بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 78 hadith
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب جنت والے جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخ والے دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا یہانتک کہ اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھا جائے گا۔ پھر اُسے ذبح کیا جائے گا پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گااے جنت والو! کوئی موت نہیں اور اے دوزخ والو! کوئی موت نہیں جنت والوں کوان کی خوشی پر خوشی حاصل ہوگی اور دوزخیوں کوان کے غم پر غم ملے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کتنے ہی پراگندہ بالوں والے جنہیں دروازوں سے دھکّے دئیے جاتے ہیں اگر وہ اللہپر قسم کھائیں تو وہ ضرور اسے پوری کرتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے دیکھا عمرو بن لحی بن قمعہ بن خِندِف _ ان بنو کعب کا باپ _ اپنی آنتیں آگ میں گھسیٹ رہا ہے۔
حضرت حارثہ بن وہبؓ نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سُناکہ کیا میں تمہیں جنت والوں کے بارہ میں نہ بتاؤں۔ انہوں نے کہاضرور۔ آپﷺ نے فرمایا ہر کمزور جسے لوگ کمزور سمجھتے ہیں اگر وہ اللہ پر قسم کھائے تو وہ اسے ضرور پوری کرتا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا میں تمہیں دوزخ والوں کے بارہ میں نہ بتاؤں۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا ہربدلگام، سرکش اور تکبر کرنے والا۔ایک روایت میں (أَلَا اُخْبِرُکُمْکی بجائے) أَلَا اَدُلُّکُمْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن زمعہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے خطاب فرمایا اور ’’اونٹنی‘‘ کاذکر کیا اور اس شخص کا بھی جس نے اس کی کونچیں کاٹی تھیں پھر فرمایا إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاہَا(جب ان میں سے سب سے بد بخت شخص اٹھ کھڑا ہوا)٭_ (سے مُراد) ایک طاقتور آدمی جو بہت خبیث اور مفسد اور ابو زمعہ کی طرح اپنے قبیلہ کا طاقتور شخص تھااٹھا_ پھر آپؐ نے عورتو ں کاذکر کیا اور ان کے متعلق وعظ ونصیحت کی پھر فرمایا تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو مارتا رہے گا جس طرح لوگ لونڈی کو مارتے ہیں اور ایک روایت میں ہے جس طرح لوگ غلام کو مارتے ہیں۔ جبکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اسی دن کے آخری حصہ میں اس سے ازدواجی تعلق قائم کرے۔ پھر آپؐ نے ہوا خارج ہونے کی آواز پر لوگوں کے ہنسنے پر نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس کام پر کب تک ہنستا رہے گا جسے وہ خود بھی کرتا ہے۔
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیّب کو کہتے ہوئے سنا یقینا ’’بَحِیْرَہ‘‘ وہ ہے جس کا دودھ بُتوں کی خاطر روکا جاتا ہے اور اس کا دودھ عام لوگوں میں سے کوئی نہیں دوہتا تھااور ’’سائبہ‘‘ وہ جانورہے جسے وہ اپنے معبودوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے اور اس پر کچھ نہ لادتے تھے۔ ابن مسیّب کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر الخزاعی کو آگ میں اپنی آنتیں گھسیٹتے دیکھا اور وہ پہلا شخص تھا جس نے جانوروں کو (بُتوں کے نام) پر چھوڑنے کا طریق جاری کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آگ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ جن کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں جن سے وہ لوگوں کو ما رتے ہیں اور وہ عورتیں جو لباس پہنے ہوئے (مگر) عریاں ہیں۔ (اپنی طرف) مائل کرنے والی اور (اپنے بدن) مٹکانے والی۔ ان کے سر بختی اونٹوں کی جھکی ہوئی کوہان کی طرح ہیں وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے فاصلے سے آتی ہے۔