بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابن عمرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ (باتوں ) پر رکھی گئی ہے یہ کہ اللہ کو واحد قرار دیا جائے اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔ اس پر ایک شخص بولا حج اور رمضان کے روزے۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا نہیں رمضان کے روزے اور حج۔ میں نے رسول اللہﷺ سے اسی طرح سنا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی
حضرت عبداللہ(بن عمرؓ ) کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ (باتوں ) پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے کہا آپ جنگ میں نہیں جائیں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے آپؐ فرماتے تھے کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے۔ اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج بیت اللہ کرنا۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارا تعلق ربیعہ قبیلہ سے ہے اور ہمارے اور آپؐ کے درمیان مضر(قبیلہ) کے کفار حائل ہیں اور ہم آپؐ تک صرف حرمت والے مہینہ میں ہی آ سکتے ہیں۔ اس لئے ہمیں کوئی ایسا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور جو ہمارے پیچھے ہیں ان کوبھی اس کی دعوت دیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں۔ (سب سے پہلے تو) اللہ پر ایمان ہے پھر آپؐ نے ان سے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور یہ کہ تم جو مال غنیمت حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمہیں دُبّاء (کدو کے برتن) حنتم (روغنی گھڑے)نقیر (لکڑی کے برتن)اور مقیّر (تارکول لگائے ہوئے برتن) سے روکتا ہوں ٭۔ خلف نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کی گواہی کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہﷺ نے انگلی سے ایک کا اشارہ کیا۔
ابو جمرہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباسؓ او ر لوگوں کے درمیان ترجمان تھا۔ ایک عورت ان کے پاس آئی جو گھڑے کی نبیذ کے بارہ میں پوچھتی تھی۔ اس پر انہوں (حضرت ابن عباسؓ ) نے کہا عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کے پاس آیا۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا کون سا وفد یا کون سی قوم ہے؟ انہوں نے کہا: ربیعہ۔ آپؐ نے فرمایا: قوم کو خوش آمدیدیا یہ فرمایا: وفد کو خوش آمدید، نہ رسوا ہوں گے اور نہ شرمندہ۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم آپؐ کے پاس دور دراز سے سفر کر کے آتے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپؐ کے پاس حرمت والے مہینہ کے سوا نہیں آسکتے اس لئے آپؐ ہمیں اصولی باتوں سے مطلع فرمائیں جو ہم اپنے پچھلوں کو بھی بتائیں اور ان کے ذریعہ ہم جنت میں داخل ہوں۔ وہ کہتے ہیں اس پرآپؐ نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے روکا۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے ان کو اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا جو ایک ہے پھر پوچھا کیا تم جانتے ہواللہ پر ایمان کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃدینااور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت میں سے پانچواں حصہ دو اور آپؐ نے انہیں دباء، حنتم اور مزفت (تارکول لگے ہوئے برتن) سے روکا اور شعبہ کہتے ہیں کہ راوی بسااوقات نقیر اور بسا اوقات مقیر کہتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ان باتوں کو یاد رکھو اور جو تمہارے پیچھے ہیں ان کو بھی بتاؤ۔ ابو بکر کی روایت میں مِنْ وَرَائِ کُم ْکی بجائے مَنْ وَرَائَ کُمْ کے لفظ ہیں۔ اور اس میں المُقَیِّرُ کا لفظ نہیں ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے دوسری روایت میں مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو دباء، نقیر، حنتم اور مزفت میں بنائی جائے۔ ابن معاذ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے جو انہوں نے اپنے باپ سے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عبد القیس کے اشجّ٭ سے فرمایاکہ تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ بہت پسند کرتا ہے۔ حلم اور ٹھہراؤ۔
قتادہ کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آنے والے عبدالقیس کے وفد سے ملے تھے انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے اور حضرت ابوسعید خدریؓ کی اس روایت میں ہے کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور کہا یا نبی اللہ! ہم ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں اور ہمارے اور آپؐ کے درمیان مضر قبیلہ کے کفار حائل ہیں اور ہم آپؐ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آسکتے ہیں۔ اس لئے آپؐ ہمیں حکم دیں جو ہم پچھلوں کو بھی بتائیں اور اس پر عمل کر کے اس کے ذریعہ جنت میں داخل ہوں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایامیں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں اللہ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤاور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھواور غنیمتوں میں سے پانچواں حصہ دو اور میں تمہیں چار چیزوں یعنی دباء، حنتم، مزفت اور نقیر سے منع کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! نقیر کے بارے میں کیا آپؐ کو علم ہے؟ فرمایا: کیوں نہیں، یہ تنا ہوتا ہے جسے تم کھرچ ڈالتے ہو، پھر اس میں قطیعاء(ایک قسم کی کھجور) ڈالتے ہو۔ سعید کہتے ہیں یا فرمایاخشک کھجور ڈالتے ہو، پھر تم اس میں کچھ پانی ڈالتے ہویہاں تک کہ جب اس کا جوش تھم جاتا ہے تو تم اسے پیتے ہو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی یا ان میں سے کوئی اپنے چچا زاد پر تلوار چلاتا ہے۔ راوی نے کہا ان لوگوں میں سے ایک کو ایسا ہی زخم پہنچا ہوا تھا۔ اس نے کہا میں اس زخم کو رسول اللہﷺ سے شرم کی وجہ سے چھپا رہا تھا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! پھر ہم کس میں پئیں؟ فرمایا چمڑے کے مشکیزوں میں جن کا منہ باندھا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یا نبی اللہ ! ہمارے علاقہ میں چوہے بہت ہوتے ہیں اور اس میں چمڑے کے مشکیزے محفوظ نہیں رہتے تو نبی اللہﷺ نے فرمایا اگرچہ انہیں چوہے کھا جائیں، اگرچہ انہیں چوہے کھا جائیں، اگرچہ انہیں چوہے کھا جائیں۔ پھر نبی اللہﷺ نے عبدا لقیس کے اشجّ سے فرمایا تجھ میں دو باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے ایک حلم دوسرا ٹھہراؤ۔ ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کی ہے کہ جب عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے ابن عُلَیّہ والی روایت سنائی سوائے اس کے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ تم اس میں قطیعاء(کھجور کی قسم) یا خشک کھجور اور پانی ڈالتے ہو، اوریہ نہیں کہا کہ سعیدنے کہایا آپؐ نے فرمایا ’’مِنَ التَّمَرِ‘‘یعنی خشک کھجور۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کاوفد جب اللہ کے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی!اللہ ہمیں آپؐ پر فدا کرے۔ ہمارے لئے کون سے مشروبات اچھے اور مناسب ہیں؟ آپؐ نے فرمایا نقیر میں کچھ نہ پؤ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ ہمیں آپؐ پر فدا کرے۔ کیا آپؐ جانتے ہیں کہ نقیر کیا ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں، تنے کو درمیان سے کھوکھلا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دباء اور حنتم میں بھی نہ پیؤ۔ ایسے مشکیزوں میں پیؤ جن کا منہ باندھا گیاہو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے مجھے بھیجا اور فرمایا تم اہل کتاب کی ایک قوم کی طرف جا رہے ہو، ان کواس شہادت کی طرف بلاؤ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسولؐ ہوں۔ اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ یہ بھی تسلیم کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر صدقہ٭ فرض کیا ہے جو ان کے امیروں سے لیا جائے گا اور ان کے غرباء کو دیا جائے گا۔ اگر وہ یہ بات تسلیم کر لیں تو ان کے عمدہ اموال لینے سے بچنااور مظلوم کی (بد)دعا سے ڈر کر رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں ہے۔ ابو عاصم کی حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو یمن بھیجا اور فرمایا تم ایک قوم کے پاس جار ہے ہو۔ باقی روایت وکیع کی طرح ہے۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جب حضرت معاذ ؓ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا تم ایک قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب ہے، تو چاہیے کہ پہلی چیز جس کی طرف تم انہیں بلاؤ، وہ اللہ عزوجل کی عبادت ہے۔ جب وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پردن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس پر کاربند ہو جائیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے امیروں سے لی جاتی ہے اور ان کے غریبوں کو دی جاتی ہے۔ جب وہ یہ بات مان لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا مگر ان کے عمدہ اموال سے بچنا۔