سوید بن مقرِّن سے روایت ہے کہ ان کی ایک باندی کو کسی شخص نے تھپڑ مارا اسے سویدنے کہا کیا تمہیں پتہ نہیں کہ چہرہ قابلِ احترام ہے۔ پھر انہوں نے بیان کیا مجھے یاد ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں مَیں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا اور ہمارا ایک ہی خادم تھا ہم میں سے ایک نے اسے تھپڑ ماردیا۔ رسول اللہﷺ نے ہمیں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم اس (غلام) کو آزاد کر دیں۔
حضرت ابو مسعود ؓ بدری کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو دُرہ سے ماررہا تھا میں نے پیچھے سے آواز سُنی۔ ابو مسعود جان لو۔ میں غصہ کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا۔ وہ کہتے ہیں جب آپؐ میرے قریب آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ ہیں۔ آپؐ فرما رہے تھے جان لو اے ابو مسعود !جان لو اے ابو مسعود! میں نے ہاتھ سے دُرّہ پھینک دیا۔ آپؐ نے فرمایا جان لو ابو مسعود !اللہ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر(رکھتے ہو)۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہاکہ اس کے بعد کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ درّہ میرے ہاتھ سے آپﷺ کے رُعب کی وجہ سے گر گیا۔
حضرت ابو مسعود ؓ انصاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کوماررہا تھا میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی ابو مسعود! جان لو یقینا اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر(رکھتے ہو) میں مُڑا تو رسول للہﷺ تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ خدا کی خاطر آ زاد ہے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو آگ تمہیں جھلس دیتی یا فرمایا آگ تمہیں چھو تی۔
بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
حضرت ابو مسعودؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے غلام کوماررہے تھے وہ کہنے لگا میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں وہ پھر اسے مارنے لگے۔ اس نے پھر کہامیں اللہ کے رسولؐ کی پناہ میں آتا ہوں تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا خدا کی قسم! اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر رکھتے ہو۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابو مسعودؓ نے اسے آزاد کر دیا۔ ایک اور روایت میں اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَعُوْذُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِﷺ کے الفاظ نہیں ہیں۔
بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِهِمَا سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم نَبِيَّ التَّوْبَةِ .
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو القاسمﷺ نے فرمایا جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی قیامت کے دن اس پر حد قائم کی جائے گی سوائے اس کے کہ وہ (غلام) ایسا ہی ہو جیسا کہ اس نے کہا۔
ایک اور روایت میں سَمِعْتُ اَبَا الْقَاسِمِﷺ نَبِیَّ التَّوْبَہِ کے الفاظ ہیں۔
معرور بن سُوید کہتے ہیں ہم ربذہ میں حضرت ابو ذرؓ کے پاس سے گذرے۔ ان پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام پر بھی ویسی ہی چادر تھی۔ ہم نے کہا اے ابو ذر! اگر آپ دونوں چادروں کو جمع کرتے تو ایک جوڑا بن جاتا۔ انہوں نے کہا میرے اور میرے بھائیوں میں سے ایک شخص کے درمیان اختلاف ہو گیا اس کی ماں عجمی تھی میں نے اسے اس کی ماں کا طعنہ دیا۔ اس نے میری شکایت نبیﷺ کے پاس کردی میں نبیﷺ سے ملا تو آپؐ نے فرمایا اے ابوذر تم ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت پائی جاتی ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! جو لوگوں کو گالی دیتا ہے، لوگ اس کے باپ اور ماں کو گالی دیتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اے ابو ذر! تم ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت ہے۔ یہ(غلام) تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔ پس جو تم کھاتے ہو اس میں سے انہیں (بھی) کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو اس میں سے انہیں (بھی) پہناؤ اور انہیں اس کام کا بوجھ نہ ڈالو جوانہیں مغلوب کردے اور اگرتم ان پر بوجھ ڈالو توخود) ان کی مدد کرو۔
ایک اور روایت میں اِنَّکَ امْرُؤٌفِیْکَ جَاھِلِیَّۃٌ کے بعد یہ اضافہ ہے کہ مَیں نے عرض کیا میری بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود! آپؐ نے فرمایا ہاں۔
ایک اور روایت میں ہے آپﷺ نے فرمایا ہاں بڑھاپے کی تمہاری اِس گھڑی کے باوجود۔
ایک اور روایت میں (فَاِنْ کَلَّفْتُمُوْھُمْ فَاَعِیْنُوْھُمْ کی بجائے) فَاِنْ کَلَّفَہُ مَایَغْلِبُہُ فَلْیُعِنْہکے الفاظ ہیں۔
ایک اور روایت میں فَلْیَبِعْہُ (اسے فروخت کرو) کی بجائے فَلْیُعِنْہُ عَلَیْہِ (اس کی اس کام میں مدد کرے)کے الفاظ ہیں۔
اور ایک اور روایت میں نہ توفَلْیَبِعْہکے الفاظ ہیں اور نہ ہی فَلْیُعِنْہُکے الفاظ ہیں بلکہ روایت کے آخر میں الفاظ یہ ہیں وَلَا یُکَلِّفْہُ مَا یَغْلِبُہُ۔
وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلاَمِهِ مِثْلُهَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَذَكَرَ أَنَّهُ سَابَّ رَجُلاً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَيَّرَهُ بِأُمِّهِ - قَالَ - فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
معرور بن سُوید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذرؓ کو دیکھا۔ انہوں نے ایک جوڑا پہن رکھا تھا اور ان کے غلام نے بھی ویسا ہی پہنا ہوا تھا۔ میں نے اس بارہ میں ان سے سوال کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں انہوں نے ایک شخص کو گالی دی اور اس کی ماں کا اسے طعنہ دیا۔ وہ کہتے ہیں وہ شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے اس بات کا ذکر کیا۔ نبیﷺ نے(مجھے) فرمایا تم ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت ہے۔ (یہ تمہارے خادم) تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے کاموں کا خیال رکھنے والے ہیں اور انہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کیا ہے۔ پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو چاہئے کہ وہ جو خود کھائے اس میں سے اسے کھلائے اور جو خود پہنے اسے پہنائے ان کی طاقت سے بڑھ کر ان پر ذمہ داری نہ ڈالو اور اگر ان پر کوئی ایسا بوجھ ڈال دو تو اس پر ان کی مدد کرو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے لئے اس کا خادم کھانا تیار کرے۔ اور وہ اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کی گرمی اور دھوئیں سے تکلیف اٹھائی ہے تو چاہئے کہ وہ اسے اپنے پاس بٹھائے اور وہ بھی کھا ناکھا ئے۔ اگر کھانے والے زیادہ ہوں اور کھاناتھوڑا ہو تو چاہئے کہ اس میں سے ایک یا دو لقمے اس کو دے دے۔ راوی داؤد کہتے ہیں یعنی ایک یا دو نوالے۔