بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 130 hadith
ضرت انسؓ کہتے ہیں میں حضرت زینبؓ کے ولیمہ میں شامل ہوا اور آپؐ نے لوگوں کو روٹی اور گوشت سے سیر کردیا۔ آپؐ مجھے بھجواتے تھے اور میں لوگوں کو بلاتا تھا۔ جب آپؐ فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر چل پڑے اور میں بھی آپؐ کے پیچھے ہو لیا۔ دو آدمی پیچھے رہ گئے وہ اپنی باتوں میں لگے رہے۔ وہ دونوں باہر نہیں گئے۔ آپؐ اپنی ازواج (کے حجروں ) کے پاس سے گزرنے لگے۔ آپؐ ان میں سے ہر ایک کو سلام کرتے ہوئے کہتے السلام علیکم، اے اہلِ بیت تم کیسے ہو؟ وہ جواب دیتیں۔ یا رسولؐ اللہ! ہم خیریت سے ہیں۔ آپؐ نے اپنے اہل کو کیسا پایا؟ آپؐ فرماتے بہت اچھا۔ جب آپؐ فارغ ہوکر واپس ہوئے تو میں بھی آپؐ کے ساتھ واپس ہوا۔ جب آپؐ دروازے کے پاس پہنچے تو کیا دیکھا کہ وہ دونوں آدمی باتوں میں مگن ہیں جب ان دونوں نے آپؐ کو لوٹتے دیکھا تو وہ دونوں بھی اٹھے اور چلے گئے۔ اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپؐ کو بتایاتھا یا آپؐ پر وحی نازل ہوئی تھی کہ وہ دونوں چلے گئے ہیں۔ پھر آپؐ واپس آئے اور میں آپؐ کے ساتھ واپس آیا۔ پھر جب آپؐ نے اپنا پاؤں دروازے کی دہلیز پر رکھا توآپؐ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکادیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یَاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُؤذَنَ لَکُمْ۔ ۔ ۔ الاٰیۃ (ترجمہ) اے لوگو!جو ایمان لائے ہو! نبیؐ کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں بلایا جائے۔ ۔ ۔ ٭
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ دی جائے تو دعوت ولیمہ کے لئے جایا کرو اور اس میں شامل ہو۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت صفیہؓ حضرت دحیہؓ کے حصہ میں آئی تھیں۔ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس اس کی تعریف کرنے لگے۔ راوی کہتے ہیں اور لوگوں نے کہا قیدیوں میں ہم نے ان جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے دحیہؓ کو بلا بھیجا اور جو انہوں نے حضرت صفیہؓ کے عوض مانگا۔ آپؐ نے انہیں عطا فرمادیا۔ پھر آپؐ نے انہیں میری والدہ کے سپرد کر دیااور فرمایا تم ان کو تیار کرو۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ خیبر سے نکلے یہانتک کہ جب آپؐ نے خیبر کو پیچھے چھوڑدیا تو آپؐ نے پڑاؤ کیا۔ پھر آپؐ نے ان کے لئے خیمہ تیار کروایا۔ پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کے پاس زادِ راہ سے زائد ہووہ اس کو ہمارے پاس لے آئے۔ راوی کہتے ہیں کوئی زائد کھجور لے کر آنے لگا اور کوئی زائدستوّیہانتک کہ انہوں نے ان سے میٹھے ڈش کا ایک ڈھیر بنا کر اس میں سے کھانے لگے اور بارش کے پانی کے حوضوں سے جو ان کے پہلو میں تھے پینے لگے۔ راوی کہتے ہیں حضرت انسؓ نے کہا یہ رسول اللہﷺ کی ان سے (شادی) کی دعوت ولیمہ تھی۔ راوی کہتے ہیں پھر ہم چلے یہانتک کہ جب مدینہ کی دیواروں پر ہماری نظر پڑی تو ہمیں اس کا اشتیاق بڑھ گیا۔ پھر ہم نے اپنی سواریوں کو تیز کیااور رسول اللہﷺ نے بھی اپنی سواری کو تیز کردیا راوی کہتے ہیں اور حضرت صفیہؓ رسول اللہﷺ کے پیچھے تھیں۔ رسول اللہﷺ نے انہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا تھا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ کی سواری نے ٹھوکر کھائی۔ آپؐ گر پڑے اور وہ بھی گر گئیں۔ راوی کہتے ہیں لوگوں میں سے کسی شخص نے بھی آپؐ کی طرف اور نہ ہی ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا یہانتک کہ رسول اللہﷺ اٹھے اور آپؐ نے ان پر کپڑا ڈالا۔ راوی کہتے ہیں پھر ہم آپؐ کے پاس آئے۔ آپؐ نے فرمایا ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ راوی کہتے ہیں پھر ہم مدینہ میں داخل ہوئے توآپؐ کی بیویوں کی نو عمر نوکرانیاں ان کو دیکھنے لگیں اور ان کے گرنے پر ان کو یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہنے لگیں۔
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ جب حضرت زینبؓ کی عدت گزر چکی۔ رسول اللہﷺ نے زیدؓ سے کہاآپ میری طرف سے زینبؓ کوپیغام (شادی) دیں۔ راوی کہتے ہیں زیدؓ گئے اور ان کے پاس پہنچے اور وہ اپنے آٹے کو خمیردے رہی تھیں۔ وہ کہتے ہیں جب میں نے انہیں دیکھا میرے دل میں ان کی اتنی عظمت پیدا ہوئی کہ مجھے ان پر نظر ڈالنے کی ہمت نہ ہوئی کیونکہ خود رسول اللہﷺ نے ان کا پیغام بھجوایا تھا۔ میں نے ان سے اپنی پشت موڑی اور اپنی ایڑیوں کے بل لوٹا اور کہا اے زینبؓ ! رسول اللہﷺ نے آپؐ کے لئے پیغام (شادی) بھجوایا ہے۔ انہوں نے کہا میں کوئی بھی کام نہیں کرتی یہانتک کہ اپنے رب سے دعا نہ کرلوں۔ پھر وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر کھڑی ہوئیں اور قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں جس میں رسول اللہﷺ کا حضرت زینبؓ سے نکاح کا ذکر ہے اور رسول اللہﷺ تشریف لائے اور بغیر رسمی اجازت کے اندر تشریف لے آئے۔ راوی کہتے ہیں حضرت انسؓ نے کہا اور ہم نے دیکھا رسول اللہﷺ نے ہمیں دن خوب چڑھ جانے پر روٹی اور گوشت کھلایا۔ اورکھانے کے بعد لوگ باہر چلے گئے اور کچھ لوگ کھانے کے بعد گھر میں باتیں کرتے ہوئے رہ گئے۔ رسول اللہﷺ باہر نکلے اور میں آپؐ کے پیچھے ہولیا۔ آپؐ اپنی بیویوں کے پاس باری باری جانے لگے۔ آپؐ انہیں سلام کہتے تھے اور وہ کہتی تھیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے اپنے گھر والوں کو کیسا پایا ہے؟ راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں یا آپؐ نے مجھے بتایا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ چلے یہانتک کہ گھر میں داخل ہوئے۔ پھر میں بھی آپؐ کے ساتھ اندر داخل ہو نے لگا مگر آپؐ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور پردہ کے بارہ میں احکام اترے۔ راوی کہتے ہیں اور لوگوں کو وہ نصیحت کی گئی جو نصیحت کی گئی۔ ابن رافع نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُؤذَنَ لَکُمْ اِلٰی غَیْرَنَاظِرِیْنَ اِنَاہُ۔ ۔ ۔ الاٰیۃ(ترجمہ) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نبیؐ کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے مگر اس طرح نہیں کہ اس کے پکنے کا انتظار کر رہے ہو۔ اللہ کے قول وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیِی مِنَ الْحَقّ تک٭
ابو کامل سے مروی ہے کہ میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہﷺ کو اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی سے شادی پر ایسی دعوت ولیمہ نہیں دیکھی جیسی آپؐ نے حضرت زینبؓ کی دعوت ولیمہ کی اور ابو کامل نے کہا آپؐ نے بکری ذبح کی تھی۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے کسی بیوی کا اس سے زیادہ یابہتر ولیمہ نہیں کیا جیسا آپؐ نے حضرت زینبؓ کی شادی پر کیا تھا۔ ثابت بنانی نے پوچھا آپؐ نے کس چیز کے ساتھ ولیمہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا آپؐ نے انہیں روٹی اور گوشت کھلایا تھا یہانتک کہ لوگوں نے اسے (سیر ہوکر) چھوڑا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب نبیﷺ نے حضرت زینبؓ بنت جحش سے شادی کی۔ آپؐ نے لوگوں کو بلایا اور انہوں نے کھانا کھایا پھر لوگ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ اٹھنے کے لئے تیار ہو نے لگے مگر وہ لوگ نہ اٹھے۔ جب آپؐ نے یہ دیکھا توکھڑے ہوئے۔ پھر جب آپؐ کھڑے ہوگئے تو لوگوں میں سے جس نے کھڑا ہونا تھا کھڑا ہوگیا۔ } عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ دونوں اپنی روایت میں یہ مزید بیان کرتے ہیں { انہوں نے کہا تین شخص بیٹھے رہے اور نبیﷺ اندر جانے کے لئے تشریف لائے تو کیا دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں پھر وہ لوگ کھڑے ہوئے اور چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں میں آیا اور نبیﷺ کو بتایا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ آئے اور اندر داخل ہوئے میں بھی داخل ہونے لگاتو آپؐ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا۔ راوی کہتے ہیں اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو! نبیؐ کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے مگر اس طرح نہیں کہ اس کے پکنے کا انتظار کر رہے ہو۔ لیکن (کھانا تیار ہونے پر) جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہو اور جب تم کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ۔ اور وہاں (بیٹھے) باتوں میں نہ لگے رہو۔ یہ (چیز) یقینا نبیﷺ کے لئے تکلیف دہ ہے مگر وہ تم سے (اس کے اظہار پر) شرماتا ہے اور اللہ حق سے نہیں شرماتا اور اگر تم ان (ازواج نبیؐ ) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ(طرزِ عمل) ہے اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاؤ اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں میں سے کسی سے شادی کرو یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے٭۔
حضرت انسؓ کہتے تھے کہ پردہ کے(حکم کے بارہ میں ) مجھے سب لوگوں سے زیادہ علم ہے۔ حضرت ابیّ بن کعبؓ مجھ سے اس بارہ میں پوچھا کرتے تھے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت زینبؓ بنت جحش سے شادی کی۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے ان سے مدینہ میں شادی کی تھی اور دن چڑھے لوگوں کو کھانے کے لئے بلایا۔ رسول اللہﷺ تشریف فرما ہوئے اور لوگوں کے چلے جانے کے بعد آپؐ کے ساتھ کچھ لوگ بیٹھے رہے یہانتک کہ رسول اللہﷺ اٹھے اور چل پڑے۔ میں بھی آپؐ کے ساتھ چلا یہانتک کہ آپؐ حضرت عائشہؓ کے حجرہ کے دروازے تک پہنچے۔ پھر آپؐ کو خیال آیا کہ لوگ چلے گئے ہوں گے توآپؐ لوٹے، میں بھی آپؐ کے ساتھ واپس آیا تو دیکھا کہ لوگ اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں تو آپؐ واپس چلے گئے۔ میں بھی دوبارہ آپؐ کے ساتھ واپس چلاگیایہانتک کہ آپؐ حضرت عائشہؓ کے حجرہ تک پہنچے۔ پھرآپؐ واپس لوٹے۔ میں بھی لوٹا۔ تو دیکھا کہ لوگ کھڑے ہو گئے ہیں۔ آپؐ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ نے پردے کی آیت نازل فرمائی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے شادی کی اور اپنے اہل کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ کہتے ہیں میری امی حضرت ام سلیمؓ نے میٹھا ڈش بنایا اور اسے ایک برتن میں رکھا اور کہنے لگیں۔ اے انسؓ !یہ رسول اللہﷺ کے پاس لے جاؤ اور آپؐ سے کہو کہ یہ میری والدہ نے بھیجا ہے۔ اور وہ آپؐ کو سلام کہہ رہی تھیں اور کہتی تھیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ کے لئے یہ ہماری طرف سے تھوڑا سا(ہدیہ) ہے۔ وہ کہتے ہیں میں وہ لے کر رسول اللہﷺ کے پاس گیا اور میں نے کہا میری امی آپؐ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں یا رسولؐ اللہ! یہ ہماری طرف سے آپؐ کے لئے تھوڑا سا(ہدیہ) ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے رکھ دو۔ پھر فرمایا جاؤ اور فلاں فلاں اور فلاں کو اور جو بھی تمہیں ملے میرے پاس بلالاؤ۔ آپؐ نے کچھ آدمیوں کے نام لئے۔ وہ کہتے ہیں جن کے آپؐ نے نام لئے تھے انہیں بھی اور جن سے بھی میں ملا انہیں بھی بلالایا۔ راوی کہتے ہیں میں نے انسؓ سے کہا وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے کہا تین سوکے قریب اور مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا اے انس! وہ برتن لے آؤ وہ کہتے ہیں لوگ اندر آئے یہانتک کہ صفہ (چبوترہ) اور حجرہ بھر گئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا دس دس کا حلقہ بنالیں اور ہر آدمی اپنے سامنے سے کھائے۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے کھایا یہانتک کہ وہ سیرہو گئے۔ وہ کہتے ہیں ایک گروہ نکلتا تھا اور دوسراداخل ہوتا تھایہانتک کہ ان سب نے کھالیا۔ پھر آپؐ نے مجھے فرمایا اے انس! (اسے) اٹھالو۔ وہ کہتے ہیں میں نے اسے اپنے لئے اٹھالیا۔ میں نہیں جانتا کہ جب میں نے رکھا تو وہ اس وقت زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا۔ وہ کہتے ہیں ان میں سے کچھ لوگ رسول اللہﷺ کے گھر میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اور رسول اللہﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ اور آپؐ کی زوجہ مطہرہ دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھی ہوئی تھیں۔ رسول اللہﷺ پر یہ(لوگوں کا طرز عمل) گراں گزرا۔ اور رسول اللہﷺ باہر تشریف لے گئے اور اپنی بیویوں کو سلام کیا۔ پھر واپس آئے جب لوگوں نے رسول اللہﷺ کو دیکھاکہ آپؐ واپس آئے ہیں تو انہوں نے خیال کیا کہ وہ رسول اللہﷺ پر بوجھ ہیں۔ راوی کہتے ہیں تو وہ دروازے کی طرف لپکے اور سارے باہر چلے گئے اور رسول اللہﷺ تشریف لائے یہانتک کہ آپؐ نے پردہ ڈال دیااور اندر تشریف لے گئے اور میں حجرہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپؐ تھوڑی دیر بعد میرے پاس تشریف لائے اور یہ آیت اتری۔ آپؐ باہر آئے اور یہ آیات لوگوں کو پڑھ کر سنائیں۔ ۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو! نبیؐ کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے مگر اس طرح نہیں کہ اس کے پکنے کا انتظار کر رہے ہو۔ لیکن (کھانا تیار ہونے پر) جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہو اور جب تم کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ۔ اور وہاں (بیٹھے) باتوں میں نہ لگے رہو۔ یہ (چیز) یقینا نبیﷺ کے لئے تکلیف دہ ہے مگر وہ تم سے (اس کے اظہار پر) شرماتا ہے اور اللہ حق سے نہیں شرماتا اور اگر تم ان(ازواج نبیؐ ) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ(طرزِ عمل) ہے اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاؤ اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں میں سے کسی سے شادی کرو یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے٭۔ حضرت انس بن مالکؓ نے کہا مجھے سب سے پہلے یہ آیات پہنچی ہیں اور نبیﷺ کی ازواج کو پردہ کرایاگیا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب نبیﷺ نے حضرت زینبؓ سے شادی کی۔ تو حضرت ام سلیمؓ نے پتھر کے ایک برتن میں حیس کا تحفہ بھیجا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو بھی تمہیں ملے اسے میرے پاس بلا لاؤ۔ پس میں ہر شخص کو جو بھی مجھے ملا، بلا لایا۔ وہ سب آپؐ کے پاس اندرآنے لگے۔ وہ کھانا کھاتے اور باہر چلے جاتے تھے۔ اور نبیﷺ نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھاتھا اور اس میں دعا کی تھی اور اس میں جو بھی اللہ نے چاہا آپؐ نے کہا اور کسی کو نہ چھوڑا۔ ان سب نے کھایایہانتک کہ سیر ہو گئے اور وہ باہر چلے گئے اور ان میں سے ایک گروہ پیچھے رہ گیا اور انہوں نے اپنی بات (آپؐ کے ہاں ) لمبی کردی۔ رسول اللہﷺ انہیں کوئی بات کہنے سے حیا فرمارہے تھے۔ پس آپؐ باہر تشریف لے گئے اور انہیں گھر میں چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نبیؐ کے گھروں میں داخل نہ ہوا کروسوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے مگر اس طرح نہیں کہ اس کے پکنے کا انتظار کر رہے ہو٭ راوی کہتے ہیں قتادہ نے کہا ہے کہ کھانا پکنے کے انتظار میں نہ ر ہو بلکہ جب تمہیں بلایا جائے تو آؤ۔