بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 28 hadith
حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا اے لوگو! آہستہ آرام سے! تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں بلا رہے۔ یقیناً خوب سننے والے کو جو بہت قریب ہے کو بلا رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔ وہ (حضرت ابو موسیٰ ؓ ) کہتے ہیں میں آپؐ کے پیچھے تھا میں کہہ رہا تھا اللہ کے سوا نہ کسی کو طاقت ہے اور نہ قوّت ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اے عبداللہ ؓ بن قیس! کیا میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے بارہ میں نہ بتاؤں۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ پڑھا کرو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے پس (اس میں) کثرت سے دعا کیا کرو۔
حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بڑا حیا والا، بڑا کریم اور سخی ہے۔ جب بندہ اس کے حضور اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتا ہے تو وہ ان کو خالی اور ناکام واپس کرنے سے شرماتا ہے۔
حضرت مالک بن یسارؓ السکونی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم اللہ سے دعا مانگو تو ہتھیلیوں کے اندرونی حصہ سے مانگو اور ان کی پشت کے ذریعہ نہ مانگو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تکالیف کے وقت اس کی دعاؤں کو قبول کرے تو اسے چاہیے کہ وہ فراخی اور آرام کے وقت بکثرت دعا کرے۔
حضرت ابوہریرۃ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارا رب ہر رات قریبی آسمان تک نزول فرماتا ہے جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کو جواب دوں! کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اس کو دوں! کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اس کو بخش دوں!۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (1) دیواروں کو مت ڈھانپو (2) جس نے اپنے بھائی کے خط پر نظر ڈالی بغیر اس کی اجازت کے تو وہ آگ میں نظر ڈال رہا ہے (3) اللہ سے مانگو اپنی ہتھیلیوں کے اندرونی حصہ کے ذریعہ اور ان کی پشت کے ذریعہ نہ مانگو اور جب تم فارغ ہو تو ان کو اپنے چہروں پر پھیر لیا کرو۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے کاتب،،وَراد،، کہتے ہیں امیر معاویہؓ نے حضرت مغیرہؓ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی بات لکھیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ وہ کہتے ہیں اس پر انہوں نے انہیں لکھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پورا کرنے کے بعد یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں بادشاہت اسی کی ہے تمام تعریف بھی اسی کے لئے ہے اور وہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جو تو عطاء فرمائے وہ کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے، وہ کوئی عطاء نہیں کرسکتا اور کسی شان والے کو اس کی شان تیرے مقابلہ میں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
حضرت عثمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص روزانہ صبح و شام تین بار یہ دعا مانگتا ہے کہ میں اس اللہ تعالیٰ کے نام کی مدد چاہتا ہوں جس کے نام کے ہوتے ہوئے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، وہ دعاؤں کو سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب کبھی کسی مجلس سے اٹھتے تو اپنے اصحاب کے لیے یہ دعا کرتے ’’اے میرے اللہ! تو ہمیں اپنا خوف عطا کر جسے تو ہمارے اور گناہوں کے درمیان روک بنا دے اور ہم سے تیری نافرمانی سرزد نہ ہو اور ہمیں اطاعت کا وہ مقام عطا کر جس کی وجہ سے تو ہمیں جنت میں پہنچا دے اور اتنا یقین بخش کہ جس کی وجہ سے دنیا کے مصائب تو ہم پر آسان کر دے۔ اے میرے اللہ! ہمیں اپنے کانوں، اپنی آنکھوں اور اپنی طاقتوں سے زندگی بھر صحیح صحیح فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ اور ہمیں اس بھلائی کا وارث بنا۔ اور جو ہم پر ظلم کرے اس سے تو ہمارا انتقام لے۔ جو ہم سے دشمنی رکھتا ہے اس کے برخلاف ہماری مدد فرما۔ اور دین میں کسی ابتلا کے آنے سے بچا۔ اور ایسا کر کہ دنیا ہمارا سب سے بڑا غم اور فکر نہ ہو اور نہ یہ دنیا ہمارا مبلغ علم ہو (یعنی ہمارے علم کی پہنچ صرف دنیا تک ہی محدود نہ ہو)۔ اور ایسے شخص کو ہم پر مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے اور مہربانی سے پیش نہ آئے‘‘۔