بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
محمدبن جبیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منٰی کی ایک وادی میں کھڑے ہوئے اور آپؐ نے فرمایا اللہ سر سبز و شاداب رکھے اُس انسان کو جس نے میری بات سنی اور اُس کو آگے پہنچایا۔بہت سے سمجھ کی بات لینے والے خود سمجھ دار نہیں ہوتے اور بہت سے سمجھ کی بات دوسرے تک پہنچانے والے ہیںجو اُن سے زیادہ سمجھ دار ہیں۔
حضرت معاویہ قشیری ؓنے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا سنو! جو حاضر ہے وہ غائب کو بات پہنچا دے۔
حضرت ابو درداء ؓ نے بیان کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عالِم کے لئے جو آسمانوںمیں اور زمین میں ہیں استغفار کرتے ہیں، یہاں تک کہ سمندر میں مچھلیاں بھی۔
حضرت معاذ ؓ بن انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے کوئی علم سکھایا ، اُس کے لئے اس کااجر بھی ہے جس نے اس پر عمل کیا اور عمل کرنے والے کے اجر میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوتا۔
حضرت عبدالرحمن بن عبد اللہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ سر سبز و شاداب رکھے اُس شخص کو جس نے ہم سے حدیث سنی اور اُسے آگے پہنچایا ،کیونکہ بہت سے وہ لوگ جنہیں بات پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ۔
حضرت ابی بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن خطبہ ارشاد فرمایاآپؐ نے فرمایا جو حاضر ہیں وہ غائب کو پہنچا دیں، کیونکہ بہت سے ایسے ہیں جن تک بات پہنچائی جائے وہ بات سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ۔
حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں جو حاضر ہے وہ اس کو پہنچا دے جو تم میں غیر حاضر ہے ۔
حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اُس بندے کو سرسبز و شاداب کرے جس نے میری بات سنی اور اسے یاد رکھا پھر میری طرف سے اسے آگے پہنچایا۔کیونکہ بہت سے سمجھ کی بات کو لینے والے سمجھ دار نہیں ہوتے اور بہت سے سمجھ کی بات پہنچانے والے اس تک پہنچاتے ہیں جو اس سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے۔
حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایایقینا لوگوں میں سے بعض خیر کو کھولنے والے ہوتے ہیں اور شر کو بند کرنے والے ہوتے ہیں اور لوگوں میں سے بعض شرکو کھولنے والے ہوتے ہیں اور خیر کو بند کرنے والے ہوتے ہیں۔ مبارکی ہواس انسان کے لئے جس کے ہاتھوں پر اللہ نے خیر کی کنجیاں رکھ دیں اور ہلاکت ہے اُس کے لئے جس کے ہاتھوں پر اللہ نے شر کی کنجیاں رکھ دیں ۔
حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا یقینا اِس خیر کے کئی خزانے ہیں اور اِن خزانوں کے لئے کُنجیاں ہیں ، مبارکی ہے اُس (بندہ) کے لئے جسے اللہ نے خیر کی کُنجی اور شر کو بند کرنے والا بنایا اور ہلاکت ہے اُس (بندہ) کے لئے جسے اللہ نے شر کو کھولنے والا اور خیر کو بند کرنے والا بنایا ۔