بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب شام کرتے تو کہتے أَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ اَللَّہُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ وَخَیْرِ مَا فِیْھَاوَأَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ ھَا وَشَرِّ مَا فِیْہَا اَللَّہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَسُوْئِ الْکِبَرِوَفِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبْرِہم نے شام کی اور ساری بادشاہت اللہ کے لئے ہوگئی۔ تمام حمد اللہ ہی کے لئے ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اے اللہ !میں تجھ سے اس رات کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور جو اس میں ہے اس کی بھلائی بھی اور میں اس (رات) کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے سستی اور انتہائی بڑھاپے کی تکلیف اور دنیا کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ایک اور روایت میں ہے جسے حضرت عبداللہؓ نے مرفوع بیان کیا کہ آپؐ نے فرمایا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌکہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے، تمام حمد اسی کے لئے ہے اور وہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا کہو اَللَّہُمَّ اھْدِنِی وَسَدِّدْنِیْ اے اللہ! مجھے ہدایت دے اور مجھے سیدھا کردے _اور یاد رکھ کہ ہدایت سے مراد تیرا رستہ پالینا ہے اور ’’سداد‘‘ سے مراد تیر کی طرح سیدھا ہونا ہے_ایک اور روایت میں (اَللَّہُمَّ اھْدِنِیْ وَسَدِّدْنِیْ کی بجائے) اَللَّہُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُکَ الْھُدَی وَالسَّدَادَ کے الفاظ ہیں کہ اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت مانگتا ہوں اور سداد مانگتا ہوں۔
حضرت جویریہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبیﷺ ان کے پاس سے صبح(کے وقت) _جب آپؐ نے صبح کی نماز پڑھی _باہر تشریف لے گئے جبکہ وہ ابھی اپنی مسجد میں موجود تھیں۔ پھر آپؐ واپس چاشت کا وقت ہو جانے کے بعد تشریف لائے تو وہ(وہیں ) بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم اسی حال میں ہو جس میں میں تمہیں چھوڑ گیا تھا۔ انہوں نے عرض کیاجی ہاں۔ اس پرنبیﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے (پاس سے جانے کے) بعد چار کلمات تین مرتبہ کہے ہیں اگرمیرے ان کلمات کا ان سے وزن کیا جائے جو آج تم نے کہا تو وہ ضرور بھاری ہوں گے (وہ کلمات یہ ہیں ) پا ک ہے اللہ اور اپنی حمد کے ساتھ، اپنی مخلوق کی تعداد کے برابرجیسے وہ چاہے اور اپنے عرش کے وزن کے برابر اور اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر۔ حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام المؤمنین جویریہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ اس وقت آپؓ کے پاس سے گذرے جب آپؓ نے صبح کی نماز پڑھی یا صبح کی نماز پڑھ لینے کے بعد۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے مگر آپؐ نے فرمایا پاک ہے اللہ اپنی مخلوق کی تعداد کے مطابق۔ پاک ہے جیسے وہ چاہے۔ پاک ہے اللہ اپنے عرش کے وزن کے برابر، پاک ہے اللہ اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر۔
حضرت علیؓ نے بیان فرمایاکہ حضرت فاطمہؓ نے چکی چلانے سے اپنے ہاتھ میں تکلیف کی شکایت کی اور نبیﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے تھے تو وہ (حضورؐ کی طرف) گئیں اور آپؐ کو نہ پایا۔ آپؓ حضرت عائشہؓ سے ملیں اور (ان کو) بتایا۔ جب نبیﷺ تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے حضرت فاطمہؓ کے اپنے ہاں آنے کا بتایا۔ (حضرت علیؓ کہتے ہیں ) تونبیﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ ہم کھڑے ہونے لگے تو آپؐ نے فرمایاکہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو۔ پھر آپؐ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہانتک کہ میں نے آپؐ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینہ پر محسوس کی۔ آپؐ نے فرمایا کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر بات نہ بتاؤں جو تم نے مانگا ہے وہ یہ ہے کہ جب تم دونوں اپنے بستروں پر لیٹو توچونتیس 34 مرتبہ اللہ اکبر کہو، تنتیس 33دفعہ سبحان اللہ کہو اور تنتیس 33دفعہ الحمدللہ کہو۔ یہ تم دونوں کے لئے خادم سے زیادہ بہتر ہے۔ ایک روایت میں (أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَکُمکی بجائے) أَخَذْتُمَا مَضْجِعَکُمْ مِنَ اللَّیْلِ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا میں نے اس بات کو جب سے نبیﷺ سے سنا ہے کبھی نہیں چھوڑا۔ آپؓ سے پوچھا گیاصفین والی رات بھی نہیں؟ آپؓ نے کہا صفین والی رات نہیں بھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہؓ نبیﷺ کی خدمت میں آپؐ سے خادم مانگنے کے لئے حاضر ہوئیں اور کام کی شکایت کی تو آپؐ نے فرمایا تم اس (خادم)کو ہمارے پاس نہیں پاؤگی۔ آپؐ نے فرمایا کیا میں تجھے ایسی بات نہ بتاؤں جو تیرے لئے خادم سے بہتر ہے۔ تم اپنے بستر پر جاتے ہوئے تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہو اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہو اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر کہو۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ کرب کے وقت کہا کرتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو بڑی عظمت والا اور بڑا برد بار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو آسمانوں کا بھی رب ہے اور زمین کا بھی رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔ ایک روایت میں (أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِﷺ کی بجائے) أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِﷺ کَانَ یَدْعُوْابِھِنَّ وَیَقُوْلُھُنَّ عِنْدَ الْکَرْبِ اور اس روایت میں (رَبِّ الْاَرْضِکی بجائے) وَالْاَرْضِ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ أَنَّ النَّبِیَّﷺ کَانَ اِذَا حَزَبَہُ أَمْرٌکہ جب آپؐ کو تکلیف دہ بات پہنچتی اور اس روایت میں یہ اضافہ ہے آپؐ کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو عرش کریم کا رب ہے۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیاکون سا کلام افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا جو اللہ نے اپنے فرشتوں یا اپنے بندوں کے لئے چنا ہے سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ۔
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں اللہ کا سب سے پیارا کلام نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے وہ کلام بتائیے جو اللہ کو محبوب ترین ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اللہ کو سب سے محبوب کلام سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ہے۔