بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 32 hadith
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ ایک لڑکی کو اس حال میں پایا گیا کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا تھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟کیا فلاں نے؟یہانتک کہ انہوں نے ایک یہودی کا ذکر کیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں ) وہ یہودی پکڑا گیا تو اس نے اقرار کر لیا۔ رسول اللہﷺ نے اس کے بارہ میں حکم دیاکہ اس کا سر پتھر سے کچلا جائے۔
حضرت عمرانؓ بن حُصین سے روایت ہے کہ یعلی بن مُنْیَہ یا ابن اُمَیَّہ ایک شخص سے لڑ پڑا۔ اُن میں سے ایک نے دوسرے (کے ہاتھ پر) کاٹا۔ اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا اگلا دانت ٹوٹ گیا۔ راوی ابن مثنیٰ کہتے ہیں کہ اس کے اگلے دو دانت ٹوٹ گئے وہ دو نوں نبیﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گئے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم میں سے ایک شخص اس طرح کاٹتا ہے جیسا کہ ایک سانڈ کاٹتا ہے! اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔
حضرت عمرانؓ بن حصین سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کے بازوپر کاٹ لیا۔ اس نے اسے کھینچا توپہلے کا اگلادانت گر گیا۔ معاملہ نبیﷺ کے پاس پیش ہوا۔ آپؐ نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا اور فر مایا کیا تم چاہتے تھے کہ اس کا گوشت کھا جاؤ!
حضرت صفوان بن یعلیؓ سے روایت ہے کہ حضرت یعلیؓ بن منیہ کے مزدور نے کسی شخص کا بازو کاٹ کھایا۔ اس نے(اپنا بازو) کھینچا تواس (مزدور کا) اگلا دانت گر گیا۔ معاملہ نبیﷺ کی خدمت میں پیش ہوا۔ آپؐ نے اس کی دیت باطل قرار دے دی اور فرمایا تم یہ چاہتے تھے کہ تم اس (کے بازو) کو چباؤ جیسا کہ سانڈچباتا ہے۔
حضرت عمرانؓ بن حصین سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ لیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تواس(شخص) کا اگلا دانت یا اگلے دو دانت گر گئے اس نے نبیﷺ سے مدد چاہی رسول اللہﷺ نے فرمایا تم مجھے کیاکہتے ہو تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑ دے تاکہ تم اسے ایسے چباؤ جیسے نر اونٹ چباتا ہے۔ تم اپنا ہاتھ اس کے آگے رکھو تاکہ وہ اسے چبائے پھر تم اسے کھینچ لو۔
حضرت صفوان بن یعلیؓ بن منیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ نبیﷺ کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹ لیا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے اگلے دو دانت گر گئے یعنی (اس شخص کے) جس نے اُسے کاٹا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا اور فرمایا تم چاہتے تھے کہ تم اسے چباؤ جیسا کہ نراونٹ چباتا ہے۔
حضرت صفوان بن یعلیؓ بن امیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نبیﷺ کے ساتھ غزوئہ تبوک میں شامل ہوا۔ راوی کہتے ہیں یعلیؓ کہتے تھے یہ غزوہ میرے نزدیک میرے پختہ ترین اعمال میں سے ہے۔ یعلیؓ کہتے ہیں میرا ایک مزدور تھا۔ اس کی ایک شخص سے لڑائی ہوگئی اور ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا مجھے صفوان نے بتایا تھا کہ ان دونوں میں سے جس نے دوسرے کا ہاتھ کاٹا تھا تو جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچ لیا اور اس کے اگلے دو دانتوں میں سے ایک دانت باہر نکل آیا۔ وہ دونوں نبیﷺ کے پاس آئے۔ آپؐ نے اس کے دانت کی دیت باطل قرار دی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضرت رُبَیّع ؓ کی بہن حضرت ام حارثہؓ نے ایک شخص کو زخمی کر دیا۔ وہ نبیﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گئے۔ نبیﷺ نے فرمایا قصاص، قصاص۔ حضرت رَبِیع ؓ کی ماں نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا اللہ کی قسم! اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا نبیﷺ نے فرمایا سبحان اللہ اے ام ّربیع ؓ قصاص اللہ کا قانون ہے۔ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم! اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ اسی طرح کہتی رہیں یہانتک کہ دوسرے (فریق کے لوگوں ) نے دیت کو قبول کر لیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ پر اگر قسم کھائیں تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے پورا کر دیتا ہے۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مسلمان شخص کا خون جو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں جائز نہیں ہے سوائے تین باتوں میں سے ایک کے۔ شادی شدہ زناکار اور جان کے بدلے جان اور اپنے دین کو چھوڑنے والا جوجماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والاہو۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا اس کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ایک مسلمان شخص کا خون جائز نہیں جو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسولؐ ہوں سوائے تین افراد کے، اسلام کو چھوڑنے والا جو جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا ہواور شادی شدہ زنا کاراور جان کے بدلے جان٭۔ راوی احمد کو اس میں شک ہے کہ المُفَارِق لِلْجَمَاعَۃِ فرمایا تھا یا المُفَارِق الْجَمَاعَۃَ فرمایا تھا۔