بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 53 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے کوئی قسم کھائی پھر اس نے کوئی دوسری چیز کو بہتر جانا وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ (کام) کرلے۔
حضرت عدیؓ بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قسم، حلف لینے والے کی نیت کے مطابق ہوگی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے قسم کھائی پھر اس نے دوسری چیزکو بہتر جانا تووہ اس کو بجا لائے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ ایک اور روایت میں (وَلْیُکَفِّرْْ عَنْ یَمِیْنِہِکی بجائے) فَلْیُکَفِّرْ یَمِیْنَہُ وَلْیَفْعَلِ الَّذِیْ ہُوَ خَیْرٌ کے الفاظ ہیں۔ یعنی اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کرے جو زیادہ بہتر ہے۔
تمیم بن طَرَفَہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک سائل حضرت عدیؓ بن حاتم کے پاس آیا اور خادم کی قیمت(ادا کرنے) کے لئے ان سے خرچ مانگا یا خادم کی قیمت کا کچھ حصہ۔ انہوں نے کہا میرے پاس تو کچھ نہیں جو میں تمہیں دوں سوائے میری زرہ اور میرے خَود کے۔ میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں کہ وہ تمہیں وہ رقم دے دیں۔ راوی کہتے ہیں وہ راضی نہ ہو ا۔ حضرت عدیؓ ناراض ہوگئے اور کہا اللہ کی قسم میں تمہیں کچھ نہ دوں گا۔ پھر وہ شخص(اسی پر) راضی ہوگیا تو (حضرت عدیؓ ) نے کہاسنو! اللہ کی قسم اگر میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ جو قسم کھائے پھر اس سے زیادہ اللہ کے تقویٰ کی بات دیکھے تو وہ تقویٰ والی بات کرے_ تو میں اپنی قسم نہ توڑتا۔
حضرت عدیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی قسم کھائے پھر اس سے بہتر بات دیکھے تو اس(قسم) کا کفارہ دے اور وہ کرلے جو بہتر ہو۔
تمیم بن طَرَفَہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عدیؓ بن حاتم سے سنا جبکہ ان کے پاس ایک شخص سو درہم مانگنے آیا۔ انہوں نے کہا تم مجھ سے(صِرف) سو درہم مانگتے ہو اور میں حاتم (طائی) کا بیٹا ہوں۔ اللہ کی قسم میں تمہیں نہ دوں گا پھر وہ کہنے لگے اگر میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ جو شخص کسی بات پر قسم کھائے پھر اس سے بہتربات دیکھے تو وہ کرے جو بہتر ہے۔ ایک اور روایت میں (وَاَتَاہُ رَجُلٌ یَسْئَلُ کی بجائے) اِنَّ رَجُلًا سَأَلَہُ کے الفاظ ہیں۔ یہ اضافہ بھی ہے کہ یہ چار سو تمہارے لئے میرا عطیہ ہیں۔
حضرت عبد الرحمان بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اے عبد الرحمان بن سمرہ! (کبھی) امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تجھے مانگنے پریہ (امارت) دی گئی تو تمہیں اس کا ذمہ دار قرا ر دیا جا ئے گا اور اگر بن مانگے یہ تمہیں دی گئی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم قسم کھاؤ پھردوسری بات اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کرلو جو بہتر ہے۔ ایک اور روایت میں اَلْاِمَارَۃ کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ کی ساٹھ بیویاں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج رات میں ضروران کے پاس جاؤں گا پھر ان میں سے ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک شہ سوار لڑکاجنے گی جو اللہ کی راہ میں جنگ کرے گا۔ مگر ان عورتوں میں سے سوائے ایک کے کوئی حاملہ نہ ہوئی۔ اور اس نے بھی آدھے انسان کو جنم دیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر سلیمان استثناء کرتے(یعنی انشاء اللہ کہتے) تو ضرور ہر عورت شہ سوار لڑکا خدا کی راہ میں لڑنے والا جنتی۔