بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 130 hadith
ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کی طرف سے آپؐ کی اپنی ازواج کے لئے حق مہر کتنا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ کی طرف سے اپنی ازواج کے لئے بارہ اوقیہ اور نصف اوقیہ حق مہر تھا۔ پھر انہوں (حضرت عائشہؓ ) نے پوچھا تم جانتے ہو کہ نش سے کیا مراد ہے؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہانصف اوقیہ، پس یہ پانچ سو درہم ہوئے اور یہ رسول اللہﷺ کی طرف سے آپؐ کی ازواج کے لئے حق مہر تھا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کی۔ رسول اللہ
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اس شخص کے بارہ میں فرمایا جو اپنی لونڈی کو آزاد کر ے پھر اس سے شادی کرے اس کے لئے دو اجر ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ پر زردی کا نشان دیکھا۔ آپؐ نے فرمایایہ کیا؟ انہوں نے جواب دیا۔ یا رسولؐ اللہ! میں نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کی ہے۔ آپؐ نے فرمایااللہ تمہیں مبارک کرے۔ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کی۔ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایاولیمہ کرو، خواہ ایک بکری سے۔ ایک اور روایت میں (اِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَ ۃً کی بجائے) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَ ۃً کے الفاظ ہیں۔
عبدالعزیز بن صُہَیب کہتے ہیں میں نے حضرت انسؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ نے کہا رسول اللہﷺ نے مجھے دیکھا اور مجھ پر شادی کی رونق تھی۔ میں نے عرض کیا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپؐ نے پوچھا تم نے اس کا کتنا حق مہر مقرر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا ایک گٹھلی(برابر سونا) اور اسحاق کی روایت میں نَوَاۃً کے بعد مِنْ ذَھَبٍ کا لفظ ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض ایک عورت سے شادی کی مِنْ ذَھَبٍ کے الفاظ حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کی اولاد میں سے کسی نے استعمال کئے ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ غزوئہ خیبر پر تشریف لے گئے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے اس(خیبر) کے قریب صبح کی نماز منہ اندھیرے پڑھی۔ پھر اللہ کے نبیﷺ سوار ہوئے اور حضرت ابو طلحہؓ بھی سوار ہوئے اور میں حضرت ابوطلحہؓ کے پیچھے سواری پر بیٹھا۔ پھر نبیﷺ نے خیبر کی گلیوں میں (گھوڑا) دوڑایااور میرا گھٹنا نبیﷺ کی ران کو چھوتا تھااور نبیﷺ کی ران مبارک سے کپڑا سرک گیا تھا مجھے نبیﷺ کی ران کی سفیدی نظر آتی تھی۔ پھر جب آپؐ (خیبر کی) بستی میں داخل ہوئے توآپؐ نے فرمایا اللہ اکبر۔ خیبر ویران ہو گیا۔ یقینا جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو پہلے سے ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بُری ہوتی ہے۔ آپ نے یہ تین بار کہا۔ راوی کہتے ہیں (یہودی) لوگ اپنے کاموں پر نکلے تو انہوں نے دیکھ کر کہا اللہ کی قسم! محمدؐ! عبدالعزیز کہتے ہیں ہمارے بعض ساتھیوں نے کہا محمدؐ اور لشکر!۔ راوی کہتے ہیں ہم نے خیبر کی فتح قوّت کے ذریعہ حاصل کی تھی۔ قیدی جمع کئے گئے تو دحیہؓ آپ کے پاس آئے اور کہا یا رسولؐ اللہ! قیدیوں میں سے ایک لڑکی مجھے عنایت فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا جاؤ اور ایک لڑکی لے لو۔ انہوں نے صفیہؓ بنت حُیَّی کو لے لیا۔ اس پر ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے نبیؐ !آپؐ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے سردار کی بیٹی صفیہ دحیہ کو دے دی ہے۔ وہ صرف آپؐ کے شایانِ شان ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے(دحیہ)کو ان (حضرت صفیہؓ )کے ساتھ بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں وہ(دحیہؓ ) اسے لے کر آئے۔ پھر نبیﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا تم قیدیوں میں سے اس کے علاوہ کوئی لڑکی لے لو۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اس(صفیہؓ ) کو آزاد کیا اور اس سے شادی کی۔ ثابت نے کہا اے ابو حمزہؓ آپﷺ نے ان کو کیا حق مہر دیا تھا؟ انہوں نے کہا ان کا نفس، آپؐ نے انہیں آزاد کیا اور ان سے شادی کی۔ جب آپ راستہ میں تھے تو حضرت ام سلیمؓ نے اسے آپؐ کے لئے تیار کیا اور انہیں رات کے وقت آپؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ اس طرح نبیﷺ دولہا بن گئے۔ آپؐ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہو لے کر آجائے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے دستر خوان بچھایا۔ راوی کہتے ہیں پھر کوئی شخص پنیر لے کر آیا اور کوئی شخص کھجور لے کر آیا اور کوئی شخص گھی لے کر آگیا۔ لوگوں نے اسے ملا کر ایک میٹھا کھانا تیار کیا اور اس طرح رسول اللہﷺ کا ولیمہ ہوا۔
سب راوی حضرت انسؓ سے اور وہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے حضرت صفیہؓ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا حق مہر ٹھہرایا اور معاذ کی روایت میں جو اُن کے والد سے مروی ہے کہ آپؐ نے حضرت صفیہؓ سے شادی کی اور بطورِ حق مہر انہیں ان کی آزادی دی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں خیبر والے دن میں حضرت ابوطلحہؓ (کی سواری پر اُن) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرا پاؤں رسول اللہﷺ کے پاؤں سے چھوجاتا تھا۔ پھر جب سورج طلوع ہوا تو ہم ان(اہلِ خیبر) کے پاس پہنچے اور وہ اپنے جانور نکال چکے تھے اور اپنے کلہاڑوں اور ٹوکریوں اور کسیوں کے ساتھ نکلے تھے وہ کہنے لگے محمدؐ اور لشکر! راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا خیبر ویران ہو گیا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے جانے والوں کی صبح بُری ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں اللہ عزّ وجل نے اہلِ خیبر کو پسپا کر دیا اور حضرت دحیہؓ کے حصہ میں ایک خوبصورت لڑکی آئی۔ رسول اللہﷺ نے انہیں سات کس کے عوض خرید لیا۔ پھر اسے ام سلیمؓ کے سپرد کیاکہ وہ آپؐ کے لئے ان کو تیار کریں۔ ایک راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے اور آپؐ نے(یہ بھی) فرمایا تھا کہ وہ ان کے گھر عدت پوری کرے اور یہ صفیہؓ بنت حُیَّی تھیں۔ راوی کہتے ہیں اور رسول اللہﷺ نے اپنا ولیمہ کھجور، پنیر اور گھی سے کیا اور زمین میں (پیالہ نما)گڑھے سے بنا ئے گئے اور دستر خوان لا کر ان میں رکھے گئے اور پنیر اور گھی لایاگیا اور لوگ سیر ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں اور لوگوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں کہ آپؐ نے ان سے شادی کی ہے یا انہیں بطور ام ولد لیا ہے۔ پھر وہ کہنے لگے کہ اگر آپؐ نے انہیں پردہ کروایا تو وہ آپؐ کی بیوی ہیں اور اور اگر پردہ نہ کروایا تو وہ امِّ ولد ہیں۔ پھر جب حضورؐ نے سوار ہونے کاارادہ کیا تو انہیں پردہ کروایااور وہ اونٹ پر آپؐ کے پیچھے بیٹھیں۔ تو لوگوں نے سمجھ لیا کہ آپؐ نے ان سے شادی کی ہے۔ پھر جب مدینہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہﷺ نے سواری کو تیز کیااور ہم نے بھی سواریوں کو تیز کیا۔ راوی کہتے ہیں عضباء اونٹنی کو ٹھوکر لگی۔ رسول اللہﷺ گر پڑے اور وہ بھی گر گئیں۔ رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور ان پرپردہ ڈالااور عورتیں جھانکنے لگیں اور کہنے لگیں اَبْعَدَ اللّٰہُ الْیَہُوْدِیَۃَ۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو حمزہ! کیارسول اللہﷺ بھی گر پڑے تھے۔ انہوں نے کہا ہاں۔ اللہ کی قسم!آپؐ گرگئے تھے۔