بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 78 hadith
حضرت ام سلمہؓ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ممکن ہے کہ اگر تیری عمر لمبی ہو تو تُو ایسے لوگ دیکھے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی مانند (کوڑے) ہوں وہ صبح اللہ کے غضب میں کریں گے اور شام اللہ کی ناراضگی میں کریں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو قریب ہے کہ تو ایسے لوگوں کو دیکھے جو اللہ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور شام اس کی لعنت میں کریں گے۔ ان کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی مانند (کوڑے) ہوں گے۔
حضرت مُستَوْرَدؓ جو بنو فہر کے بھائی ہیں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلہ میں صرف اتنی ہی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی اس میں ڈالے_ راوی یحیٰ نے اپنی شہادت والی انگلی سے دریا کی طرف اشارہ کیا _ اور دیکھے کہ وہ کیا لے کر لوٹتی ہے۔ ایک روایت میں (أَشَارَ یَحْیَ بِاالسَّبَّابَۃِ کی بجائے) وَأَشَارَاِسْمَعِیْلُ بِالْاِبْھَامِکے الفاظ ہیں کہ راوی اسماعیل نے اپنے انگوٹھے سے اشارہ کیا۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں ننگے بدن اور نامختون جمع کئے جائیں گے۔ میں نے کہایا رسولؐ اللہ! عورتیں اور مرد اکٹھے(ہوں گے؟) وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے؟رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عائشہؓ ! معاملہ اس سے زیادہ سنگین ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں۔ ایک روایت میں غُرْلًا کا ذکر نہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ آپؐ فرمارہے تھے تم پیدل، ننگے پاؤں، ننگے جسم اور نامختون حالت میں اللہ سے ملو گے۔ اور ایک روایت میں یَخْطُبُ کے لفظ کا ذکر نہیں۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمارے درمیان وعظ کے لئے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا اے لوگو ! تم اللہ کے حضور ننگے پاؤں ننگے بدن نامختون اکھٹے کئے جاؤ گے کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہُ وَعْدًا عَلَیْْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ ترجمہ: جس طرح ہم نے پہلی تخلیق کا آغاز کیا تھا اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ وعدہ ہم پر فرض ہے۔ یقینا ہم یہ کر گزرنے والے ہیں 1۔ غور سے سنو ! مخلوق میں سے سب سے پہلا جسے کپڑے پہنائے جائیں گے وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ سنو !قیامت کے دن بعض لوگ میری اُمت میں سے لائے جائیں گے اور انہیں بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ تب میں کہوں گا اے میرے رب یہ تو میرے اصحاب ہیں۔ تب کہا جائے گا کہ تجھے اُن کاموں کی خبر نہیں جو تیرے بعد ان لوگوں نے کئے۔ سو اُس وقت میں وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندہ نے کہی تھی۔ وَکُنْتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْئٍ شَہِیْدٌ۔ ۔ ۔ ترجمہ: اور میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان میں رہا پس جب تو نے مجھے وفات دے دی صرف ایک تو ہی ان پر نگران رہا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ اگر تو انہیں عذاب دے تو آخر یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کردے تو یقینا تو کامل غلبہ والا(اور)حکمت والا ہے۔ 2 آپؐ نے فرمایا پھرمجھے کہا جائے گا جب سے تو ان سے جدا ہوا یہ اپنی ایڑیوں کے بل پھر گئے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا لوگ تین گروہوں میں اکٹھے کئے جائیں گے، رغبت رکھنے والے، ڈرنے والے ہوں گے۔ اور دو ایک اونٹ پر سوارہوں گے اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر اور باقی لوگوں کو آگ اکٹھا کرے گی۔ وہ ان کے ساتھ رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے اور جہاں وہ قیلولہ کریں گے وہ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی اور جہاں وہ صبح کریں گے وہ بھی ان کے ساتھ صبح کرے گی اور جہاں وہ شام کریں گے وہ بھی ان کے ساتھ شام کرے گی۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ’’یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ۔ ۔ ۔ ۔ ٭ کے بارہ میں فرمایا جس دن لوگ تمام جہانوں کے رب کے حضور کھڑے ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایااُن میں سے ہر ایک اپنے پسینہ میں اپنے کانوں کے نصف تک (ڈوبا ہوا) کھڑا ہوگا۔ ایک روایت میں (یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُکی بجائے) یَقُوْمُ النَّاسُ ہے اور ایک روایت میں (یَقُوْمُ أَحَدُھُمْ فِیْ رَشْحِہِ اِلَی أَنْصَافِ أُذُنَیْہِ کی بجائے) حَتَّی یَغِیْبَ أَحَدُھُمْ فِیْ رَشْحِہِ اِلَی أَنْصَافِ أُذُنَیْہِ کے الفاظ ہیں (یعنی)یہانتک کہ ان میں سے ہر ایک اپنے پسینہ میں اپنے کانوں کے نصف تک ڈوبا ہوگا۔
حضرت مقداد بن اسودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن سورج مخلوق کے نزدیک کردیا جائے گا یہانتک کہ وہ ان سے ایک میل پر ہوگا۔ سلیم بن عامر کہتے ہیں اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میل سے آپؐ کی کیا مراد ہے؟ کیا زمین کی مسافت والا میل مراد ہے؟ یا میل سے مراد سرمہ ڈالنے کی سلائی ہے جس سے آنکھ میں سرمہ ڈالا جاتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا لوگ اپنے اعمال کے حساب سے (پسینہ میں ڈوبے) ہوں گے۔ بعض ان میں سے اپنے ٹخنوں تک اور بعض ان میں سے اپنے گھٹنوں تک اور بعض ان میں سے اپنی کمر تک پسینہ میں (ڈوبے) ہوں گے اور بعض کو پسینہ لگام ڈالے ہوئے ہوگا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ فرمایا۔