بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 78 hadith
حضرت سمرہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ کے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ان(جہنمیوں ) میں سے بعض ایسے ہوں گے جنہیں (آگ) ٹخنوں تک پکڑے گی اور ان میں سے بعض کو کمر تک پکڑے گی اور ان میں سے بعض ایسے ہوں گے جنہیں وہ ان کی گردن تک پکڑے گی۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ
حضرت سمرہؓ بن جندب سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ان(جہنمیوں ) میں سے بعض ایسے ہیں جنہیں آگ ٹخنوں تک پکڑے گی اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہیں آگ ان کی کمر تک پکڑے گی۔ اور ان میں سے بعض ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کی ہنسلی تک پکڑے گی۔ ایک روایت میں حُجْزَتِہِ کی جگہ حِقْوَیْہِ ہے یعنی کمر۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آگ اور جنت میں باہم تکرار ہوئی۔ اس نے کہا مجھ میں جابر اور متکبر لوگ داخل ہوتے ہیں اور اس نے کہا مجھ میں کمزور اور مساکین داخل ہوتے ہیں۔ اس پر اللہ بزگ و برتر نے اس کو فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعہ سے جسے چاہتا ہوں عذاب دیتا ہوں _ اور راوی نے کبھی(أُعَذِّبُ بِکِ مَنْ أَشَائُ کی بجائے) أُصِیْبُ بِکِ مَنْ أَشَائُکہا _ اور اُسے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ جس پر چاہتا ہوں رحم کرتا ہوں تم دونوں میں سے ہر ایک کے لئے اتنا ہے جس سے وہ بھر جائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ آگ او رجنت میں بحث ہوئی۔ آگ نے کہا مجھے تکبر کرنے والوں اور جابر لوگوں کے ذریعہ ترجیح دی گئی ہے۔ جنت نے کہا تو مجھے کیا؟ مجھ میں توکمزور حقیر سمجھے جانے والے اور عاجز لوگ داخل ہوتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہوں تیرے ذریعہ رحم کرتا ہوں اور آگ سے کہا تو میرا عذاب ہے میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہوں تیرے ذریعہ عذاب کرتا ہوں اور تم میں سے ہر ایک کے لئے اس قدر ہے جس سے وہ بھرجائے۔ جہاں تک آگ کا تعلق ہے وہ (پہلے تو) نہیں بھرے گی۔ پھر وہ (اللہ) اپنا قدم اس پررکھے گا تو وہ کہے گی بس بس اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے میں پیوست ہو رہا ہوگا۔ ایک روایت میں (تَحَاجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّۃُ کی بجائے) اِحْتَجَّتِ الْجَنَّۃُ وَالنَّارُکے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جنت اور آگ نے بحث کی۔ آگ نے کہا مجھے تکبر کرنے والوں اور جابر لوگوں کے ذریعہ ترجیح دی گئی ہے۔ جنت نے کہامجھے کیا؟ مجھ میں تو کمزور حقیرسمجھے جانے والے اور سادہ لوگ داخل ہوتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تُوتو میری رحمت ہے میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہوں تیرے ذریعہ رحم کرتا ہوں اور آگ سے کہا تُو میرا عذاب ہے۔ میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہوں تیرے ذریعہ عذاب دیتا ہوں اور تم میں سے ہر ایک کے لئے اس قدر ہے جس سے وہ بھرجائے۔ ہاں آگ پہلے تو نہیں بھرے گی یہانتک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی بس بس تب وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے کو دبا رہا ہو گا اور اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا جہانتک جنت کا تعلق ہے اللہ اس کے لئے ایک (کثیر)مخلوق پیدا کرے گا۔ حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت اور دوزخ نے باہم جھگڑا کیا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس روایت میں (وَلِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْکُمَا مِلْؤُھَاکی بجائے) وَلِکِلَیْکُمَا عَلَیَّ مِلْؤُھَاکے الفاظ ہیں۔ اس روایت میں اس کے بعد کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا جہنم کہتی رہے گی کیا اور بھی ہے؟ یہانتک کہ رب العزت تبارک وتعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی تیری عزّت کی قسم ! بس بس۔ اور اس کا ایک حصہ دوسرے کو دبا رہا ہوگا۔
عبد الوہاب بن عطاء نے اللہ عزّوجل کے قول یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ ہَلْ مِن مَّزِیْد کے بارہ میں بیان کیا ترجمہ: کہ یاد کرو وہ دن جب ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی ہے اور وہ جواب دے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ ٭ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جہنم میں مسلسل لوگ ڈالے جائیں گے اور وہ کہے گی کیا کوئی اور بھی ہے؟ یہانتک کہ رب العزت اس میں اپنا قدم رکھے گا تو اس کا ایک حصہ دوسرے میں گھسنے لگے گا اور وہ کہے گی بس بس تیری عزت واکرام کی قسم ! اور جنت میں ہمیشہ وسعت رہے گی یہانتک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے اور لوگ پیدا کردے گا اور وہ جنت کی اس وسیع جگہ میں اُنہیں ٹھہرائے گا۔
حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن موت لائی جائے گی گویا کہ وہ ایک سفید مینڈھا ہے _ ابوکریب نے یہ بات زائد بیان کی ہے کہ اُسے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور ان دونوں (راویوں ) نے باقی روایت پر اتفاق کیا ہے _پھر کہا جائے گا اے جنت والو ! کیا تم اسے پہچا نتے ہو؟ وہ اپنے سر اُٹھائیں گے اور دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھرکہا جائے گا اے دوزخ والو! کیا تم اسے پہچا نتے ہو؟ وہ اپنے سر اُٹھائیں گے اور دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر اس کے بارہ میں حکم دیا جائے گا تو اسے ذبح کیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا پھر کہا جائے گا اے جنت والو! ہمیشہ رہو تمہارے لئے کوئی موت نہیں ہے اور اے دوزخ والو! دیر تک رہتے چلے جاؤ، تمہارے لئے بھی کوئی موت نہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے آیت تلاوت فرمائی وَأَنذِرْہُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ إِذْ قُضِیَ الْأَمْرُ وَہُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَہُمْ لَایُؤْمِنُونَ اور انہیں اس حسرت کے دن سے ڈرا جب فیصلہ چکا دیا جائے گا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے٭ اور آنحضرتﷺ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب جنت والے جنت میں اور آگ والے آگ میں داخل کئے جائیں گے تو کہا جائے گا اے جنت والو !۔ ۔ ۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے اس روایت میں (ثُمَّ قَرَ أَ رَسُوْلُ اللَّہِﷺ کی بجائے) قَالَ فَذَلِکَ قَوْلُہُ عَزَّ وَجَلَّ کے الفاظ ہیں۔ اس روایت میں أَشَارَ بِیَدِہِ اِلَی الدُّنْیَا کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت عبد اللہ(بن عمرؓ ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنت والوں کو جنت میں داخل کرے گا اور دوزخ والوں کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا کھڑا ہوگا اور کہے گا اے جنت والو! کوئی موت نہیں اور اے دوزخ والو! کوئی موت نہیں ہر ایک جس میں وہ ہے اسی میں رہتا چلا جائے گا۔