بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ حراء پہاڑ پر تھے کہ وہ ہلنے لگا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اے حراء! ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور اس(پہاڑ) پر نبیﷺ حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ تھے رضی اللہ عنہم۔
عروہ سے روایت کہ حضرت عائشہؓ نے مجھ سے فرمایا کہ تیرے باپ اور نانا دونوں اُن لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے باوجود زخم پہنچنے کے اللہ اور رسولؐ کو لبیک کہا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے حضرت حسنؓ کے بارہ میں فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کرتا ہے اس سے بھی محبت کر۔
ہشام کے والد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے مجھ سے فرمایا اللہ کی قسم! تیرے باپ دادا ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے باوجود زخم پہنچنے کے اللہ اور رسولؐ کو لبیک کہا۔ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ان کی مراد حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت زبیرؓ سے تھی۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا ہر امت کا ایک امین ہے اور ہما را امین اے امت !ابو عبیدہؓ بن الجراح ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اہل یمن رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہمارے ساتھ کوئی ایسا آدمی بھیجئے جو ہمیں سنت اور اسلام سکھائے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں پھر آپؐ نے حضرت ابو عبیدہؓ کو ہا تھ سے پکڑا اور فرمایا یہ اس امت کا امین ہے۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ اہل نجران رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہمارے پاس کوئی امین آدمی بھیجئے اس پر آپؐ نے فرمایا میں ضرور تمہاری طرف ایسا امین آدمی بھیجوں گا جو حقیقی امین ہوگا، حقیقی امین۔ حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں اس پر لوگ اس شرف کی تمنا کرنے لگے وہ کہتے ہیں پھر آپؐ نے حضرت ابو عبیدۃ بن الجراح ؓ کو بھیجا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں دن کے ایک حصہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلا۔ نہ آپؐ مجھ سے کوئی بات کر رہے تھے اور نہ میں آپؐ سے کوئی بات کر رہا تھا یہانتک کہ آپؐ بنو قینقاع کے بازار میں تشریف لے گئے۔ پھر آپؐ واپس چل پڑے یہانتک کہ آپؐ حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کیا یہاں ننھاہے؟ کیایہاں ننھا ہے؟ راوی کہتے ہیں آپؐ کی مراد حسنؓ سے تھی؟ (راوی کہتے ہیں ) ہم نے خیال کیا اس کی والدہ نے اسے روک رکھا ہے کہ اسے نہلائیں اور ہار پہنائیں اور تھوڑی ہی دیر میں وہ (حسنؓ ) دوڑتے ہوئے آئے اور دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئے اور رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کراور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت کر۔
حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علیؓ کو نبیﷺ کے کندھے پر دیکھااور آپؐ کہہ رہے تھے اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔
حضرت براءؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا جبکہ آپؐ حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے کندھے پر بٹھائے ہوئے تھے اور آپؐ کہہ رہے تھے اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔