بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کہاکرتے تھے اَللّٰہُمَّ انْفَعْنِيْ بِمَا عَلَّمْتَنِيْ وَعَلِّمْنِيْ مَا یَنْفَعُنِيْ وَزِدْنِيْ عِلْمًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلَی کُلِّ حَالٍ اے اللہ! مجھے اُس علم سے نفع عطا کر جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے وہ علم سکھا جو مجھے نفع دے اور مجھے علم میں بڑھا اورہر حال میں اللہ کے لئے حمد ہے ۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے کم عقل لوگوں سے بحث کرنے یا علماء پر فخر کرنے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے علم حاصل کیا ، وہ آگ میں ہے ۔
حضرت حذیفہؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ جس نے علم سیکھا تاکہ علماء پر فخر کرے اور نادانوں سے بحث میں مقابلہ کرے،اوراس کے ذریعہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف پھیرے ، اللہ تعالیٰ اُسے جہنم میں داخل کرے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے وہ علم حاصل کیا جس سے اللہ کی رضا چاہی جاتی ہے مگر اُس نے اُسے نہیں سیکھا سوائے اس کے کہ اس کے ذریعہ کوئی دنیا کا سامان پائے وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہ پائے گا ۔ عَرف کے معنے خوشبو کے ہیں۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا علم اس غرض کے لئے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعہ علماء پر فخر کرو اور نہ اس لئے کہ اس کے ذریعہ نادانوں سے بحث کرو اورنہ اس کے ذریعہ مجالس میں فضیلت چاہو۔ جس نے ایسا کیا تو آگ ہے آگ ہے ۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ دین میں تفقّہ حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے پھر کہیں گے کہ ہم حاکموں کے پاس جاتے ہیں اور ان کی دنیا میں سے کچھ حصہ پائیں گے اوراپنے دین میں ان سے الگ رہیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکے گا جیسے کیکر کے درخت سے سوائے کانٹوں کے کچھ نہیں چنا جاتا اسی طرح ان کے قرب سے کوئی (پھل) نہیں چنا جاتا سوائے _محمد بن صباح نے کہا_ گویا آپؐ کی مُراد خطاؤں سے تھی۔
حضرت ابو ہریر ہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جُبُّ الحُزنسے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے عرض کیا کہجُبُّ الحُزن کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ جہنم میں ایک وادی ہے۔ جہنم اس سے ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔انہوں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! اس میں کون داخل ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ایسے قرآن پڑھنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اپنے اعمال میں ریاکاری کرتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ قرآن پڑھنے والے وہ ہیں جو حکام سے میل جول رکھتے ہیں۔ (راوی) محاربی کہتے ہیں کہ ظالم اُمراء مراد ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیںکہ اگر اہل علم نے علم کی حفاظت کی ہوتی اوراس کو اُس کے اہل کے پاس رکھا ہوتا تو اس کے ذریعہ سے اپنے زمانے والوں پر سردار بن جاتے لیکن انہوں نے اس کو دنیا والوں کے لئے استعمال کیا تاکہ اُن کی دنیا سے کچھ حاصل کرلیں۔ پس وہ اُن کے سامنے ذلیل ہوگئے ، میں نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس نے تمام غموں کا ایک غم بنا لیا ، یعنی آخرت کا غم ، تو اللہ اُس کی دنیا کے غموں کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور جسے احوال دنیا کی فکروں نے پریشان کیا۔ اللہ اُس کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی وادیوں میں سے کس(وادی )میں ہلاک ہو۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے علم حاصل کیا غیر اللہ کے لئے یافرمایااس کے ذریعہ غیر اللہ کو چاہا ، وہ اپنی جگہ جہنم میں بنالے۔