بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا اگر دس یہودی میری پیروی کرلیتے تو روئے زمین کا ہر یہودی مسلمان ہو جاتا۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نبیﷺ کے ساتھ ایک کھیت میں جارہا تھا اور آپؐ ایک چھڑی سے سہارا لے رہے تھے۔ آپؐ یہود کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگاآپؐ سے روح کے بارہ میں پوچھو۔ انہوں نے کہا اس بارہ میں کس شک نے تم لوگوں کو آپؐ کی طرف متوجہ کیاہے؟ کہیں وہ تمہیں ایسا جواب نہ دیں جسے تم ناپسند کرو؟ انہوں نے کہا ان سے سوال کرو۔ پھر ان میں سے ایک آپؐ کی طرف اُٹھ کر آیا اور آپؐ سے روح کے متعلق سوال کیا۔ وہ کہتے ہیں نبیﷺ خاموش رہے اور اسے کچھ جواب نہ دیا۔ میں سمجھ گیا کہ آپؐ پر وحی ہو رہی ہے۔ راوی کہتے ہیں میں اپنی جگہ کھڑا رہا۔ پھر جب وحی نازل ہوگئی تو آپؐ نے یہ فرمایا۔ وَیَسْئَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی۔ ۔ ۔ الاآیۃ (ترجمہ) اور وہ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہدے کہ روح تیرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں معمولی علم کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔ ایک روایت میں (قَالَ بَینَمَا اَنَا اَمْشِی مَعَ النَّبِیِّﷺ فیِ حَرْثٍ کی بجائے) قَالَ کُنْتُ اَمْشِی مَعَ النَّبِیِّﷺ فیِ حَرْثٍ بِالْمَدِیْنَۃ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلاّ قَلیلًااور ایک روایت میں وَمَا اُوتوُاکے الفاظ ہیں۔
حضرت خبابؓ بیان کرتے ہیں عاص بن وائل کے ذمہ میرا کچھ قرض تھا۔ میں اس کے پاس اس کا تقاضا کرنے گیاتو اس نے مجھے کہا میں تجھے ہرگز ادائیگی نہ کروں گا جب تک تو(حضرت) محمد (ﷺ ) کا انکار نہ کرے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا میں تمہارے مر کر دوبارہ اٹھنے تک بھی (حضرت) محمد (ﷺ ) کا انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا میں موت کے بعد اُٹھایا جاؤں گا اور جب مال اور اولاد کی طرف آؤں گا تو تیرا قرض ادا کروں گا۔ وہ کہتے ہیں پھر یہ آیت نازل ہوئی اَفَرَ أَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِآیَاتِنَا۔ ۔ ۔ ترجمہ: کیا تو نے اس پر غور کیا جس نے ہماری آیات کا انکار کر دیا اور کہا کہ ضرور میں مال اور اولاد دیا جاؤں گا۔ کیا اس نے غیب پر اطلاع پائی ہے یا رحمن کی جناب سے کوئی عہد لیا ہے؟ خبردار! ہم ضرور لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور ہم اس کے لئے عذاب کوبڑھاتے چلے جائیں گے اور اس کے وارث ہو جائیں گے جس کی وہ باتیں کرتا ہے جبکہ وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔ایک روایت میں ہے کہ میں جاہلیت میں لوہار تھا اور عاص بن وائل کے لئے میں نے کام کیا اور میں اس کے پاس تقاضا کرنے آیا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ابو جہل نے یہ دعا کی تھی اے اللہ اگر یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا ہم پر ایک دردناک عذاب لے آ۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ وَمَاکَانَ اللَّہُ لِیُعَذِّبَھُمْ۔ ۔ ۔ ترجمہ: اور اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ تو ان میں موجود ہو اور اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں اور آخر ان میں کیا بات ہے جو اللہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ حرمت والی مسجد سے لوگوں کو روکتے ہیں ۔ آیت کے آخر تک۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ابو جہل نے کہا تھا کیا (حضرت) محمد(ﷺ ) تم لوگوں کی موجودگی میں (سجدہ کرتے ہوئے) اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں اسے جواب دیا گیا ہاں۔ اس پر اس نے کہا لات اور عُزّٰی کی قسم ! اگر میں انہیں ایسا کرتے دیکھوں تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا۔ یا ان کا چہرہ مٹی میں ملا دوں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ رسول اللہﷺ کے پاس آیااور آپؐ نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے سوچاکہ آپ کی گردن روندے۔ راوی کہتا ہے وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ اچانک الٹے پاؤں واپس ہوا اور وہ اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے بچا رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں اس سے پوچھا گیا۔ تجھے کیا ہوا؟اس نے کہا میرے اور آپؐ کے درمیان ایک آگ کی خندق اور خوف اور پر تھے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا عضو عضو اچک لیتے۔ راوی کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ہمیں نہیں معلوم یہ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت میں ہے(یاراوی کو) یہ پہنچی ہے۔ خبردار!انسان یقینا سرکشی کرتا ہے۔ (اس لئے) کہ اس نے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھا۔ یقینا تیرے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ کیا تو نے اس شخص پر غور کیا جو روکتا ہے؟ ایک عظیم بندہ کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ کیا تو نے غور کیا کہ اگر وہ(عظیم بندہ)ہدایت پر ہو؟یا تقویٰ کی تلقین کرتا ہو؟۔ کیا تو نے غور کیا کہ اگر اس (نماز سے روکنے والے) نے (پھر بھی)جھٹلا دیا اور پیٹھ پھیر لی؟ _(اس سے مراد ابو جہل ہے)_ تو کیا وہ نہیں جانتا کہ یقینا اللہ دیکھ رہا ہے؟ خبردار! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم یقینا اُسے پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے جھوٹی خطاکار پیشانی کے بالوں سے۔ پس چاہیے کہ وہ اپنی مجلس والوں کو بُلا دیکھے ہم ضرور دوزخ کے فرشتے بُلائیں گے۔ خبردار!اس کی پیروی نہ کر اور سجدہ ریز ہوجا اور قرب(حاصل کرنے) کی کوشش کر۔ ایک روایت میں اَمَرَہُ بِمَا اَمَرَہُ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں ہے فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ یعنی اپنی قوم کو۔
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے سامنے لیٹے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا اے ابوعبدالرحمن ! ایک واعظ کندہ دروازوں کے پاس بیان کرتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ قرآن مجید میں جو آیت دخان ہے (دھویں والا نشان) وہ دخان (دھواں )آئندہ ہوگا وہ کفار کا سانس روک دے گا اور مومنوں کو زکام سا ہو گا۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا _ اور وہ بیٹھ گئے اور غصہ میں تھے _ اے لوگو! اللہ سے ڈرو۔ تم میں سے جس شخص کو علم ہو وہ بیان کرے جو وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا وہ کہے اللہ بہتر جانتا ہے کیونکہ اللہ بزرگ و برتر نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا تم کہو میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں اور جب رسول اللہﷺ نے لوگوں کی دین کی طرف سے روگردانی دیکھی تو آپؐ نے دعا کی اے اللہ! سات سال یوسف کے سات سالوں کی طرح!۔ راوی کہتے ہیں پھر قحط نے ان کو آ پکڑایہانتک کہ اس نے ہر چیز کو تباہ کردیا، یہانتک کہ انہوں نے بھوک کی وجہ سے کھالیں اور مُردار کھائے اور ان میں سے کوئی آسمان کی طرف دیکھتا تو دھواں سا دیکھتا پھر ابو سفیان آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے محمدؐ ! آپ آئے ہیں اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور آپؐ کی قوم ہلاک ہورہی ہے پس اللہ سے ان کے لئے دعا کریں اللہ عزّوجل نے فرمایا فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔ ۔ ۔ پس انتظار کر اس دن کا جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ ایک بہت دردناک عذاب ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ضرور تم (انہی باتوں کا) اعادہ کرنے والے ہوتک۔ فرمایا کیا آخرت کا عذاب ہٹادیا جائے گا جس دن ہم بڑی سختی سے (تم پر)ہاتھ ڈالیں گے۔ یقینا ہم انتقام لینے والے ہیں۔ پس بَطْشَۃ(گرفت) بدر کا دن ہے۔ دُخان، بطشہ اور لزام (عذاب کا چمٹ جانا) اور روم کی نشانی گزر چکی ہے۔
38:87, 44:11-12, 44:16-17
مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہؓ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا۔ میں مسجد میں ایک شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن کریم کی تفسیر کر رہا ہے۔ وہ اس آیت یَومَ تَاتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ ٭کی تفسیر یہ کر رہا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گاجو ان کے سانس روک دے گا یہانتک کہ ان کی زکام کی سی کیفیت ہوجائے گی۔ اس پر حضرت عبداللہؓ نے فرمایا جس شخص کے پاس علم ہے وہ اسے بیان کرے اور جس کے پاس علم نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ اللہ اعلم کہے۔ کسی شخص کی دانائی میں سے ہے کہ وہ اس بات کے بارہ میں جسے وہ نہیں جانتا کہے۔ اللہ اعلم۔ اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے۔ بات یوں ہے کہ جب قریش نے نبیﷺ کی نافرمانی کی تو آپؐ نے ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کی قحط سالی کی طرح قحط سالی کے لئے دعا کی۔ پس انہیں قحط اور تنگی نے آلیا یہانتک کہ جب کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو وہ اپنے اور اس کے درمیان بوجہ مصیبت کے دھواں سا دیکھتا یہانتک کہ انہوں نے ہڈیاں کھائیں۔ پھر ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور کہا یارسولؐ اللہ! مضر کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کیجئے کیونکہ وہ ہلاک ہو رہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا مضر کے لئے تم بڑے دلیر ہو۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے ان کے لئے اللہ سے دعا کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا۔ ۔ ۔ ترجمہ: یقینا ہم عذاب کو تھوڑی دیر کے لئے دور کردیں گے ضرور تم اپنی باتوں کا اعادہ کرنے والے ہو۔ راوی کہتے ہیں پھر ان پر بارش ہوئی۔ پھر جب ان کو راحت و آرام ہوا تو راوی کہتے ہیں پھر وہ اپنے ان اعمال کی طرف لوٹ گئے جن پر وہ تھے۔ راوی کہتے ہیں تو اللہ عز ّوجل نے یہ آیت نازل فرمائی فَارْتَقِبْ یَومَ تَاْتِی السَّمَائُ۔ ۔ ۔ ترجمہ: پس انتظار کر اس دن کا جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ ایک بہت دردناک عذاب ہوگا۔ جس دن ہم بڑی سختی سے (تم پر) ہاتھ ڈالیں گے یقینا ہم انتقام لینے والے ہیں 1۔ راوی کہتے ہیں یعنی بدر کے دن۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں پانچ (نشان) گزر چکے ہیں دخان، (دھواں ) لِزام (چمٹ جانا) اور روم(کی نشانی) اور بطشہ (گرفت) اور قمر(شق قمر)۔
حضرت ابی بن کعبؓ اللہ تعالیٰ کے اس قول کہ ’’وَلَنُذِیْقَنَّھُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی ترجمہ: ہم یقینا انہیں بڑے عذاب سے ورے چھوٹے عذاب میں سے کچھ چکھائیں گے۔‘‘ 2کے بارہ میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد دنیا کے مصائب ہیں او رروم اور بطشہ یا دخان۔ شعبہ کو شک ہے بطشہ یا دخان کے بارہ میں۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارک میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا رسول اللہﷺ نے فرمایا تم گواہ رہو۔