بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو غزوئہ تبوک میں پیچھے چھو ڑا انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! آپؐ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑے جاتے ہیں؟اس پر آپؐ نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰؑ کے لئے ہارونؑ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان نے حضرت سعدؓ کو حکم دیااور کہا کہ تمہیں ابو تراب کو برا بھلا کہنے سے کس چیز نے روکے رکھا؟ اس پر حضرت سعدؓ نے کہا بات یہ ہے کہ جو تین باتیں مجھے یاد ہیں جو رسول اللہﷺ نے ان کو کہیں تھیں۔ اس لئے میں ان کو کبھی برا بھلا نہیں کہوں گا۔ اگران میں سے ایک بات بھی مجھے نصیب ہوجائے تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پیاری ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ کو ان سے فرماتے ہوئے سنا جب کہ آپؐ نے انہیں ایک غزوہ میں پیچھے چھوڑا تو حضرت علیؓ نے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا یارسولؐ اللہ!آپؐ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑرہے ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ ؑ کے لئے ہارونؑ سوائے اس کے کہ میرے بعدنبّوت نہیں ہے اور میں نے خیبر کے دن آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آ ج میں ضرور اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسولؐ اس سے محبت رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پس ہم اس (جھنڈے) کے لئے گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا علیؓ کو میرے پاس بلاؤ چنانچہ حضرت علیؓ کو لایا گیا انہیں آشوب چشم کی تکلیف تھی۔ حضورؐ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور جھنڈا ان کو دے دیا۔ اور اللہ نے ان کے ذریعہ فتح دی اور جب یہ آیت نازل ہوئی فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَائَ نَا وَاَبْنَائَ کُمْ تو کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ۔ ٭ تو رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسین ؓ کو بلایا اور فرمایا اے اللہ !یہ میرے اہل ہیں۔
حضرت سعدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ ؑ کے لئے ہارونؑ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے خیبر کے دن فرمایا کہ میں یہ جھنڈا ضرور اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے، اللہ اس کے ہاتھوں پر فتح دے گا۔ حضرت عمرؓ بن خطاب کہتے ہیں میں نے اس دن کے علاوہ کبھی امارت کی خواہش نہیں کی۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپؐ کو اونچا کیا اس اُمید پر کہ مجھے اس عَلَم کے لئے بلایا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو بلایا اور انہیں وہ عطا فرمایا اور فرمایا چلو اور ادھر ادھر توجہ نہ کرنا یہانتک کہ اللہ تمہیں فتح دے دے۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت علیؓ کچھ چلے پھر رک گئے اور (ادھر ادھر) توجہ نہ کی پھر بآواز بلند عرض کیایا رسولؐ اللہ ! میں لوگوں سے کس بات پر لڑوں؟ آپؐ نے فرمایا ان سے لڑو یہا نتک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ پس اگر وہ ایسا کریں تو انہوں نے اپنے خون اور اموال کو _سوائے کسی حق کے_ تجھ سے محفوظ کر لیا اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے خیبر کے دن فرمایا میں ضرور یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ فتح دے گا جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسولؐ اس سے محبت کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے اپنی رات یہ سوچتے اور باتیں کرتے گذاری کہ وہ ان میں سے کس کو دیا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں جب صبح ہوئی تو لوگ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہر ایک امید لگائے بیٹھا تھا کہ (وہ عَلَم) اسے دیاجائے گا۔ آپؐ نے فرمایا علیؓ بن ابی طالب کہا ں ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! اُن کی آنکھیں دُکھتی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اسے بلا بھیجو۔ چنانچہ اُن(حضرت علیؓ ) کو لایا گیا اور رسول اللہﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب لگایا اور ان کے لئے دعا کی تو وہ ٹھیک ہوگئے گویا کہ انہیں کوئی تکلیف ہی نہیں تھی۔ پھر آپؐ نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ حضرت علیؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں ان سے لڑوں کہ وہ ہمارے جیسے ہو جائیں۔ آپؐ نے فرمایا تم اپنی رفتار پر چلتے جاؤ یہاں تک کہ تم ان کے صحن میں اترو۔ پھر انہیں اسلام کی طرف بلاؤ اور انہیں بتاؤ جو اللہ کے حق میں سے ان پر واجب ہیں کیونکہ اللہ کی قسم اگر اللہ تمہارے ذریعہ سے ایک آدمی کو(بھی) ہدایت دے دے۔ وہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے موقعہ پر حضرت علیؓ نبیﷺ سے پیچھے رہ گئے اور ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ پھر حضرت علیؓ نے کہا کیا میں رسول اللہﷺ سے پیچھے رہ جاؤں ! تو حضرت علیؓ نکلے اور نبیﷺ سے جاملے۔ پھر جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ نے فتح دی، رسول اللہﷺ نے فرمایا میں جھنڈا دوں گا یافرمایا کل جھنڈا وہ شخص لے گا جس سے اللہ اور اس کا رسولؐ محبت کرتے ہیں یا فرمایا جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے۔ اللہ اس کے ذریعہ فتح دے گا تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ ہیں اور ہمیں امیدنہیں تھی ان کے متعلق۔ لوگوں نے کہا کہ یہ علیؓ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے انہیں وہ جھنڈا عطا فرمایا اور اللہ نے ان کے ذریعہ فتح عطافرمائی۔
یزید بن حیان کہتے ہیں کہ میں اور حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم حضرت زید بن ارقمؓ کے پاس گئے جب ہم ان کے پاس بیٹھے تو حصین نے ان سے کہا کہ اے زیدؓ ! آپؓ نے بہت خیر پائی۔ آپؓ نے رسول اللہﷺ کو دیکھا، آپؐ کی باتیں سنیں اور آپؐ کی معیت میں غزوات کئے اور آپؐ کے پیچھے نمازیں پڑھیں۔ زیدؓ !آپؓ نے بہت خیر پائی ہے۔ اے زیدؓ ! جو رسول اللہﷺ سے آپؓ نے سنا ہے ہمیں بتائیں۔ انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے !اللہ کی قسم میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور مجھ پر ایک عرصہ گذر گیا ہے اور میں بعض باتیں بھول چکا ہوں جو رسول اللہﷺ سے مجھے یاد تھیں۔ پس جو بات میں تمہیں بتاؤں اسے قبول کرلو اور جو نہ بتاؤں اس پر مجھے مجبور نہ کرو۔ وہ کہنے لگے ایک روز رسول اللہﷺ مکہ اور مدینہ کے مابین ایک چشمہ کے پاس جسے خُم کہا جاتا تھا ہمارے درمیان خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے اللہ کی حمدو ثنا کی اور وعظ و نصیحت فرمائی پھر فرمایا اما بعد!سنو اے لوگو! میں تو محض ایک انسان ہوں قریب ہے کہ میرے رب کا پیغام لانے والاآئے اور میں اس کے بلاوے پر ہاں کہوں۔ میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے۔ پس اللہ کی کتاب کو لو اور اس کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ پھر آپؐ نے کتاب اللہ کے بارہ میں بہت ترغیب و تحریض دلائی پھر فرمایا اور میرے اہل بیت، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔ حصین نے انہیں کہا اے زیدؓ ! آپؐ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپؐ کی ازواج مطہرات آپؐ کے اہل بیت میں شامل نہیں؟ زیدنے کہا آپ کی ازواج آپؐ کے اہل بیت میں ہیں لیکن آپؐ کے اہل بیت وہ ہیں جن پر آپؐ کے بعد صدقہ حرام قرار دے دیا گیا ہے انہوں (حضرت زیدؓ نے) کہا وہ کون ہیں؟ انہوں (حضرت زیدؓ )نے کہا وہ حضرت علیؓ کی آل، حضرت عقیلؓ کی آل، حضرت جعفرؓ کی آل اور حضرت عباسؓ کی آل ہے۔ اس نے کہا کیا ان سب پر صدقہ حرام قرار دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ کی کتاب میں ہدایت اور نور ہے جس نے اسے مضبوطی سے پکڑا اور اسے لے لیا وہ ہدایت پر قائم ہے اور جس نے اس کے بارہ میں کوتاہی کی تو وہ گمراہ ہو گیا۔ یزید بن حیان حضرت زید بن ارقم ؓ کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ ہم ان کے پاس گئے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپؓ نے بڑی خیر دیکھی ہے۔ آپؓ رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہے اور آپؐ کے پیچھے آپؓ نے نمازیں ادا کیں ہیں۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے انہوں نے کہاسنو! میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ ان میں سے ایک تو اللہ عزوّجل کی کتاب ہے، وہ اللہ کی رسی ہے جس نے اس کی پیروی کی وہ ہدایت پر ہے اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہے۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ پھر ہم نے کہا آپؐ کے اہل بیت کون ہیں؟ آپؐ کی ازواج؟ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم! یقینا عورت مرد کے ساتھ دیر تک ہوتی ہے۔ پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ آپؐ کے اہل بیت تو آپؐ کی اصل ہیں اور آپؐ کا قبیلہ ہیں جن پر آپؐ کے بعد صدقہ حرام قرار دے دیا گیا ہے۔
ابو حازم سے روایت ہے کہ حضرت سہلؓ بن سعدنے بیان کیا کہ آل مروان میں سے ایک شخص کو مدینہ پر عامل مقرر کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس نے حضرت سہل بن سعدؓ کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت علیؓ پر سبّ و شتم کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت سہلؓ نے اس کا انکار کیا اور اس عامل نے ان (حضرت سہلؓ ) سے کہا اگر تو نے اس کا انکار کرنا ہے تو پھر یہ کہو کہ ابو تراب پر اللہ کی لعنت ہو۔ حضرت سہلؓ نے کہا کہ حضرت علیؓ کے لئے ابو تراب سے بڑھ کر کوئی نام محبوب نہیں ہے۔ جب انہیں اس (نام) سے پکارا جاتاتو وہ خوش ہوتے تھے پھر اُس نے ان (حضرت سہلؓ )سے کہا کہ ہمیں اس واقعہ کے بارہ میں بتاؤ کہ انہیں ابوتراب نام کیوں دیا گیا؟انہوں (حضرت سہلؓ ) نے کہا کہ رسول اللہﷺ حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت علیؓ کو گھرمیں نہ پایا تو فرمایا تمہارا چچا زاد کہاں ہے؟انہوں (حضرت فاطمہؓ ) نے عرض کیا میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوئی جس پروہ مجھ سے ناراض ہوئے اور باہر نکل گئے اور میرے پاس قیلولہ نہیں کیا۔ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا کہ دیکھو کہ وہ کہاں ہیں؟ وہ آدمی آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں تو رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور وہ (حضرت علیؓ )لیٹے ہوئے تھے اور ان کی چادران کے پہلو سے گری ہوئی تھی اور انہیں مٹی لگی ہوئی تھی۔ رسول اللہﷺ اس(مٹی) کو ان سے صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے اٹھو ابو تراب اٹھو ابو تراب۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہﷺ بیدار ہوئے تو آپؐ نے فرمایا کاش میرے صحابہؓ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرا پہرہ دے۔ وہ بیان کرتی ہیں ہم نے اسلحہ کی آواز سنی۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ !سعد بن ابی وقاص۔ آپؐ کے پہرہ کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ سو گئے یہانتک کہ میں نے آپؐ کی لمبی سانسوں کی آواز سنی۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ مدینہ تشریف آوری کے زمانہ میں ایک رات رسول اللہﷺ سو نہ سکے تو آپؐ نے فرمایا کاش میرے صحابہؓ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرا پہرہ دے۔ وہ کہتی ہیں ہم اسی حال میں تھے کہ ہم نے اسلحہ کی آواز سنی۔ آپؐ نے فرمایا کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا سعدؓ بن ابی وقاص۔ رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے کہا کہ میرے دل میں رسول اللہﷺ کے بارہ میں خوف پیدا ہوا اس لئے میں آپؐ کے پہرہ کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے سعدؓ کو دعا دی اور سوگئے۔ ایک روایت میں (قَالَ مَنْ ہَذَا کی بجائے) فَقُلْنَا مَنْ ہَذَاکے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں (سَھِرَ رَسُوْلُ اللَّہِﷺ مَقْدَمَہُ الْمَدِیْنَۃَ لَیْلَۃً کی بجائے) أَرِقَ رَسُوْلُ اللَّہِﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ کے الفاظ