بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 116 hadith
حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رافع ؓ نے ہمیں اپنی زمین سے فائدہ اُٹھانے سے روک دیا۔
حنظلہ بن قیس نے حضرت رافعؓ بن خدیج سے زمین ٹھیکہ پر دینے کے بارہ میں پوچھا۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ
نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمرؓ اپنے کھیت رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ٹھیکہ پر دے دیتے تھے اور حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت اور امیر معاویہ کے ابتدائی دور تک۔ یہانتک کہ ان کو امیرمعاویہ کے دور حکومت کے آخری حصّہ میں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج ؓ اس بارہ میں رسول اللہﷺ کی طرف سے ممانعت کی روایت کررہے ہیں۔ وہ ان کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے حضرت رافع ؓ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہﷺ کھیت ٹھیکے پر دینے سے منع فرماتے تھے۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے اسے چھوڑ دیااور جب اس کے بعد آپ سے اس بارہ میں سوال کیا جاتا تھا تو آپ فرماتے تھے حضرت رافع بن خدیجؓ کا خیال ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے اس کے بعد یہ طریق چھوڑ دیا اور وہ زمین ٹھیکہ پر نہ دیتے تھے۔
نافع کہتے ہیں میں حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج ؓ کے پاس گیا اور وہ ان کے پاس بلاط٭مقام پر آئے تو انہوں نے انہیں (حضرت ابن عمرؓ )کو بتایا کہ رسول اللہﷺ نے کھیتوں کوکرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ زمین اجرت پر دیتے تھے پھر آپ کو حضرت رافع بن خدیج ؓ سے ایک روایت بتائی گئی۔ وہ مجھے ساتھ لے کر ان کے پاس گئے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے اپنے کسی چچا کی طرف سے اس بارہ میں روایت بیان کی کہ نبیﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا تھا۔ نافع کہتے ہیں پھر حضرت ابن عمرؓ نے یہ طریق چھوڑ دیا اور کرایہ پر زمین نہیں دی۔
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنی زمینیں ٹھیکہ پر دیا کرتے تھے یہانتک کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج ؓ انصاری زمین ٹھیکے پر دینے سے منع کرتے ہیں۔ اس پر حضرت عبداللہؓ ان سے ملے اور کہا اے ابن خدیجؓ ! آپ رسول اللہﷺ سے زمین ٹھیکہ پر دینے کے بارہ میں کیاروایت کرتے ہیں؟ حضرت رافع بن خدیج ؓ نے حضرت عبداللہؓ سے کہا میں نے اپنے دو چچوں سے سنا اور وہ دونوں بدر میں شامل ہوئے تھے وہ اپنے اہلِ محلہ کو بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے زمین ٹھیکے پر دینے سے منع فرمایا تھا۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا میں تو رسول اللہﷺ کے زمانہ میں سمجھتا تھا کہ زمین ٹھیکہ پر دی جا سکتی ہے۔ پھر حضرت عبداللہؓ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں رسول اللہﷺ نے اس بارہ میں کوئی نیا حکم نہ دیا ہو جس کاآپ کو پتہ نہ چلا ہو۔ چنانچہ انہوں نے زمین ٹھیکہ پر دینی چھوڑ دی۔
حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے زمانہ میں زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے اور ہم تہائی یا چوتھائی حصہ (پیداوار) اور غلے کی معیّن مقدارکے بدلے ٹھیکہ پر دیتے تھے۔ پھر ایک روز ہمارے چچوں میں سے ایک شخص آیا اور اس نے کہا ہمیں رسول اللہﷺ نے ایک کام سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لئے نفع بخش تھا مگر اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت ہمارے لئے زیادہ فائد ہ مند ہے۔ آپؐ نے ہمیں منع فرما دیا ہے کہ ہم زمین ٹھیکہ پر دیں اور تہائی حصہ یا چوتھائی حصہ پیداوار اور معیّن غلّہ کی مقدار بطورٹھیکہ لیں۔ اور آپؐ نے زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود کاشت کرے یا کاشت کروائے اور زمین کا ٹھیکہ لینا وغیرہ کو ناپسند فرمایا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم زمین ٹھیکہ پر دیتے تھے اور تہائی یا چوتھائی حصہ پیداوار ٹھیکہ وصول کرتے تھے۔ ایک اور روایت میں عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِہِکے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت رافع بن خدیج ؓ کے آزاد کردہ غلام ابو النجاشی حضرت رافعؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ظُہیرؓ بن رافع اُن کے چچا تھے۔ رافع ؓ نے کہا کہ میرے پاس حضرت ظُہیرؓ آئے اور کہا کہ رسول اللہﷺ نے ایک ایسی بات سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لئے آرام دہ تھی۔ میں نے کہا وہ کون سی بات ہے جو رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے وہی برحق ہے۔ وہ کہنے لگے کہ مجھ سے آپؐ نے پوچھا کہ تم اپنے کھیتوں کے بارہ میں کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا ہم ان کو اجرت پر دیتے ہیں یا رسو لؐ اللہ! کھال (کے قریب ہونے والی پیداوار)یا کچھ وسق کھجوریا جو کے بدلے۔ آپؐ نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو۔ زمین خود کاشت کیا کرو یا کاشت کرواؤیا اسے روک رکھو۔ ایک اور روایت میں راوی نے ان کے چچا حضرت ظُہیرؓ کا ذکر نہیں کیا
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے حضرت رافع بن خدیج ؓ سے سونے اور چاندی کے عوض زمین ٹھیکہ پر دینے کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا اس میں حرج نہیں۔ اصل میں لوگ نبیﷺ کے زمانہ میں نہروں (کے کناروں پر ہونے والی پیداوار) پر اور پانی کے نالوں کے سامنے یا زرعی اشیاء کے بدلے ٹھیکے پر دیتے تھے۔ کبھی یہ ہلاک ہوجاتا اور وہ سلامت رہتا اور کبھی یہ سلامت رہتا اور وہ ہلاک ہوجاتا۔ اسی وجہ سے انہیں اس بارہ میں تنبیہ کی گئی باقی اگر معیّن نقد ضمانت شدہ چیز ہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔ لوگوں کا ٹھیکہ پر دینے کا اس کے سواکوئی طریق نہ تھا۔
حنظلہ زُرقی نے حضرت رافع بن خدیج ؓ کو کہتے سنا کہ ہم انصار میں سے سب سے زیادہ کھیتوں والے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم زمین ٹھیکہ پر دیتے تھے کہ ہمارے لئے یہ حصہ(زمین) اور ان کے لئے یہ حصہ ہوگا۔ بسا اوقات ایک حصہ سے پیدا وار ہوتی اور دوسرے سے نہیں ہوتی تھی تو آپ(ﷺ ) نے ہمیں اس سے منع فرمادیا۔ باقی چاندی وغیرہ (پر ٹھیکہ) سے آپ نے ہمیں نہیں روکا۔