بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے۔ تم ان سے مختلف طریق اختیار کرو۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت جبرائیلؑ نے رسول اللہﷺ سے ایک معیّن گھڑی کے متعلق وعدہ کیا کہ وہ آئیں گے۔ وہ گھڑی آگئی مگر وہ نہ آئے۔ حضورؐ کے ہاتھ میں ایک عصا تھا۔ آپؐ نیاسے اپنے ہاتھ سے رکھ دیا اور فرمایا کہ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے ایلچی۔ پھر آپؐ نے دیکھا تو ایک پِلّا تخت کے نیچے تھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اے عائشہ یہ کتّا یہاں کب آیا؟ انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم ! مجھے نہیں پتہ۔ پھر آپؐ نے اس کے بارہ میں ارشاد فرمایا۔ چنانچہ اسے نکال دیا گیا۔ پھر جبرائیلؑ آئے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے وعدہ کیاتھامیں تمہارے لئے بیٹھا رہا مگر تم نہیں آئے۔ (جبرائیلؑ ) نے کہا کہ مجھے اس کتے نے جو آپ کے گھر میں تھا آنے سے روکے رکھا۔ ہم اس گھر میں جہاں کتا یا تصویر ہو داخل نہیں ہوتے۔ایک اور روایت میں (وَاعَدَ رَسُوْلَ اللَّہِﷺ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِیْ سَاعَۃٍکی بجائے) اِنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَعَدَ رَسُوْلَ اللَّہِﷺ اَنْ یَاتِیَہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت میمونہؓ نے مجھے بتایا کہ ایک دن رسول اللہﷺ صبح کے وقت خاموش خاموش سے تھے۔ اس وقت حضرت میمونہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے آج آپؐ کا چہرہ بدلا بدلا سالگ رہا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا جبرائیلؑ نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھے ملنے نہیں آیا۔ اللہ کی قسم اس نے میرے سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس دن رسول اللہﷺ کی یہی حالت رہی۔ پھر آپؐ کے دل میں پِلّے کا خیال آیا جو ہمارے خیمہ میں تھا۔ آپؐ نے اس کے متعلق ارشاد فرمایااوراسے نکال دیا گیا۔ پھر آپؐ نے اپنے ہاتھ میں پانی (کا برتن) لے کر اس جگہ پر بہا دیا۔ پھر جب شام ہوئی تو جبرائیلؑ آپؐ سے ملے۔ تب آپؐ نے ان سے فرمایا کہ گزشتہ رات تم نے مجھ سے ملاقات کا وعدہ کیا تھا۔ اس نے کہاہاں لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا کوئی تصویرہو۔ پھر اس روز صبح رسول اللہﷺ نے کتوں کے مارنے کا حکم فرمایا۔ آپؐ نے چھوٹے باغ کے کتوں کے مارنے کا حکم دیا اور بڑے باغ کے کتوں کو رہنے دیا۔
حضرت ابن عباسؓ حضرت ابو طلحہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جس گھر میں کتا یا تصویر ہو فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو طلحہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایسے گھر میں جہاں کتا یا تصویر ہو فرشتے نہیں آتے۔
حضرت زیدؓ بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے صحابی حضرت ابو طلحہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ فرشتے ایسے گھر میں جہاں تصویر ہو نہیں آتے۔ بُسر کہتے ہیں پھر اس کے بعد حضرت زیدؓ بیمار ہوئے اور ہم نے ان کی عیادت کی۔ ان کے دروازہ کا پردہ تھا جس میں تصویر تھی۔ وہ کہتے ہیں میں نے عبید اللہ الخولانی جو نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہؓ کے پروردہ تھے سے پوچھا۔ کیا حضرت زیدؓ نے ہمیں پہلے دن تصویروں کے بارہ میں نہیں بتایا تھا۔ عبیداللہ نے کہا کیا تم نے اس وقت ان سے یہ نہیں سنا کہ سوائے کپڑے میں بنی ہوئی تصویر کے۔
حضرت ابو طلحہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایسے گھر میں جہاں تصویر ہو فرشتے نہیں آتے۔ بُسر کہتے ہیں پھر جب حضرت زیدؓ بن خالد جُہنی بیمار ہوئے اور ہم ان کی عیادت کے لئے گئے۔ جب ہم ان کے گھر میں تھے تو کیا دیکھا کہ ایک پردہ پر کچھ تصاویر بنی ہوئی ہیں۔ تب میں نے عبیداللہ الخولانی سے کہا کیا انہوں نے ہمیں تصاویر کے بارہ میں کچھ نہیں بتایاتھا؟ عبیداللہ نے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ سوائے کپڑے میں بُنی ہوئی تصویر۔ کہا تم نے ان سے نہیں سنا تھا؟ (راوی کہتے ہیں ) میں نے کہا نہیں عبیداللہ نے کہا کیوں نہیں بلکہ انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔
حضرت ابو طلحہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس گھر میں کتا یا مورتیاں ہوں اس میں فرشتے نہیں آتے۔ راوی کہتے ہیں تب میں حضرت عائشہؓ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ یہ مجھے بتا رہے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں کتا یا مورتیاں ہوں وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ کیا آپ نے رسول اللہﷺ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا نہیں لیکن میں تمہیں وہ ضرور بتاؤں گی جو میں نے آپؐ کو کرتے دیکھا ہے۔ میں نے آپؐ کو اپنے غزوہ کے لئے نکلتے ہوئے دیکھا۔ تب میں نے ایک مخملی کپڑا لیااور اس سے دروازہ کا پردہ بنالیا۔ جب آپؐ آگے بڑھے اور پردہ کو دیکھاتو میں نے آپؐ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔ پھر آپؐ نے اسے کھینچا یہانتک کہ اسے پھاڑ دیا یا کاٹ دیا اور فرمایا کہ یقینا اللہ ہمیں اس بات کا حکم نہیں دیتا کہ ہم پتھروں اور مٹی کوکپڑے پہنائیں۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے اس (کپڑے) کو کاٹ کر دو تکیے بنالئے۔ اور میں نے کھجور کی چھال ان کے اندر بھری۔ آپؐ نے میرے اس کام کو بُرا نہیں جانا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ہمارا ایک پردہ تھا۔ جس پر پرندے کی تصویر تھی۔ جب بھی کوئی داخل ہونے والا داخل ہوتا تو وہ (پردہ) اس کے سامنے آجاتا۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا اس (پردہ) کو تبدیل کردو، کیونکہ جب بھی میں اندر آتا ہوں تو اس (پردہ) کو دیکھتا ہوں اور مجھے دنیا یاد آجاتی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ہمارے ہاں ایک چادر تھی جس کے بارہ میں ہم کہتے تھے کہ اس کے نقوش ریشمی ہیں اس(چادر) کو ہم پہنا کرتے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں اس کے پھاڑنے کا حکم نہیں فرمایا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک سفر سے تشریف لائے تومیں نے اپنے دروازے پر ایسا پردہ لٹکایا ہوا تھا۔ جس پر پروں والے گھوڑوں کی تصاویر تھیں۔ حضورؐ نے مجھے اس کے اتارنے کا حکم دیا۔ چنانچہ میں نے اسے کھینچ کر اتار دیا۔ایک اور روایت میں ’’قَدِمَ مِنْسَفَرٍ‘‘کے الفاظ نہیں ہیں۔