتا ہے وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے تیری جنت مانگ رہے تھے۔ وہ (اللہ) فرماتا ہے کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں نہیں اے میرے رب! اللہ فرماتا ہے کیا حال ہو اگر وہ میری جنت دیکھ لیں۔ وہ عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔ وہ (اللہ) فرماتا ہے وہ کس چیز سے پناہ چاہتے ہیں۔ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں یا رب! تیری آگ سے۔ اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں نہیں۔ وہ (اللہ) فرماتا ہے کیا حال ہو اگر وہ میری آگ دیکھ لیں۔ تب وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ حضورؐ فرماتے ہیں پھر اللہ فرماتا ہے میں نے انہیں بخش دیا اور جو انہوں نے مانگا میں نے انہیں عطا کیا اور جس چیز سے انہوں نے پناہ طلب کی میں نے انہیں پناہ دی۔ حضورﷺ فرماتے ہیں اس پر وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں یارب! ان میں فلاں سخت خطاکار شخص بھی تھا جو وہاں سے گذرا تو ان کے پاس بیٹھ گیا۔ آپؐ نے فرمایا وہ (اللہ) فرمائے گا میں نے اسے بھی بخش دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں ان کی بدولت ان کے پاس بیٹھنے والا بے نصیب نہیں رہتا۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! کس کے پاس بیٹھنا بہتر ہے آپﷺ نے فرمایا ایسے شخص کے پاس بیٹھنا مفید ہے جس کو دیکھنے کی وجہ سے تمہیں خدا یاد آجائے۔ جس کی باتوں سے تمہارے علم میں اضافہ ہو اور جس کے عمل کو دیکھ کر تمہیں آخرت کا خیال آئے۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر ہر صبح صدقہ ہے۔ پس ہر تسبیح صدقہ ہے اور ہر تحمید صدقہ ہے اور ہر تہلیل صدقہ ہے اور ہر تکبیر صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور ناپسندیدہ بات سے روکنا صدقہ ہے اور جو چاشت کی دو رکعت پڑھ لے وہ ان سے کفایت کر جائیں گی۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے میں بندے کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہوں۔ جس وقت بندہ مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کروں گا۔ اور اگر وہ میرا ذکر محفل میں کرے گا تو میں اس بندے کا ذکر اس سے بہتر محفل میں کروں گا۔ اگر وہ میری جانب ایک بالشت بھر آئے گا تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ جاؤں گا۔ اگر میری طرف وہ ایک ہاتھ آئے گا تو میں اس کی طرف دو ہاتھ جاؤں گا۔ اگر وہ میری طرف چل کر آئے گا تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاؤں گا۔
حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ ایک گھاٹی میں گئے ـــــ یا کہا پہاڑ کے موڑ میں ـــــ (راوی نے) کہا جب اس کی بلندی پر پہنچے تو ایک آدمی نے پکارا اور اس نے اپنی آواز کو بلند کیا۔ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اور رسول اللہ ﷺ اس وقت اپنی خچر پر سوار تھے۔ آپؐ نے فرمایا تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے ہو اور نہ کسی غیر حاضر کو۔ پھر فرمایا اے ابوموسیٰ کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کا خزانہ ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں ضرور بتلائیں؟ آپ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ (بدیوں سے بچنے کی طاقت نہیں اور نیکیوں کے کرنے کی قدرت نہیں مگر اللہ ہی کی مدد سے)۔
حضرت عبداللہ بن حبیبؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک بارش اور سخت تاریک رات میں نکلے۔ ہم رسول اللہﷺ کو تلاش کر رہے تھے تاکہ آپؐ ہمیں نماز پڑھائیں۔ پس ہم نے آپؐ کو پا لیا۔ آپؐ نے فرمایا کہو۔ میں نے کچھ نہ کہا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہو۔ میں نے پھر کچھ نہ کہا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہو۔ میں نے عرض کیا میں کیا کہوں؟ یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا تم سورۃ اخلاص اور بعد کی دو سورتیں صبح و شام تین بار پڑھا کرو۔ یہ تجھے ہر چیز سے بے نیاز کر دے گا۔