بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 78 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقیناجنت والے اپنے اوپر بالا خانہ والوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم دور اُفق میں چمکتا ہوا ستارہ مشرق میں یا مغرب میں دیکھتے ہو۔ یہ (فاصلہ) ان کے درمیان باہمی فضیلت کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ ! یہ انبیاء کی منازل ہیں جن تک کوئی اور نہیں پہنچ سکتا۔ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس درجہ میں وہ لوگ(بھی) ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت میں سے مجھ سے شدید محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد ہوں گے ان میں سے ہر ایک یہ چاہے گا اے کاش وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے مال کے بدلے مجھے دیکھ لیتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا جنت میں ایک بازار ہے جس میں وہ (اہل جنت) ہر جمعہ کو آئیں گے اور شمال کی ہوا چلے گی اور ان کے چہروں اور کپڑوں پر گرد ڈالے گی تو وہ حسن و جمال میں بڑھ جائیں گے پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں گے اور ان کا بھی حسن و جمال بڑھ چکا ہوگا تو ان سے ان کے گھر والے کہیں گے اللہ کی قسم تم ہمارے بعد حسن وجمال میں زیادہ ہوگئے ہو وہ کہیں گے اور اللہ کی قسم تم بھی ہماری غیر موجودگی میں حسن و جمال میں بڑھ گئے ہو۔
محمد(بن سیرین) بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے باہم فخر کیا یا باہم تذکرہ کیا کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں تو حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کیا ابو القاسمﷺ نے نہیں فرمایا کہ پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی شکل کا اور جو گروہ اس کے بعد جائے گا وہ آسمان کے سب سے روشن چمکنے والے ستارے کی مانند ہوگا ان میں سے ہر مرد کے لئے دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں (کی ہڈی) کا گودا گوشت میں سے نظر آرہا ہوگا اور جنت میں کوئی کنوارا نہ ہوگا۔ ایک روایت میں (اِمَّا تَفَاخَرُوْا وَاِمَّا تَذَاکَرُوْاالرِّجَالُ فِی الْجَنَّۃِ أَکْثَرُ أَ مِ النِّسَآئُ فَقَالَ اَبُوْہُرَیْرَۃَ اَوَ لَمْ یَقُلْ اَبُو الْقَاسِمِﷺ کی بجائے) اِخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَآئُ اَیُّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ اَکْثَرُ فَسَأَلُوْا اَبَاہُرَیْرَۃَ فَقَالَ قَالَ اَبُوالْقَاسِمِﷺ کے الفاظ ہیں یعنی مردوں اور عورتوں نے بحث کی کہ ان میں سے جنت میں کون زیادہ ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی شکل کا ہوگا اور جو اُن کے پیچھے ہوں گے وہ آسمان میں سب سے زیادہ چمکنے والے ستارے کی طرح ہوں گے انہیں نہ پیشاب کی حاجت ہوگی نہ ان کو ’’طبعی حوائج‘‘ کی ضرورت ہوگی اور نہ ناک صاف کرنے کی ضرورت ہوگی اور نہ تھوکنے کی، اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک ہوگا اور ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی اور ان کی بیویاں بڑی بڑی سیاہ آنکھوں والی ہوں گی اور ان سب (جنتیوں )کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے وہ اپنے باپ آدمؑ کی صورت پر ساٹھ ہاتھ قد کے ہوں گے۔ ایک روایت میں (اِنَّ اَوَّلَ زُمْرَۃٍ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ کی بجائے) اَوَّلُ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا پہلا گروہ میری امت کا جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی شکل کا ہوگا پھر وہ لوگ ان کے پیچھے آئیں گے وہ آسمان میں سب سے زیادہ روشن ستارہ کی شکل پر ہوں گے۔ پھر ان کے بعد وہ جن کے مختلف درجات ہوں گے ان(جنتیوں ) کونہ ’’طبعی حوائج‘‘کی ضرورت ہوگی نہ پیشاب کی نہ ناک صاف کرنے کی نہ تھوکنے کی ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک ہوگا اور ان کے اخلاق ایک جیسے ہونگے اپنے باپ آدمؑ کے قد کے مطابق ساٹھ ہاتھ لمبے۔ ایک روایت میں (خُلُقِ کی بجائے) خَلْقِ کے الفاظ ہیں یعنی وہ سب خلقت میں ایک جیسے ہوں گے اور (عَلَی طُوْلِ اَبِیْھِم کی بجائے) عَلَی صُورَۃِ اَبِیھِم ْکے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہوں گی انہیں تھوکنے کی حاجت نہ ہوگی نہ ناک صاف کرنے کی نہ ’’حوائج ضروریہ‘‘ کی۔ اس میں ان کے برتن اور ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک ہوگا ان میں سے ہرایک کے لئے دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں (کی ہڈی) کا گودا ان کے حسن کی وجہ سے گوشت کے نیچے سے نظر آرہا ہوگا۔ ان میں کوئی اختلاف نہ ہوگا نہ بغض ہوگا۔ ان کے دل ایک ہوں گے وہ صبح شام اللہ کی تسبیح کریں گے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا یقینا جنت والے اس میں کھائیں گے پئیں گے، مگرنہ تھوکیں گے اور نہ پیشاب کریں گے۔ نہ حوائج ضروریہ کی ضرورت ہوگی نہ ان کو ناک صاف کرنے کی حاجت ہوگی۔ انہوں نے کہا ان کے کھانے کا کیا ہوگا؟آپؐ نے فرمایا ایک ڈکار ہوگی اور پسینہ مشک کی خوشبو کی طرح۔ تسبیح و تحمید کرناان کی فطرت میں رکھا جائے گاجس طرح سانس لینا تمہاری فطرت میں رکھا گیا ہے۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاجنت والے اس میں کھائیں گے اور پئیں گے مگر ’’حوائج ضروریہ‘‘ کی ضرورت محسوس نہ ہوگی اور نہ انہیں ناک صاف کرنی پڑے گی لیکن ان کی غذا (کا نتیجہ) مشک کی خوشبو کی طرح ڈکار ہوگا۔ تسبیح و تحمید ان کی فطرت میں ودیعت کی جائے گی جس طرح تمہاری فطرت میں سانس لینا رکھا گیا ہے۔ ایک روایت میں (یُلْہَمُوْنَ التَّسْبِیْحَ وَالْحَمْدَ کی بجائے) یُلْہَمُوْنَ التَّسْبِیْحَ وَالتَّکْبِیْرَ کے الفاظ ہیں۔