بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایک ایسا باریک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس پر تصویر تھی۔ اس پر حضورؐ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ چنانچہ آپؐ نے اس پردہ کو پکڑا اور پھاڑ دیا اور پھر فرمایاکہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں پر ہوگا جو اللہ کی تخلیق میں مشابہت اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک اور روایت میں (عَلَیکی بجائے) عَلَیْہَا کے الفاظ ہیں اور تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَھَتَکَہُ کی بجائے) اَھْوٰی اِلَی الْقِرَامِ فَھَتَکَہُ بِیَدِہِ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں (اِنَّ مِنَ النَّاسِ عَذَابًا کی بجائے) اِنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں نے ایک مخملی پردہ لگایا ہوا تھا جس پر تصاویر تھیں۔ حضورؐ نے اسے ہٹا دیا۔ تو میں نے اس سے دو تکیے بنا لئے۔
عبدالرحمٰن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت عائشہؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں نے ایک پردہ سے جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ اپنے چھوٹے سے حجرہ پرلٹکایا تھا٭۔ جب آپؐ نے اسے دیکھا تو پھاڑ دیا اور آپؐ کے چہرہ کا رنگ بدل گیا اور فرمایا اے عائشہؓ ! قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی تخلیق سے مشابہت کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھر ہم نے اسے کاٹا اور اس سے ایک یا دو تکیے بنا لئے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آپ کے پاس کپڑا تھا جس پرتصاویر تھیں جوچھوٹے حجرہ پرپھیلا ہوا تھا۔ نبیﷺ اس کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے۔ ٭آپؐ نے فرمایاا سے میرے سامنے سے ہٹا دو۔ چنانچہ میں نے اسے ہٹا دیا اور اس کے تکیے بنالئے۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا۔ جس پر تصاویر تھیں۔ رسول اللہﷺ اندرتشریف لائے اور آپؐ نے اسے اتار دیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے اسے کاٹ کر دو تکیے / کُشن بنالئے۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ان پر آرام فرماتے تھے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک تکیہ خریداجس پر تصاویر تھیں۔ جب رسول اللہﷺ نے اسے دیکھا۔ آپؐ دروازہ پر کھڑے ہوگئے اور اندر نہیں آئے۔ اس پر میں سمجھ گئی یاکہا آپؐ کے چہرہ سے ناپسندیدگی کا اظہار ہوا۔ اس پروہ کہنے لگیں یا رسولؐ اللہ! میں اللہ اور اس کے رسولؐ کے حضور توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس تکیہ کا کیا قصہ ہے؟ حضرت (عائشہؓ ) نے عرض کیا کہ یہ میں نے آپؐ کے لئے خریدا ہے تاکہ آپؐ اس پر بیٹھیں اور اس سے سہارا لیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا ان تصویر بنانے والوں کوعذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا جو تم نے پیدا کیا تھا اسے زندہ کرو۔ اور آپؐ نے فرمایا یقینا وہ گھر جس میں تصویریں ہوں، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے اس کے دو تکیے بنا لئے اور آپﷺ گھر میں ان پر آرام فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے یہی روایت کی۔ بعض نے بعض کی نسبت ان سے (یہ روایت) مکمل بیان کی ہے۔ میرے بھتیجے الماجشون نے مزید کہا کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا میں نے اسے لے کر دو تکیے بنالئے جن پر آپؐ گھر میں سہارالیا کرتے تھے۔
حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیاکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ لوگ جوتصاویر بناتے ہیں وہ قیامت کے دن عذاب دئیے جائیں گے (اور) ان سے کہا جائے گا جو تم نے بنایاہے اسے زندہ کرو۔
حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب تصویریں بنانے والوں پر ہوگا۔ایک اور روایت میں (اِنَّ اَشَدَّ النَّاسِ کی بجائے) اَشَدُّ النَّاسِ کے الفاظ ہیں۔ اور ایک اور روایت میں اِنَّ مِنْ اَشَدِّ النَّاسِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ عَذَابًا الْمُصَوِّرُوْنَ کے الفاظ ہیں
مسلم بن صبیح سے روایت ہے کہ میں ایک گھر میں مسروق کے ساتھ تھا جہاں حضرت مریم کی مورتیاں تھیں۔ اس پر مسروق نے کہا یہ کسریٰ کی مورتیاں تھیں۔ میں نے کہا نہیں یہ مریم کی مورتیاں ہیں۔ مسروق نے کہا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں میں عذاب کے لحاظ سے سب سے زیادہ سخت صورتیں بنانے والے ہوں گے۔
سعید بن ابو الحسن سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباسؓ کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایسا شخص ہوں کہ جو یہ صورتیں بناتا ہوں۔ پس آپ مجھے اس بارہ میں فتویٰ دیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ میرے پاس آؤ۔ چنانچہ وہ ان کے قریب آیا۔ پھرحضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ میرے قریب ہوجاؤ۔ وہ اور قریب ہو گیا یہانتک کہ حضرت ابن عباسؓ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا اور کہاکہ میں تمہیں ایسی بات بتاؤں گا جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر صورت بنانے والا آگ میں جائے گا۔ اس کی ہر تصویرمیں اس کے لئے جان ڈالے گا اور وہ اسے جہنم میں عذاب دے گی۔ اور (ابن عباسؓ ) نے فرمایا اگر تم نے لازمًا(یہی کام) کرنا ہے تو درخت بناؤ اور وہ جس میں جان نہیں ہے۔