بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 78 hadith
حضرت عیاض بن حمار مجاشعیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن اپنے خطاب میں فرمایاسنو! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ وہ باتیں جوآج اس نے مجھے سکھائی ہیں وہ تمہیں سکھاؤں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر وہ مال جو میں نے بندے کو دیاحلال ہے اور یقینا میں نے اپنے سب بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے اور یقینا ان کے پاس شیاطین آئے جنہوں نے انہیں ان کے دین سے ہٹا دیا اور ان پرحرام کر دیا جو میں نے ان پر حلال کیا تھا اور انہوں نے انہیں حکم دیا کہ وہ میرا شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف دیکھاتو ان کے عربوں سے بھی ناراض ہوا اور عجمیوں سے بھی سوائے اہل کتاب میں سے رہے سہے لوگ اور فرمایا میں نے تجھے صرف اس لئے بھیجا ہے تاکہ تجھے آزماؤں اور تیرے ذریعہ آزماؤں اور میں نے تجھ پر ایک کتاب اتاری ہے جسے پانی دھو ہی نہیں سکتا ٭اور تو اس کو سوتے بھی اور جاگتے بھی پڑھتا ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو بھڑکاؤں تو میں نے کہا اے میرے رب تب تو وہ میرا سر توڑ دیں گے اور اسے روٹی کی طرح کر چھوڑیں گے۔ (اللہ نے) فرمایا ان کو نکال جیسے انہوں نے تجھے نکالا تھا اور ان سے لڑائی کر ہم تیری مدد کریں گے اور تو خرچ کرہم تجھ پر خرچ کریں گے۔ تو ایک لشکر بھیج ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور تو اپنے اطاعت گزاروں کے ذریعہ نافرمانوں سے لڑائی کر۔ اللہ نے فرمایا جنت والے تین قسم کے ہیں۔ ایک تو وہ بادشاہ جو انصاف کرنے والا، صدقہ کرنے والا اور جسے نیکی کی توفیق دی گئی ہے اور (دوسرا) وہ شخص جوہر قرابت والے اور ہر مسلما ن پر رحم کرنے والا نرم دل ہے۔ اور (تیسرا) وہ شخص جو پاک دامن ہے سوال سے بچنے والا ہے عیال دار ہے۔ آپؐ نے فرمایا آگ والے پانچ قسم کے ہیں (ایک تو)وہ کمزور جو تم میں سے بے عقل اور تمہارے ماتحت ہیں اور اہل و عیال اور مال کے حصول کی طلب نہیں کرتے اور (دوسرا) وہ خیانت کرنے والا جس کی طمع ڈھکی چھپی نہیں اگر چہ وہ بہت معمولی ہو وہ اس کی بھی خیانت کر لیتا ہے اور (تیسرا) وہ شخص جو تیرے اہل و عیال اور تیرے مال کے بارہ میں صبح شام(ہروقت) تجھے دھوکا دیتا ہے (اور چوتھے نمبر پر)آپؐ نے بخل یا جھوٹ کا ذکر فرمایا اور (پانچویں نمبر پر) بد اخلاق فحش بولنے والے کا ذکرفرمایا۔ ایک روایت میں أَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَیْکَ کے الفاظ نہیں ہیں اور ایک روایت میں کُلُّ مَالٍ نَحَلْتُہُ عَبْدًا حَلَالٌ کے الفاظ نہیں۔ ایک روایت میں (أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِﷺ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِیْ خُطْبَتِہِ کی بجائے) أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِﷺ خَطَبَ ذَاتَ یَوْمٍ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیاض بن حمارؓ جو حضرت مجاشع ؓ کے بھائی تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک روز ہم میں خطاب فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ ۔ ۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں مزید یہ ہے کہ یقینًا اللہ نے میری طرف وحی کی کہ تم عاجزی اختیار کرو یہانتک کہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی دوسرے پرزیادتی نہ کرے اور اس روایت میں (یَبْتَغُوْنَ کی بجائے) یَبْغُوْنَ کے الفاظ ہیں۔ (راوی کہتے ہیں ) میں نے کہا اے ابوعبداللہ! کیا اسی طرح ہوگا۔ انہوں نے کہا ہاں، اللہ کی قسم! میں نے ان کو زمانہ جاہلیت میں اسی طرح دیکھا ہے اور ایک شخص قبیلہ کی بکریاں چراتاجس کا اسے کوئی صلہ نہ ملتا سوائے ان کی لونڈی کے جس سے وہ تعلق قائم کرتا تھا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اگر یہ(ڈر) نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن نہیں کرو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر (کی آواز) سنادے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو صبح اور شام اس کا ٹھکانہ اسے دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو اہل جنت کا (ٹھکانہ) اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو اہل دوزخ کا(ٹھکانہ) اور کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے یہانتک کہ اللہ تعالیٰ تجھے قیامت کے دن اٹھا ئے۔ایک روایت میں (اِنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِکی بجائے) فَالْجَنَّۃُ اور (اِنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الْنَّارِکی بجائے) فَالنَّارُ اور (حَتَّی یَبْعَثَکَکی بجائے) اَلَّذِیْ تُبْعَثُ اِلَیْہِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو سعیدؓ خدری حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ مَیں نبیﷺ کے پاس موجودنہیں تھا مگر حضرت زیدؓ بن ثابتؓ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا اس اثناء میں کہ نبیﷺ اپنی خچر پر سوار بنو نجار کے باغ میں تھے اور ہم آپؐ کے ساتھ تھے کہ وہ خچر بِدک گیا اور قریب تھا کہ آپؐ کو گرا دیتا تو وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں _ راوی کہتے ہیں جُریری اسی طرح کہا کرتے تھے _ توآپؐ نے فرمایا ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک شخص نے کہا میں۔ آپؐ نے فرمایا یہ لوگ کب فوت ہوئے؟اس نے عرض کیا شرک کی حالت میں مرے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا یقینا ان لوگوں کو ان قبروں میں عذاب دیاجا رہا ہے۔ پس اگر یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کودفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر میں سے وہ سنا دے جو میں سن رہا ہوں۔ پھر آپؐ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ انہوں نے کہا ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھرآپؐ نے فرمایا قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ انہوں نے کہا ہم قبرکے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ان فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو جو ظاہر ہو چکے ہیں اور جو مخفی ہیں۔ انہوں نے کہا ہم ظاہری اور مخفی فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو۔ انہوں نے کہا ہم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
حضرت ابو ایوبؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سورج غروب ہونے کے بعد تشریف لائے توآپؐ نے ایک آواز سنی۔ آپؐ نے فرمایا یہود اپنی قبروں میں عذاب دئیے جا رہے ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا جب ایک شخص اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور وہ اُسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں تو اس شخص (یعنی محمدﷺ ) کے بارہ میں کیا کہتا تھا؟ آپؐ نے فرمایا جومومن ہے وہ تو کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اسے کہا جائے گا تو آگ میں اپناٹھکانہ دیکھ لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ تجھے جنت میں ٹھکانہ دیا ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا وہ دونوں (ٹھکانوں ) کو ایک ساتھ دیکھے گا۔ (راوی) قتادہ کہتے ہیں اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس کی قبر ستر ہاتھ وسیع کی جاتی ہے اور اس دن تک وہ سبزہ سے بھر دی جاتی ہے جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاجب میت کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے تو جب لوگ (اسے دفن کر کے) لوٹتے ہیں تووہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔ ایک روایت میں (اِنَّ الْمَیِّتَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہِ کی بجائے) اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہِ وَتَوَلَّی عَنْہُ اَصْحَابُہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ترجمہ: اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مستحکم قول کے ساتھ استحکام بخشتا ہے٭۔ آپؐ نے فرمایایہ(آیت) عذابِ قبر کے بارہ میں نازل ہوئی ہے۔ اسے کہا جائے گا تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمدﷺ ہیں۔ یہ اللہ عزّوجل کا قول ہے یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الآخِرَۃ ترجمہ: اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لا ئے مستحکم قول کے ساتھ دنیوی زندگی میں اور آخرت میں استحکام بخشتا ہے ۔
حضرت براء بن عازبؓ اس آیت یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الآخِرَۃ ترجمہ: اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لا ئے مستحکم قول کے ساتھ دنیوی زندگی میں اور آخرت میں استحکام بخشتا ہے٭ کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ یہ عذابِ قبر کے بارہ میں نازل ہوئی۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ایک مومن کی روح نکلتی ہے تو اسے دو فرشتے ملتے ہیں جو اسے اوپر لے جاتے ہیں _راوی حماد کہتے ہیں پھر (راوی بدیل)نے اس(روح) کی عمدہ خوشبو اور مشک کا ذکر کیا_حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں آسمان والے کہیں گے زمین کی طرف سے ایک پاک روح آئی ہے۔ اللہ تجھ پر رحمت کرے اور اس جسم پر جس میں تو آباد تھی۔ پھر اسے اس کے رب عزّوجل کے پاس لے جایاجائے گاپھر وہ فرمائے گا اسے آخری مدت تک کے لئے لے جاؤ۔ انہوں نے بیان کیا کافر کی روح جب نکلتی ہے_ حماد کہتے ہیں (راوی بدیل) نے اس کی بدبو اور اس کے ملعون ہونے کا ذکر کیا _اور آسمان والے کہیں گے زمین کی طرف سے (ایک) خبیث روح آئی ہے۔ وہ (حضرت ابوہریرہؓ ) بیان کرتے ہیں کہا جائے گا اسے آخری مدت تک کے لئے لے جاؤ۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے اپنا کپڑا اپنی ناک پر اس طرح رکھ لیا۔