بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن دوزخیوں میں سے دنیا والوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والا شخص لایا جائے گا اور اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر کہاجائے گا اے ابن آدم ! کیا تونے کبھی خیر دیکھی ہے؟ کیا کبھی نعمت تیرے پاس سے گزری ہے؟ وہ کہے گا نہیں اللہ کی قسم ! اے میرے رب! پھر جنتیوں میں سے اسی شخص کو لایا جائے گا جو دنیامیں سب سے زیادہ دکھی تھا اور اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا اور اسے کہا جائے گا اے ابن آدم!کیا کبھی تکلیف دیکھی؟ کیا کبھی کوئی دکھ تیرے پاس سے گذرا؟ وہ کہے گا نہیں اللہ کی قسم! اے میرے رب۔ نہ کبھی مجھے تکلیف دہ حالات کا سامنا ہو اور نہ کبھی کوئی مشکل پیش آئی اور نہ میں نے کبھی کسی قسم کی سختی دیکھی۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی مومن کی ایک نیکی پر بھی کمی نہیں کرتا۔ اس کا دنیا میں بھی بدلہ دیا جاتا ہے اور اسے اس کا آخرت میں بھی بدلہ دیا جائے گااور جو کافر ہے اسے اس کی نیکیوں کا بدلہ جو اس نے اللہ کے لئے کیں دنیا میں دے دیا جاتا ہے یہانتک کہ جب وہ آخرت میں جائے گا تو اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کی اسے جزا ء دی جائے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب کافر کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اسے اس کا بدلہ دنیا میں ہی دیا جاتا ہے اور جو مومن ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کی نیکیوں کا آخرت کے لئے ذخیرہ کرتا ہے اور دنیا میں اس کو اپنی اطاعت کی بناء پر رزق دیتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے جسے ہواہمیشہ جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر ہمیشہ آزمائش وارد ہوتی رہتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے جو ہلتا نہیں یہانتک کہ وہ اسے کاٹ کررکھ دیتی ہے۔عبدالرزاق کی روایت میں (تُمِیْلُہُ کی بجائے) تُفِیْئُہُ کے الفاظ ہیں (یہ الفاظ قریبًا ہم معنٰی ہیں۔)
حضرت کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھڑی فصل کی طرح ہے جسے ہوا جھکاتی ہے اور کبھی اسے گراتی ہے کبھی اسے کھڑاکرتی ہے یہانتک کہ وہ پک کر تیارہوجاتی ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو اپنی جڑ پر کھڑا رہتا ہے جسے کوئی چیز نہیں جھکاتی۔ پھر اس کا اکھڑنا بیک دفعہ ہوتاہے۔
عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والدسے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھڑی فصل کی طرح ہے جسے ہوا جھکاتی ہے کبھی اسے گراتی ہے کبھی اُسے کھڑا کر دیتی ہے یہانتک کہ اس کا وقت آجاتا ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو اپنی جڑ پر کھڑا رہتا ہے۔ اس پر کوئی آفت نہیں آتی یہانتک کہ اس کا اکھڑنا بیک دفعہ ہوتا ہے۔ایک روایت میں مَثَلُ الْکَافِرِ کَمَثَلِ الْاَرْزَۃِکے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں مَثَلُ الْکَافِرِ مَثَلُ الْاَرْزَۃِکے الفاظ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کا پت جھڑ نہیں ہوتااور وہ مسلمان کی مثال ہے۔ مجھے بتاؤ کہ وہ کونسا درخت ہے۔ لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف گیا۔ حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں شرما گیا۔ پھر صحابہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہمیں بتائیے کہ وہ کونسا درخت ہے؟ راوی کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا وہ کھجور کادرخت ہے۔ وہ(حضرت عبداللہؓ ) کہتے ہیں میں نے اس بات کا ذکر حضرت عمرؓ سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تم کہہ دیتے کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو مجھے فلاں، فلاں چیز سے(بھی) زیادہ پسند ہوتا۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن اپنے صحابہؓ سے فرمایا مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے جس کی مثال مومن کی مثال ہے؟ لوگ جنگل کے درختوں میں سے درختوں کا ذکر کرنے لگے۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور ہے میں اسے بیان کرنے کا ارادہ کرنے لگا مگر وہاں بزرگ لوگ موجود تھے اس لئے میں بات کرنے سے ڈرا۔ پس جب وہ خاموش ہوگئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایاوہ کھجور ہے۔ایک روایت میں ہے کہ میں مدینہ تک(کے سفر میں ) حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ تھا۔ میں نے انہیں رسول اللہﷺ سے صرف ایک روایت کرتے ہوئے سنا۔ انہوں نے بیان کیا ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے تو آپؐ کے پاس کھجور کے پودے کا گودا لایا گیا۔ ایک روایت میں (فَاُتِیَ بِجُمَّارٍکی بجائے) اُتِیَ رَسولُ اللّٰہﷺ بِجُمَّارٍ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے تو آپؐ نے فرمایا مجھے اس درخت کے بارہ میں بتاؤ جو مسلمان شخص کی طرح ہے اس کے پتے نہیں جھڑتے۔ (راوی) ابراہیم کہتے ہیں کہ - شاید مُسْلِم نے کہا تھا وَتُؤْتِیْ اُکُلَھَا - اور اس طرح میں نے اپنے علاوہ دوسروں کے پاس وَ لَا تُؤْتِیْ اُکُلَھَا کے الفاظ موجود پائے۔ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور ہے میں نے دیکھا کہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ بات نہیں کر رہے تو میں نے بھی بات کرنے کو یا کچھ کہنے کومناسب نہیں سمجھا۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں تمہارا یہ کہہ دینا مجھے فلاں فلاں چیز سے (بھی)زیادہ محبوب ہوتا۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے سنا۔ یقینا شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ جزیرئہ عرب میں مسلمان اس کی عبادت کریں لیکن وہ ان کے درمیان فساد ڈالنے سے(مایوس نہیں ہوا)۔