بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سعدؓ بن مالک کے سواکسی اور کے لئے اپنے ماں باپ کو کبھی اکٹھا نہیں کیا۔ اُحد کے دن آپؐ، سعدؓ سے فرمانے لگے تیر چلاؤ تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اُحد کے دن(فِدَاکَ اَبِیْ وَ اُمِّیْ فرما کر) میرے لئے اپنے ماں باپ کو اکٹھا کیا۔
عامر بن سعداپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اُحد کے دن نبیﷺ نے ان کے لئے اپنے والدین کو اکٹھا کیا انہوں نے کہا کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی تھا جس نے مسلمانوں کو جلایا تھا نبیﷺ نے ان (سعدؓ )سے فرمایا تیرچلاؤ تم پر میرے ماں باپ قربان۔ حضرت سعدؓ کہتے ہیں پھر میں نے وہ تیر جس میں پھل نہیں تھا اس کے پہلو میں مارا جس کی وجہ سے وہ مر گیا اور اس کی پردہ دری ہوگئی اور میں نے دیکھا کہ نبیﷺ خوشی سے کھل کھلا کرہنس پڑے۔
مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے بارہ میں کئی ایک قرآنی آیات نازل ہوئیں۔ مصعب نے کہا کہ سعدؓ کی ماں نے قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے کبھی بات نہیں کرے گی یہانتک کہ وہ اپنے دین کا انکار کردے۔ چنانچہ نہ وہ کھاتی اور نہ پیتی۔ انہوں نے (سعدؓ سے کہا) تو بیان کیا کرتا ہے کہ اللہ تمہیں اپنے والدین سے احسان کی تاکید کرتا ہے اور میں تمہاری ماں ہوں اور میں تمہیں اس کا حکم دے رہی ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ تین روز تک وہ اس حال میں رہیں یہانتک کہ کمزوری کی وجہ ان پر غشی طاری ہوگئی پھر ان کا بیٹا جسے عمارۃ کہا جاتا تھا کھڑا ہوا اور انہیں پانی پلایا پھر وہ سعد کو بد دعا دینے لگیں تب اللہ عزوجل نے قرآن میں یہ آیت اتاری وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ۔ ۔ ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے حقوق میں احسان کی تا کیدی نصیحت کی1وَاِنْ جَاھَدَاکَ۔ ۔ ۔ اور اگر وہ دونوں (بھی) تجھ سے جھگڑا کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرا (تو ان دونوں کی اطاعت نہ کر اور اس میں یہ بھی ہے: وَصَاحِبْھُمَا فِیْ الدُّنْیَا۔ ۔ ۔ اور دونوں کے ساتھ دنیا میں دستور کے مطابق رفاقت جاری رکھو2۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس بڑا غنیمت کا مال آیا اس میں ایک تلوار (بھی) تھی چنانچہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیجئے میرے حال سے آپؐ واقف ہیں لیکن حضورؐ نے فرمایا کہ اسے وہیں لوٹا دو جہاں سے تم نے اسے لیا ہے۔ پھر میں گیا یہانتک کہ جب میں نے اسے غنیمت کے مال میں رکھنے کا ارادہ کیا تو میرے نفس نے مجھے ملامت کیا پھر میں رسول اللہﷺ کی طر ف لوٹا اور عرض کیا یہ مجھے دے دیجئے۔ آپؐ نے مجھ سے سختی سے فرمایا اسے وہیں رکھ دو جہاں سے یہ تم نے لی ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ۔ ۔ ۔ وہ تجھ سے مال غنیمت کے بارہ میں پوچھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہتے ہیں پھر میں بیمار پڑ گیا۔ میں نے نبیﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا چنانچہ آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا مجھے اجازت دیں کہ اپنے مال کو جسے چاہوں تقسیم کروں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے انکار کیا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر نصف (کے بارہ میں اجازت دے دیں۔) وہ کہتے ہیں پھرآپؐ نے انکار فرمایا میں نے عرض کیا کہ ایک تہائی۔ وہ کہتے ہیں اس پر آپؐ خاموش رہے۔ پھر اس کے بعد ایک تہائی جائز ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں پھر میں انصارؓ اور مہاجرینؓ کے ایک گروہ میں آیا تو انہوں نے کہا آؤ ہم تمہیں کھلائیں اور شراب پلائیں اور یہ شراب حرام کئے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر میں ان کے ساتھ ایک حَشّ میں آیا اور حَشّ بستان کو کہتے ہیں تو وہاں ان کے پاس ایک اُونٹ بھنا ہوا تھا اور ایک مشکیزہ شراب۔ وہ کہتے ہیں میں نے ان کے ساتھ کھایا اور پیا اور پھرمیں نے ان کے پاس انصارؓ اور مہاجرینؓ کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ مہاجرینؓ انصارؓ سے بہتر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اس (اونٹ) کاجبڑا لیا اور مجھے دے مارا اور میرا ناک زخمی کر دیا۔ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ کو اس بارہ میں بتایا تو اللہ عز وجل نے میرے بارہ میں _خودان کے بارہ میں _ شراب کے بارہ میں آیت نازل فرمائی۔ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ۔ ۔ ۔ یقینا مدہوش کرنے والی چیز اور جو ٔا اور بت (پرستی) اور تیروں سے قسمت آزمائی یہ سب ناپاک شیطانی عمل ہیں ۔ ایک اور روایت میں (أَنَّہُ نَزَلَتْ فِیْہِ آیَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِکی بجائے) أَنَّہُ قَالَ اُنْزِلَتْ فِیَّ اَرْبَعُ آیَاتٍکے الفاظ ہیں۔ مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرے بارہ میں چار آیات نازل ہوئیں۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب وہ اس (حضرت سعدؓ کی ماں ) کو کھانا کھلانا چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھولتے پھر اس (کے منہ) میں (کھانا)ڈالتے اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نے اس جبڑے کو حضرت سعدؓ کی ناک پر مارا اور اس کو پھاڑ دیااور حضرت سعدؓ کی ناک پھٹی ہوئی تھی۔
29:9, 31:16, 8:2, 5:91
حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ میرے بارہ میں یہ آیت نازل ہوئی وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہُ تو ان لوگوں کو مت دھتکار جو اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے صبح بھی پکارتے ہیں اور شام بھی 2۔ یہ چھ (اشخاص) کے بارہ میں نازل ہوئی ہے ان میں مَیں اور حضرت ابن مسعودؓ بھی ہیں اور مشرکوں نے حضورؐ سے کہا تھا کہ آپؐ ان لوگوں کو قریب رکھتے ہیں
حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے پاس ہم چھ افراد تھے کہ مشرکوں نے نبیﷺ سے کہا کہ ان لوگوں کو دھتکاردو، یہ ہم پر جرأت نہ کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں اور حضرت ابن مسعودؓ، ھذیل میں سے ایک آدمی اور حضرت بلالؓ تھے اور دو اور آدمی تھے جن کے نام میں نہیں لوں گا۔ پھر رسول اللہﷺ کے دل میں آیا جو اللہ نے چاہا۔ آپؐ نے اپنے دل میں کوئی بات کی تب اللہ عزو جل نے یہ آیت نازل فرمائی وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہُ تو ان لوگوں کو مت دھتکار جو اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے صبح بھی پکارتے ہیں اور شام بھی
ابو عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جو جنگیں لڑیں ان میں سے ایک جنگ میں (ایک وقت میں ) رسول اللہﷺ کے ساتھ سوائے حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعدؓ کے کوئی نہ رہا۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے خندق کے دن لوگوں کو آواز دی توحضرت زبیرؓ نے جواب دیا۔ آپؐ نے پھر لوگوں کو آواز دی تو پھرحضرت زبیرؓؓ نے جواب دیا۔ پھر نبیﷺ نے لوگوں کو آواز دی اور پھر حضرت زبیرؓ نے جواب دیا۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا ہر نبی کا حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرؓ ہے۔
حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ خندق کے دن مَیں اور حضرت عمرؓ بن ابوسلمہ کچھ عورتوں کے ساتھ حساّن کے قلعہ میں تھے۔ کبھی وہ میرے لئے جھک جاتا اور میں دیکھتا اور کبھی میں اس کے لئے جھک جاتا اور وہ دیکھتا۔ پس(اس دوران) میں اپنے باپ کو پہچان لیتا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پرمُسَلح بنی قریظہ کی طرف گئے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر اپنے والد سے کیا تو انہوں نے کہا اے میرے بیٹے! کیا تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا کہ ہاں انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم اس وقت رسول اللہﷺ نے میرے لئے اپنے والدین کا اکٹھا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ قربان۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کہتے ہیں خندق کے دن مَیں اور حضرت عمرؓ بن ابو سلمہ اس قلعہ میں تھے جس میں خواتین یعنی نبیﷺ کی ازواج مطہراتؓ تھیں۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے مگر اس میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں۔ لیکن ہشام کی روایت میں یہ واقعہ شامل کر دیا گیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اور حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ حراء (پہاڑ) پر تھے کہ چٹان لرزنے لگی۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ٹھہرجاؤ تیرے اوپر صرف نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے۔