وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ - قَالَ - فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلاَّ نَمْلَةً وَاحِدَةً .
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ انبیا ء میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے تو انہیں ایک چیونٹی نے کاٹا۔ انہوں نے اپنے سامان کے بارے میں ارشاد فرمایاتو وہ اس درخت کے نیچے سے نکال لیا گیا۔ پھر انہوں نے ان (چیونٹیوں ) کے بارہ میں ارشاد فرمایا تو ان کو آگ میں جلادیا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کیوں نہ صرف ایک چیونٹی کو۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے (بلی)کو قید کر دیا یہانتک کہ وہ مرگئی۔ اس وجہ سے وہ آگ میں داخل ہوئی۔ اس نے نہ اس کو جب اس نے اسے قید کیا کھانا ڈالا اور نہ پانی پلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالے۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ جسے نہ اس نے کھانا دیا نہ پانی اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھائے۔ ایک اور روایت میں (حَبَسَتْہَاکی بجائے) رَبَطَتْہَا کے الفاظ ہیں اور (خَشَاشِ الْأَرْضِ کی بجائے) حَشَرَاتِ الْأَرْضِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا۔ اسے شدید پیاس لگی اس نے ایک کنواں پایا وہ اس میں اترا اور پانی پیا۔ پھر وہ باہر نکلاتو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا زبان نکالے ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس آدمی نے کہا اس کتے کو بھی ویسے ہی پیاس لگی ہے جیسی مجھے لگی تھی۔ اس پر وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے کو پانی سے بھرا۔ پھر اسے اپنے منہ میں پکڑا یہاں تک کہ اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی قدر کی اور اسے بخش دیا۔ انہوں (صحابہؓ ) نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ !کیا ہمارے لئے ان جانوروں میں بھی اجر ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہر جاندار میں اجر ہے۔
نے فرمایا کہ ایک بدکار عورت نے ایک شدیدگرم دن ایک کتے کو کنویں کے گرد چکر لگاتے دیکھا۔ جس نے پیاس کی وجہ سے زبان نکالی ہوئی تھی۔ اس عورت نے اس کے لئے اپنے جوتے سے (پانی) نکالا(اور اسے پلایا) تو اسے بخش دیا گیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اس دوران کہ ایک کتا ایک کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھااور قریب تھا کہ پیاس اسے ہلاک کر دے کہ اُسے بنی اسرائیل کی فاحشہ عورتوں میں سے ایک عورت نے دیکھا۔ اس نے اپنا جوتا اتارا اور اس سے اس کے لئے پانی نکالا اور اُسے یہ (پانی)پلایا تو اسے اس وجہ سے بخش دیا گیا۔