بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 130 hadith
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ اور حضرت جابرؓ بن عبداللہ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں متعہ کے بارہ میں اجازت دی۔
عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ عمرہ کے لئے آئے۔ ہم ان کے پاس ان کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے۔ لوگوں نے ان سے کئی چیزوں کی بابت پوچھا۔ پھر متعہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا ہاں۔ ہم نے رسول اللہ
ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے (غزوئہ) اوطاس کے سال تین دن کے لئے متعہ کی اجازت دی۔ پھر اس سے منع فرمادیا۔
عبدالملک بن ربیع بن سبرہ جہنی اپنے باپ سے اور وہ اُن کے دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بتایا ہمیں رسول اللہ
ابو زبیر کہتے ہیں میں نے حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے سنا۔ انہوں نے کہا ہم رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ایک مٹھی کھجور اور آٹے کے عوض کئی دنوں تک متعہ کیا کرتے تھے یہانتک کہ حضرت عمرؓ نے عمرو بن حریث کے واقعہ میں اس سے منع کر دیا۔
ابی نضرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت جابر بن عبداللہؓ کے پاس تھاکہ ان کے پاس ایک آنے والا آیااور اس نے کہا حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابن زبیرؓ نے دو متعوں ٭کے بارہ میں اختلاف کیاتھا۔ حضرت جابرؓ کہنے لگے ہم نے یہ دونوں متعے رسول اللہﷺ کے ساتھ کئے۔ پھر ان دونوں سے ہمیں حضرت عمرؓ نے منع کر دیا۔ پھر ہم نے دونوں کا اعادہ نہیں کیا۔
حضرت سبرہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں متعہ کی اجازت دی تو میں اور ایک شخص بنی عامر کی ایک عورت کے پاس گئے گویا وہ ایک جوان لمبی گردن والی اونٹنی ہے۔ ہم نے اس کے سامنے اپنے آپ کوپیش کیا۔ اس نے کہا تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا اپنی چادر اور میرے ساتھی نے کہا اپنی چادر اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے زیادہ خوبصورت تھی اور میں اس کی نسبت جوان تھا۔ جب وہ میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو اسے پسند کرتی اور جب مجھے دیکھتی تو میں اُسے پسند آتا۔ پھر اس نے کہا تم اور تمہاری چادر مجھے کافی ہے۔ میں اس کے پاس تین دن ٹھہرا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس ایسی عورت ہو جس سے اس نے متعہ کیا ہے وہ اُسے چھوڑ دے۔
ربیع بن سبرہ سے روایت ہے کہ ان کے والد رسول اللہﷺ کے ساتھ فتح مکہ کے غزوہ میں شریک تھے۔ وہ کہتے ہیں ہم پندرہ دن وہاں ٹھہرے رات اور دن ملا کرتیس۔ ہمیں رسول اللہﷺ نے عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تو میں اور میری قوم کا ایک شخص نکلے۔ مجھے خوبصورتی میں اس پر برتری تھی اور وہ قریبًا بد صورت تھااور ہم میں سے ہر ایک کے پاس چادر تھی۔ میری چادر پرانی اور میرے چچازاد کی چادر بالکل نئی اور ملائم تھی۔ ہم مکہ کے نشیب یا بلندی پر تھے تو ہمیں ایک نوجوان لڑکی ملی جو اونٹنی کی طرح دراز گردن تھی۔ ہم نے کہا کیا توچاہتی ہے کہ ہم میں سے کوئی تیرے ساتھ متعہ کرے۔ اس نے کہا تم دونوں کیا خرچ کرو گے؟ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی چادر پھیلائی۔ اس نے دونوں آدمیوں کو دیکھنا شروع کیااور میرے ساتھی نے اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھنا شروع کیا اور کہا اس کی چادر پرانی ہے اور میری چادر بالکل نئی اور ملائم ہے۔ اس عورت نے دو تین دفعہ کہااس کی چادر میں بھی کوئی حرج نہیں۔ پھر میں نے اس سے متعہ کیا اور میں وہاں سے نہیں نکلا یہانتک کہ رسول اللہﷺ نے اُسے حرام قرار دے دیا۔ ایک اور روایت میں (اِنَّ اَبَاہُ غَزَامَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَتْحَ مَکَّۃَ) بجائے) عَنْ اَبِیْہِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ عَامَ الْفَتْحِ اِلٰی مَکَّۃَ کے الفاظ ہیں۔ باقی روایت اسی طرح ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے قَالَتْ وَھَلْ یَصْلُحُ ذَاکَ اس عورت نے کہا کیا یہ درست ہے؟اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اس (دوسرے شخص) نے کہا تھا کہ اس کی چادر پرانی بوسیدہ ہے٭۔
ربیع بن سبرہ جہنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے فرمایا اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک حرام قرار دے دیا ہے۔ پس جس کسی کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہو تو وہ اس کی راہ چھوڑ دے اور جو کچھ تم اُسے دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ ایک اور روایت میں (اَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ کی بجائے) رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَائِمًا بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ وَھُوْیَقُوْلُُکے الفاظ ہیں۔ یعنی میں نے رسول اللہﷺ کو (کعبہ کے) رکن اور دروازہ کے درمیان کھڑے ہوئے دیکھا اور آپؐ فرما رہے تھے۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
عبدالعزیز بن ربیع بن سبرہ بن معبد کہتے ہیں میں نے اپنے والد ربیع بن سبرہ سے سنا۔ وہ اپنے والد سبرہ بن معبد سے بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فتحِ مکہ کے سال اپنے صحابہؓ کو عورتوں کے ساتھ متعہ کی اجازت دی۔ وہ کہتے ہیں میں اور بنی سلیم میں سے میرا ایک ساتھی نکلے یہانتک کہ ہم نے بنی عامر کی ایک لڑکی کو پایا۔ وہ گویا ایک دراز گردن جوان اونٹنی تھی۔ ہم نے اس کو اس کی ذات کے لئے پیغام دیااور اس کے سامنے اپنی چادریں پیش کیں۔ وہ دیکھنے لگی اس نے مجھے میرے ساتھی سے زیادہ خوبصورت پایا۔ میرے ساتھی کی چادر کو میری چادر سے زیادہ عمدہ پایا۔ پھر اس نے تھوڑی دیر دل میں سوچا اور پھر میرے ساتھی کے مقابلہ پر مجھے چن لیاپھر وہ عورتیں ہمارے ساتھ تین دن رہیں۔ پھر رسول اللہﷺ نے ہمیں ان سے علیحدگی کا ارشاد فرمایا۔