بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی اور آپؐ کے بعد حضرت ابو بکرؓ خلیفہ ہوئے اور عربوں میں سے جس نے کفر کرناتھا کفرکیاتوحضرت عمر بن خطابؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا آپؓ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایاہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کریں اور جو شخص لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرے گا وہ مجھ سے اپنا مال اور جان بچا لے گا سوائے کسی حق کی بناء پر اور اس کاحساب اللہ کے ذمّہ ہے تو حضرت ابو بکرؓ نے کہا اللہ کی قسم! جو بھی نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے اور اللہ کی قسم اور اگر انہوں نے مجھے ایک گھٹنا باندھنے والی رسی دینے سے بھی انکار کیا جو وہ رسول اللہﷺ کو دیتے تھے تو اس کے نہ دینے پر بھی ان سے لڑوں گا۔ حضرت عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم !پھر میں نے دیکھا کہ اللہ نے حضرت ابو بکرؓ کا لڑائی کے لئے سینہ کھول دیا ہے اور میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیں اور جو شخص لا الٰہ الا اللہ کااقرار کرے گا وہ مجھ سے اپنا مال اور جان محفوظ کر لے گا سوائے کسی حق کی بنا ء پر اور اس کا حساب اللہ کے ذمّہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دیں اور مجھ پر اور اس پر جو میں لایا ہوں ایمان لائیں۔ جب وہ ایسا کریں تو وہ مجھ سے اپنے خون اور اموال بچا لیں گے سوائے کسی حق کی بناء کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں۔ ابن المسیّب کی روایت کے مطابق حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کریں۔ جب وہ لا الٰہ الا اللہ کہیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اموال بچا لیں گے سوائے کسی حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ۔ تُو توصرف نصیحت کرنے والا ہے۔ تُو ان پر دارو غہ نہیں۔ (الغاشیہ: 22، 23)
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو مجھ سے اپنے خون اور اپنے اموال بچا لیں گے۔ سوائے کسی حق کی بناء کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
ابو مالک اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور ان چیزوں کا انکار کیا جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے اس کا مال اور خون حرام ہو گیااور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ ابو مالک اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ کو فرماتے سنا جس نے اللہ کو واحد قرار دیا۔ اس کے بعد وہی روایت ہے۔
سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہﷺ ان کے پاس گئے تو اُن کے پاس ابو جہل، عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے میرے چچا ! لا الٰہ الا اللہ کہہ دیں، یہ ایک کلمہ ہے جس کے ذریعہ سے میں اللہ کے پاس آپ کے لئے اس کی گواہی دوں گا۔ ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: اے ابو طالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے ہٹ رہے ہو۔ اور رسول اللہﷺ ان کویہی بات پیش کرتے رہے اور دہراتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے ان سے آخری بات یہ کہی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں اور لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: بخدا میں آپ کے لئے استغفار کروں گا جب تک آپ کے متعلق مجھے روکا نہیں جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ) نبی کے لئے ممکن نہیں اور نہ ہی ان کے لئے جوایمان لائے ہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے مغفرت طلب کریں خواہ وہ (ان کے) قریبی ہی کیوں نہ ہوں بعد اس کے کہ اُن پر روشن ہو چکا ہو کہ وہ جہنمی ہیں۔ (التوبۃ: 113) پھراللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے بارہ میں یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہﷺ کو فرمایا(ترجمہ) یقینا تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتا لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دے سکتا ہے اور وہ ہدایت پانے کے اہل لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ (القصص: 57) زہری نے اسی اسناد کے ساتھ یہی روایت کی ہے مگر صالح کی روایت فَاَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ کے قول پر ختم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے دونوں آیات کا ذکر نہیں کیا اور معمر کی روایت میں اس کلمہ کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ وہ دونوں ان کے ساتھ لگے رہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے چچا کی وفات کے وقت اُن سے فرمایا لا الٰہ الا اللہ کہہ دو، میں قیامت کے دن تمہارے حق میں اس کی گواہی دوں گا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی٭(ترجمہ) یقینا تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتا۔ (القصص: 57)
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے چچاسے فرمایالا الٰہ الا اللہ کہہ دو، مَیں قیامت کے دن آپ کے حق میں اس کی گواہی دوں گا۔ انہوں نے کہا اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش مجھے مطعون کریں گے اور کہیں گے کہ گھبراہٹ نے اسے یہ کہنے پر اکسایا ہے تو میں یہ کہہ کر تیری آنکھیں ٹھنڈی کرتا ٭اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی (ترجمہ) یقینا تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتا لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دے سکتاہے۔ (القصص: 57)
حضرت عثمانؓ نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا جو اس حال میں مرا کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ولید ابو بشرسے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حمران کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عثمانؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو بالکل اس جیسی بات کہتے ہوئے سنا۔