بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 39 hadith
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اورنماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو۔جب سورج ڈھل گیا تو آپؐ نے بلال ؓ کو اذان دینے کا ارشاد فرمایا۔ اُنہوں نے اذان دی ۔ پھر آپؐ نے انہیں (بلالؓ ) ارشاد فرمایا۔ اُنہوں نے نمازِظہر کے لئے اقامت کہی ۔ پھر آپؐ نے انہیں (بلالؓ) ارشاد فرمایا۔اُنہوں نے عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج بلندصاف روشن تھا ۔ پھر آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایاتو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی جب سورج غروب ہوا ۔پھر آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایاتو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جبکہ شفق غائب ہو گئی تھی۔پھر آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایاتو انہوں نے فجر کے لئے اقامت کہی جب فجر طلوع ہوئی۔ پھر جب دوسرا دِن ہوا آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایاتو انہوں نے ظہر کی اذان دی اور اسے (ظُہر کو) ٹھنڈا کیا اور خوب ٹھنڈا کیا۔ پھر آپؐ نے عصرپڑھی جبکہ سورج بلند تھا لیکن (پہلے روز سے) تاخیر کر کے پڑھی۔پھر شفق کے غائب ہونے سے پہلے مغرب پڑھی اور رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے کے بعد آپؐ نے عشاء پڑھی۔پھر آپؐ نے خوب روشن کرکے فجر پڑھی۔پھر آپؐ نے فرمایا وہ نماز کے وقت کے بارہ میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس پر اُس آدمی نے عرض کیا میں ہوں، یا رسولؐ اللہ! فرمایاتمہاری نمازوں کے اوقات جو تم نے دیکھا ان کے درمیان ہیں۔
حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ مؤمن عورتیں صبح کی نمازنبی ﷺ کے ساتھ پڑھاکرتی تھیں ۔ پھر اپنے گھروں کو واپس آتیں اور کوئی انہیں پہچان نہ سکتا تھا آپؓ کی مراد جُھٹ پُٹا سے تھی۔
حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ
حضرت جابر بن سَمُرَہ ؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺ ظہر کی نماز اُس وقت پڑھتے تھے ، جب سورج ڈھل جاتا ۔
حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ دوپہر کی نماز_جسے تم ظہر کہتے ہو _ (اس وقت) پڑھتے تھے جب کہ سورج ڈھل جاتا ۔
حضر ت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میںگرمی کی شدّت کی شکایت کی تو آپؐ نے ہمارا شکوہ قبول نہ فرمایا۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ وہ حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کے گدیلے پر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ وہ مدینہ کے امیر تھے اور اُن کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے۔حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے نماز عصر کی ادائیگی میں کچھ تاخیر کردی ۔ اس پرعُروہ نے اُنہیں کہا دیکھیں! حضرت جبریل ؑ اترے اور رسول اللہ ﷺ کے امام کے طور پر نماز پڑھی ۔ حضرت عمر (بن عبد العزیزؒ) نے اُن سے کہا اے عروہ! تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابو مسعود ؓ کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت جبریل ؑ اترے اور مجھے نماز پڑھائی ۔ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی،پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر نماز پڑھی،پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی،اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کا حساب کر رہے تھے ۔
حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کی آیت وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْہُوْدًا٭کے بارہ میں فرمایا کہ اس وقت دن اور رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ ٭ ترجمہ: اور فجر کی تلاوت کو اہمیت دے۔ یقینا فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اُس کی گواہی دی جاتی ہے۔(بنی اسرائیل:79)
مُغیث بن سُمَی نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے ساتھ فجر کی نمازجُھٹ پُٹے میں ادا کی پھر جب انہوں نے سلام پھیرا، میں حضرت ابن عمرؓ کی طرف متوجہ ہوا اورمیں نے کہا یہ کیا نماز ہے ؟انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ یہی ہماری نماز تھی۔جب حضرت عمرؓ زخمی کئے گئے توحضرت عثمان ؓ اس(فجر)کوخوب روشن کر کے پڑھنے لگے۔
حضرت خبابؓنے بیان کیاکہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میںگرمی کی شدّت کی شکایت کی تو آپؐ نے ہمارا شکوہ قبول نہ فرمایا۔