بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو ڈھیلے سے استنجاء کرے، اسے چاہیے کہ طاق لے ، جس نے ایسا کیا بہت اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں،جس نے (دانتوں میں) خلال کیا چاہیے کہ تھوک دے اور جواسے چبائے، اُسے نگل جاوے ۔ جس نے ایسا کیا بہت اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ۔ جو قضائے حاجت کے لئے جائے، توپردہ کرے۔ اگر کوئی ریت کے ڈھیر کے سواکچھ نہ پائے تو اُس سے مدد لے کیونکہ شیطان ابن آدم کی مقعدوں کو ضرر دیتا ہے ۔ جس نے ایسا کیا اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں۔
ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جو سرمہ لگائے ، طاق مرتبہ لگائے ، جس نے ایسا کیا بہت اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں۔ اورجو کچھ چبائے تووہ نگل لے۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو قضائے حاجت کے وقت پردے کے لئے اونچی جگہ یا کھجوروں کے گھنے جھنڈ سب سے زیادہ پسند تھے۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاتم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں ہر گز پیشاب نہ کرے ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی پینے کے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے ۔
حضرت یعلی بن مرہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا ۔ آپؐ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھے کہا کہ اُن دو کھجور کے درختوں کے پاس جاؤ-وکیع نے کہا کہ یعنی دو کھجور کے چھوٹے درخت- اور ان دونوں کوکہو کہ رسول اللہ ﷺ حکم دیتے ہیں کہ تم دونوں ایک جگہ اکٹھے ہوجاؤ ۔ پس وہ ایک جگہ اکٹھے ہوگئے ، آپؐ نے ان کے ذریعہ اپنے آپ کو چھپایا اور قضائے حاجت کی۔ پھرمجھے فرمایا ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے کہو کہ تم میں سے ہرایک اپنی جگہ پر لوٹ جائے ۔ میں نے ان دونوں کو کہا پس وہ دونوں لوٹ گئے ۔
حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ رستہ چھوڑ کرایک گھاٹی کی طرف مُڑگئے اور پیشاب کیا اورآپ کے دونوں پاؤں کو کشادہ کرنے کی وجہ سے جب آپؐ نے پیشاب کیامجھے آپؐ کے لئے فکر ہونے لگا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا دو افراد آپس میں قضائے حاجت کے وقت باتیں نہ کریں کہ اُن دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو بغیر لباس کے دیکھ رہا ہو ۔ اس بات کو اللہ عزّ وجل سخت ناپسند فرماتا ہے۔
حضرت عبد الرحمن بن حسنہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور آپؐ کے ہاتھ میں ایک چمڑے کی ڈھال تھی، آپؐ نے اسے رکھ دیا ۔ (اور پھر اُس کی اوٹ میں ) بیٹھ کر پیشاب کیا ۔کسی نے کہا کہ آپ ؐ کو دیکھو ، پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے۔ اس بات کو نبی ﷺ نے سن لیا اور فرمایاتجھ پر افسوس، کیا تمہیں معلوم نہیں جوبنی اسرائیل میں ایک شخص کو تکلیف پہنچی تھی۔جب اُن (کے کپڑے) کو پیشاب لگ جاتا تو اُسے قینچیوں سے کتر دیتے تھے۔ اس شخص نے اُن کو اس سے منع کردیا۔ پس اس کو قبرمیں عذاب دیا گیا ۔