بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 58 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک دوسرے کے قریب رہو اور سیدھا راستہ اختیارکرو اور جان لوکہ تم میں سے کوئی اپنے عمل سے نجات نہیں پا ئے گا۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! آپؐ بھی نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اور میں بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل مجھے ڈھانپ لے۔ایک روایت میں اَبْشِرُوْا کے الفاظ زائد ہیں۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبیﷺ کو فرماتے سنا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرتااور نہ اسے آگ سے پناہ دے سکتا ہے اور مجھے بھی نہیں ہاں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کے ساتھ۔
حضرت مغیرہؓ بن شعبہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے نماز ادا فرمائی یہانتک کہ آپؐ کے پاؤں سوج گئے۔ آپؐ سے عرض کیا گیا آپؐ اس قدر مشقت اٹھاتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اگلے پچھلے گناہ سے مُنَزَّہ کیا ہوا ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کہتے ہیں نبیﷺ (نماز میں ) کھڑے ہوئے یہانتک کہ آپؐ کے پاؤں سوج گئے۔ انہوں (صحابہؓ ) نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اگلے پچھلے گناہ سے منزّہ کیا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا میں شکرگزار بندہ نہ بنوں؟
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہؓ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا سیدھا راستہ اختیار کرو، ایک دوسرے کے قریب ہوجاؤ اور بشارت دو کیونکہ کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرتا۔ انہوں (صحابہؓ ) نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ بھی نہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں بھی نہیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ اپنی جناب سے رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔ اور جان لو کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پیارا عمل وہ ہے جو سب سے زیادہ باقاعدہ ہواگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ ایک روایت میں اَبْشِرُوا کا لفظ نہیں ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں جب رسول اللہﷺ نماز پڑھتے تو(اتنالمبا) قیام فرماتے کہ آپؐ کے پاؤں متورم ہو جاتے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ!آپؐ (یہ) کرتے ہیں؟ جب کہ اللہ نے آپؐ کو اگلے پچھلے گناہوں سے منزّہ کیا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اے عائشہؓ ! کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
شقیق بیان کرتے ہیں ہم حضرت عبداللہؓ کے انتظار میں ان کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمارے پاس سے یزید بن معاویہ نخعی گزرے۔ ہم نے کہا ان (حضرت عبداللہؓ ) کو ہماری موجودگی کی اطلاع دو۔ وہ ان کے پاس اندر گئے اور حضرت عبداللہؓ بلا توقف باہرہمارے پاس آگئے اور فرمایا کہ مجھے تمہاری موجودگی کی اطلاع کردی گئی تھی مجھے تمہارے پاس باہر آنے سے اس بات نے روکا کہ میں نے پسندنہ کیا کہ تم اکتا جاؤ۔ یقینا رسول اللہﷺ ہماری اکتاہٹ کے ڈر سے دنوں وعظ کے سلسلہ میں ہمارا خیال رکھا کرتے تھے۔
شقیق بن ابی وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہؓ ہمیں ہر جمعرات کے دن نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ ایک شخص نے انہیں کہا اے ابو عبدالرحمن! ہمیں آپ کی باتیں اچھی لگتی ہیں اور ہمیں پسند آتی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہر روز وعظ کیا کریں۔ اس پر حضرت عبداللہؓ نے فرمایا مجھے صرف تمہاری اکتاہٹ کا ڈر اس بات سے روکے ہوئے ہے کہ تمہارے سامنے وعظ کروں۔ رسول اللہﷺ بھی ہماری اکتاہٹ کے ڈر سے دنوں وعظ کے سلسلہ میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔