بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ منٰی میں تھے۔ جب چاند دو ٹکڑے ہوا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے تھا اور دوسرا اس سے ورے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا تم گواہ رہو۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارک میں چاند دو ٹکڑے ہوا۔ ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانک لیا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ! گواہ رہ۔ ایک روایت میں اِشْھَدُوْا اشْھَدُوْا کے الفاظ ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ انہیں کوئی نشان دکھائیں۔ تو آپؐ نے انہیں دو دفعہ چاند کے ٹکڑے ہونے کا نشان دکھایا۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ چاند دو ٹکڑے ہوا اور ایک روایت میں اِنْشَقَّ الْقَمَرُ عَلٰی عَھْدِ رَسُولِ اللّٰہِﷺ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی بھی اذیت ناک باتوں پر جس کو وہ سنتا ہے صبر کرنے والا نہیں۔ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کے لئے بیٹا قرار دیا جاتا ہے۔ پھر بھی وہ انہیں صحت و عافیت سے رکھتا ہے اور انہیں رزق دیتا ہے۔ ایک روایت میں یُجْعَلُ لَہُ الْوَلَدُ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت عبداللہؓ بن قیس بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اذیت ناک باتوں کو سن کر کوئی بھی صبر کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اس کے لئے ہمسرٹھہراتے ہیں اور اس کے لئے بیٹا بناتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ انہیں رزق دیتا ہے اور انہیں صحت و سلامتی سے رکھتا ہے اور انہیں عطا فرماتا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص سے جسے جہنمیوں میں سب سے ہلکا عذاب ہوگا فرمائے گااگر دنیا اور جو بھی اس میں ہے تیرے پاس ہو تو کیاتو اسے فدیہ کے طور پر دے دیگا؟وہ کہے گا ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تم سے اس سے بھی آسان بات چاہی تھی جبکہ تم آدم کی پشت میں تھے کہ تم شرک نہ کرنا-(راوی کہتے ہیں ) میرا خیال ہے کہ یہ بھی - فرمایا کہ میں تمہیں آگ میں داخل نہ کروں گا مگر تونے شرک پر اصرار کیا۔ ایک روایت میں وَ لَا اُدْخِلَکَ النَّارَ کے الفاظ نہیں۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا بتاؤ تواگر تیرے پاس زمین بھر سونا ہو کیا تو اسے فدیہ میں دے دے گا۔ وہ کہے گا ہاں، تواسے کہا جائے گا تجھ سے اس سے بھی زیادہ آسان بات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایک روایت میں (فَیُقَالُ لَہُ قَدْ سُئِلْتََ اَیْسَرَ مِنْ ذَلِکَکی بجائے) فَیُقَالُ لَہُ کَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا ھُوَ اَیْسَرُ مِنْ ذَلِکَکے الفاظ ہیں۔
قتادہ سے روایت ہے ہمیں حضرت انس بن مالکؓ نے بتایا کہ ایک شخص نے کہا یا رسولؐ اللہ ! قیامت کے دن کافر کا حشر منہ کے بل کس طرح ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا کیا وہ ذات جس نے اسے اس دنیا میں دو پاؤں پر چلایا ہے اس بات پر قادر نہیں کہ وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلائے۔ قتادہ نے کہا کیوں نہیں، ہمارے رب کی عزت کی قسم!