بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت رافع ؓ بن خدیج کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سناکہ بخار جہنم کا ایک جوش ہے۔ پس تم اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔
حضرت رافع ؓ بن خدیج کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سناکہ بخار جہنم کے جوش میں سے ہے پس تم اسے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کر کے اپنے آپ سے دور کرو۔ ایک اور روایت میں عَنْکُمْ کے الفاظ نہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کی بیماری کی حالت میں آپؐ کے منہ میں دوائی ڈالی۔ آپؐ اشارہ سے منع فرماتے تھے۔ ہم نے کہا مریض تو دوا کو ناپسندکرتا ہی ہے۔ جب آپؐ کو افاقہ ہوا توآپؐ نے فرمایا سوائے عباسؓ کے تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ شامل نہ تھا۔
حضرت ام قیسؓ بنت محصن جو حضرت عکاشہؓ کی بہن تھیں۔ وہ کہتی ہیں میں اپنے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا لے کر رسول اللہﷺ کے پاس آئی۔ اس نے آپؐ پر پیشاب کردیا۔ آپؐ نے پانی منگوایا اور اُسے چھڑکا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں آپؐ کے پاس اپنے بچے کو لے کر گئی۔ میں نے اس کے منہ میں انگلی ڈال کر تالوکے ورم کی وجہ سے اُسے دبایا۔ آپؐ نے فرمایا اپنے بچوں کاتالو اس ورم کی وجہ سے کیوں دباتی ہو؟تم عود ہندی کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔ ان میں سے ایک ذات الجنب بھی ہے۔ یہ عذرۃ (ورم)میں ناک میں ڈالی جاتی ہے اور ذات الجنب میں منہ میں ڈالی جاتی ہے۔
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام قیسؓ بنت محصن جو اُن اولین مہاجر عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کی بیعت کی اور وہ حضرت عکاشہؓ بن محصن کی بہن تھیں۔ جن کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئیں جوکھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا اور اس نے اس کے منہ میں انگلی ڈال کر تالو کے ورم کی وجہ سے دبایا تھا_یونس کہتے ہیں أَعْلَقَتْ کا مطلب ہے غَمَزَتْ یعنی دبایا اور ان کو ڈر تھا کہ اسے تالو کا ورم نہ ہو_وہ کہتی ہیں اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اپنے بچوں کا گلا اس ورم کی وجہ سے کیوں دباتی ہو۔ تم عود ہندی استعمال کرو_آپؐ کی مراد اس سے قسط تھی_کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔ ان میں سے ایک ذات الجنب بھی ہے۔ عبیداللہ کہتے ہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے اس بیٹے نے رسول اللہﷺ کی گود میں پیشاب کردیا تو رسول اللہﷺ نے پانی منگوایا اور اس کے پیشاب پر ڈالامگر اسے(مَل مَل کر) دھویا نہیں۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمان اور سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کہ کالے دانے میں ہر بیماری کی شفا ہے سوائے سام کے_ اور سام موت کو کہتے ہیں _ اور کالے دانے سے مراد شُونیز(کلونجی)ہے۔ ایک اور روایت میں کالے دانے کا ذکرہے اور شُونیز کا ذکر نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا سوائے موت کے کالے دانے میں ہر بیماری کے لئے شفاء ہے۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ کے متعلق روایت ہے کہ جب ان کے خاندان میں کوئی فوت ہوتا تو عورتیں اس موقعہ پر اکٹھی ہوتیں پھر چلی جاتیں سوائے ان کے گھر والوں اور خاص لوگوں کے تو آپؓ ایک ہانڈی میں تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیتیں۔ وہ پکایا جاتا پھرثرید تیار کیا جاتا اور تلبینہ اس پر انڈیلا جاتا۔ آپؓ فرماتیں اس میں سے کھاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تلبینہ بیمار کے دل کو فرحت بخشتا ہے اور غم کوکچھ کم کردیتا ہے۔
حضرت ابو سعیدؓ خدری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو اسہال کی تکلیف ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ۔ اس نے اسے پلایا۔ پھر آپؐ کے پاس آیا اور کہا میں نے اسے شہد پلایا ہے مگراس سے اس کے اسہال اور زیادہ ہو گئے ہیں۔ آپؐ نے اسے (وہی بات)تین مرتبہ کہی۔ پھر وہ چوتھی مرتبہ آیا تو فرمایا اسے شہد پلاؤ۔ اس نے عرض کیا میں نے اسے پلایا ہے لیکن اس نے اس کے اسہال اور بڑھا دیئے ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ نے سچ فرمایا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ اس نے اسے (اور) شہد پلایا تو وہ تندرست ہو گیا۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا میرے بھائی کا پیٹ خراب ہو گیا ہے تو آپؐ نے اسے فرمایا اسے شہد پلاؤ۔ایک اور روایت میں (جَائَکی بجائے) أَتَی کے الفاظ اور (اسْتَطْلَقَ کی بجائے) عَرِبَ یعنی خراب ہو گیا اور (فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِﷺ کی بجائے) فَقَالَ لَہُ اسْقِہِ عَسَلًا کے الفاظ ہیں۔
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زیدؓ سے پوچھا کہ آپؓ نے طاعون کے بارہ میں رسول اللہﷺ سے کیاسنا ہے؟ حضرت اسامہؓ نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے طاعون رِجْزیا فرمایا عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا فرمایاتم سے پہلے لوگوں پر بھیجاگیا تھا۔ جب تم اس کے متعلق سنو کہ وہ کسی علاقہ میں ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب وہ اس جگہ پھوٹ پڑے جہاں تم رہ رہے ہو تو اس سے بھاگنے کے لئے(وہاں سے) نہ نکلو۔ایک اور روایت میں (فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْہُ کی بجائے) لَا یُخْرِجُکُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْہُ کے الفاظ ہیں۔