بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لئے مانگی اور میں نے اپنی دعا قیامت کے دن امت کی شفاعت کے لئے محفوظ کررکھی ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں ہر نبی کی ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لئے مانگی اور میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپؐ نے فرمایا آگ میں ہے۔ جب وہ واپس جانے لگا تو آپؐ نے اسے بلایا اور فرمایا میراباپ اور تیرا باپ آگ میں ہے۔ ٭
حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن العاص سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے حضرت ابراہیمؑ کے بارہ میں اللہ عزوجل کے اس ارشاد کی تلاوت کی۔ {رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ} الآیۃ۔ یعنی: اے میرے رب! انہوں نے یقینا لوگوں میں سے بہتوں کوگمراہ بنا دیا۔ پس جس نے میری پیروی کی تو وہ یقینا مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا تو بہت بخشنے والا اور بار باررحم کرنے والا ہے (ابراہیم: 37)اور حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا {اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ} (ترجمہ)اگر تو انہیں عذاب دے توآخر یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو یقینا تو کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔ (المائدہ: 119) پھر آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا اے اللہ! میری امت، میری امت۔ اور آپؐ رو پڑے تو اللہ عزوجل نے فرمایا اے جبریل محمدؐ کے پاس جاؤ اور تیرا رب زیادہ جانتا ہے اور ان سے پوچھو کہ آپؐ کو کیا چیز رُلا رہی ہے؟ جبریل علیہ السلام آپؐ کے پاس آئے اور آپؐ سے پوچھا تو رسول اللہﷺ نے انہیں بتایا جو انہو ں نے پوچھا تھا اور وہ زیادہ جانتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے کہااے جبریل محمدؐ کے پاس جاؤ اور کہو ہم تیری امت کے بارہ میں تجھے ضرور خوش کردیں گے اور تمہیں دکھ نہیں دیں گے۔
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی{ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 215)تو رسول اللہﷺ نے قریش کو بلایااور وہ جمع ہوئے۔ آپؐ نے عمومی طور پر بھی انذار کیااور مخصوص افراد کو بھی۔ آپؐ نے فرمایا اے بنی کعب بن لؤی !اپنی جانوں کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنی مرہ بن کعب!اپنی جانوں کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنی عبدشمس!اپنی جانوں کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنی عبدِ مناف!اپنی جانوں کو آگ سے بچاؤ اے بنی ہاشم!اپنی جانوں کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنی عبدِ المطلب !اپنی جانوں کو آگ سے بچاؤ۔ اے فاطمہ! اپنی جان کو آگ سے بچاکیونکہ میں اللہ کے مقابلہ پر تمہارے لئے کوئی اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ تمہارے ساتھ رحمی تعلق ہے جس کے حقوق میں ادا کرتا رہوں گا۔ عبدالملک سے بھی یہ روایت مروی ہے مگر جریرکی روایت زیادہ مکمل اور سیر حاصل ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب آیت {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 215)نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ صفا(پہاڑی)پر کھڑے ہوئے او ر فرمایا اے فاطمہؓ بنتِ محمدؐ ! اے صفیہؓ بنت عبدالمطلب ! اے بنی عبدِ المطلب ! مَیں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے لئے کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ مجھ سے میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب آیت {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 215)آپؐ پرنازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اے قریش کے گروہ! اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لو۔ مَیں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ اے بنی عبدالمطلب! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کام نہیں آسکتا۔ اے صفیہؓ رسول اللہﷺ کی پھوپھی! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہاری کوئی مددنہیں کر سکتا۔ اے اللہ کے رسولؐ کی بیٹی فاطمہؓ ! مجھ سے جو چاہو مانگ لو۔ میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔
قبیصہ بن مخارق اور زہیر بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت{ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 215) نازل ہوئی تو اللہ کے نبیﷺ پہاڑ کی ایک بڑی چٹان کی طرف گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھر پر چڑھے۔ پھر یہ نداء دی اے بنی عبدِ مناف! میں یقینا ایک ڈرانے والا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا اور اپنے اہل کی حفاظت کے لئے چلا مگر وہ ڈرا کہ دشمن اس سے پہلے اس (کے اہل) تک پہنچ جائیں گے تو وہ آوازیں دینے لگا یا صباحاہ
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ جب آیت {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 215)نازل ہوئی یعنی اپنے قبیلہ میں سے چنیدہ کو تو رسول اللہﷺ نکلے اور صفا پر چڑھے اور پکارا یا صباحاہ ! لوگوں نے کہا یہ کون ہے جو پکار رہا ہے۔ دوسروں نے کہا یہ محمدؐ ہے۔ چنانچہ لوگ آپؐ کے پاس جمع ہو گئے۔ آپؐ نے فرمایا: اے بنی فلاں ! اے بنی فلاں ! اے بنی فلاں !اے بنی عبدِ مناف! اے بنی عبدالمطلب! یہ سارے لوگ جمع ہوگئے تو آپؐ نے فرمایا تمہار اکیا خیال ہے اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں گھوڑسوار دستہ حملہ کرے گا تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ انہوں نے کہا: ہم نے تمہیں کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا تو آپؐ نے فرمایا مَیں تمہیں ایک شدید عذاب سے پہلے ہوشیار کرتا ہوں۔ راوی کہتے صرف اس لئے جمع کیا تھا؟ اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ سورۃ نازل ہوئی تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَتَبَّ۔ (اللھب: 2) اعمش نے اس طرح آخر سورۃ تک پڑھا۔ رسول اللہﷺ ایک دن صفا پر چڑھ گئے اور آوازدی یا صباحاہ۔ راوی نے ابو اسامہ کی روایت کی طرح روایت کی مگر آیت {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء: 215)کے نزول کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت عباسؓ بن عبد المطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپؐ نے ابو طالب کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا ہے۔ وہ آپؐ کی حفاظت کرتے تھے اور آپؐ کی خاطر دوسروں پرناراض٭ہوتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں وہ ٹخنوں تک آگ میں ہیں اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے نچلے حصہ میں ہوتے۔