بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 28 hadith
حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ جب میرے گھر سے نکلتے تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے اور یہ دعا کرتے ’’اے میرے اللہ! میں گمراہ ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اسی طرح گمراہ کیے جانے سے بھی۔ پھسلنے اور پھسلائے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ظالم اور مظلوم بننے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے بھی کہ میں کسی سے جہالت سے پیش آؤں اور اس پر زیادتی کروں یا مجھ سے ایسا ناروا سلوک کیا جائے‘‘۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی اپنے گھر سے نکلے تو کہے ’’اللہ کے نام کے ساتھ (شروع کرتا ہوں) میں اللہ پر ہی توکل کرتا ہوں، اللہ کے سوا نہ (برائی) ہٹانے کی طاقت اور نہ (بھلائی) دینے کی قوت ہے‘‘۔
حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ عمرہ کے لئے میں نے آنحضرتﷺ سے اجازت چاہی۔ آپﷺ نے فرمایا میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں شامل رکھنا اور ہمیں بھول نہ جانا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین دعائیں بلا شک قبول ہوتی ہیں۔ مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور باپ کی بیٹے کے متعلق دعا۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آندھی چلتی تو نبی ﷺ کہتے اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی چاہتا ہوں اور اس کی خیر جو اس میں ہے اور وہ خیر جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اور میں تجھ سے اس کے شرّ سے پناہ چاہتا ہوں اور اس کے شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آندھی کو دیکھتے تو یوں دعا کرتے ’’اے میرے خدا! تجھ سے اس آندھی کی خیر چاہتا ہوں اور وہ بھلائی چاہتا ہوں جو اس میں ہے اور جس کے لئے اسے بھیجا گیا ہے۔ اور میں تجھ سے اس آندھی کے شر سے پناہ چاہتا ہوں اور اس نقصان سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں مخفی ہے اور جن شر انگیز اور نقصان دہ حالات کے لئے اسے بھیجا گیا ہے ان سے بھی پناہ چاہتا ہوں‘‘۔
حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ عمرہ کے لئے میں نے نبی ﷺ سے اجازت چاہی۔ آپ ﷺ نے اجازت مرحمت فرمائی اور ساتھ ہی فرمایا میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھول نہ جانا۔ اور بعد میں فرمایا میرے بھائی! اپنی دعاؤں میں ہمیں بھی شریک کرنا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے حضور ﷺ کی اس بات سے (کہ ’’اے میرے بھائی‘‘) مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس کے بدلے میں مجھے ساری دنیا مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہو۔