بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 130 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ سے عزل کے بارہ میں سوال کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا ہر پانی سے بچہ پیدا نہیں ہوتااور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کوئی اور چیز روک نہیں سکتی۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم عزل کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔ اسحاق نے مزید کہا کہ سفیان کہتے تھے اگر یہ ایسی چیز ہوتی جس کی ممانعت ہے تو ضرور قرآن ہمیں اس سے منع کرتا۔
عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت جابرؓ کو کہتے سنا ہم رسول اللہﷺ کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے یہ بات نبیﷺ کو پہنچی۔ تو آپؐ نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا میری ایک لونڈی ہے وہ ہماری خدمت کرتی اور پانی(بھر کر)لاتی ہے اور میں اس سے تعلق قائم کرتا ہوں اور ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہوجائے؟آپؐ نے فرمایا اگر تم چاہو تو عزل کرلو کیونکہ جو اس کے لئے مقدر ہے وہ تو اس کے پاس آکر رہے گا۔ وہ شخص کچھ عرصہ کے بعد آپؐ کے پاس آیااور عرض کیا کہ وہ لونڈی توحاملہ ہوگئی۔ آپؐ نے فرمایا میں نے تو تمہیں بتا دیا تھا کہ جو اس کے لئے مقدر ہے وہ تو اسے مل کر رہے گا۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نے نبیﷺ سے سوال کیا اور کہا میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا بے شک یہ کسی بھی چیز کو جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہے میں روک نہیں ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر(کچھ عرصہ بعد) وہ شخص آیا اور کہنے لگا یا رسولؐ اللہ! جس لونڈی کا میں نے آپؐ سے ذکر کیا تھاوہ تو حاملہ ہو گئی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسولؐ ہوں۔ ایک اور روایت میں (سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّﷺ کی بجائے)جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّﷺ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو درداءؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ ایک حاملہ عورت جس کا عنقریب بچہ ہونے والا تھا کے خیمہ کے دروازہ پر آئے اور آپؐ نے فرمایا شاید وہ اس سے تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا ہاں۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو۔ جس کے ساتھ وہ اپنی قبر میں داخل ہو۔ وہ اس بچہ کو کیسے وارث ٹھہرائے گا حالانکہ وہ اس پر حلال نہیں ہے اور وہ اس سے کیسے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لئے جائز نہیں۔
جدامہ بنت وہب اسدیہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں غیلہ(دودھ پلانے والی عورتوں سے تعلق) کی ممانعت کروں یہانتک کہ مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور یہ بات ان کی اولاد کو نقصان نہیں پہنچاتی۔
حضرت عکاشہؓ کی بہن حضرت جدامہؓ بنت وہب سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں کچھ لوگوں کے ساتھ حاضر ہوئی۔ آپؐ فرما رہے تھے میں نے ارادہ کیا کہ میں غیلہ (حمل کے دوران تعلق) سے منع کردوں پھر میں نے دیکھا کہ روم، فارس میں لوگ اپنی ہونے والی اولاد کے دوران تعلق کرتے ہیں اور یہ چیز اُن کی اولاد کو ضرر نہیں پہنچاتی۔ پھر انہوں نے عزل کے بارہ میں پوچھاتو رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ تو زندہ درگور کی ایک مخفی شکل ہے۔ عبیداللہ نے مقری سے اپنی روایت میں مزید کہا ہے یہ وہی زندہ گاڑھی جانے والی ہے۔ جس کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت اسامہؓ بن زیدؓ نے ان کے والدحضرت سعدؓ بن ابی وقاص کو بتایا کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں۔ اُسے رسول اللہﷺ نے فرمایاتم ایسا کیوں کرتے ہو۔ اس نے عرض کیامجھے اس کے بچے یا اس کی اولاد کے بارہ میں اندیشہ ہوتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر یہ مضر ہوتا تو اہلِ فارس اور روم کو بھی نقصان دیتا۔ ایک اور روایت میں (لَوْکَانَ ذَلِکَ ضَارًّا کی بجائے اِنْ کَانَ لِذَلِکَ فَلَا، مَاضَارَذَلِکَ فَارِسَ وَلَاالرُّوْمَ) کے الفاظ ہیں کہ اگریہ بات ہے تو نہ (کروکیونکہ) یہ فارس اور روم کو نقصان نہیں دیتا۔