بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
ایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اللہ کے نبیﷺ کے اس سیاہ و سفید خچّر کو پکڑ کر آگے آگے چلا جس پر نبیﷺ اور حسنؓ اور حسینؓ سوار تھے یہانتک کہ میں انہیں نبیﷺ کے گھر لے گیا۔ یہ آپؐ کے آگے اور وہ آپؐ کے پیچھے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ایک صبح رسول اللہﷺ باہر تشریف لے گئے۔ آپؐ پر سیاہ بالوں کے نقش والی اونی چادر تھی۔ پھر حسن بن علیؓ آئے توآپؐ نے ان کو بھی اس میں داخل کر لیا پھر حسینؓ آئے تو وہ آپؐ کے ساتھ داخل ہوگئے پھر حضرت فاطمہؓ آئیں تو آپؐ نے انہیں داخل کر لیا۔ پھر حضرت علی ؓ آئے تو آپؐ نے انہیں داخل کر لیا پھر فرمایا اِنَّمَا یُرِیْدُ اللَّہُ ِلیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہََِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا یقینا اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی آلائش دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح پاک کر دے
سالم بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیان کرتے تھیکہ ہم حضرت زیدؓ بن حارثہ کو زیدؓ بن محمدؐ ہی کہا کرتے تھے یہانتک کہ قرآن میں یہ نازل ہوا اُدْعُوْھُمْ ِلآبَائِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَاللَّہِ کہ ان کو ان کے آباء کے نام سے یاد کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک انصاف کے زیادہ قریب ہے
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک لشکر بھیجااور اُنپر حضرت اسامہؓ بن زید کو امیر مقرر فرمایا تو کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ پس رسول اللہﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ تم نے اس کی امارت پر اعتراض کیا جبکہ تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کیاکرتے تھے۔ اللہ کی قسم وہ یقینا امارت کے ضرور لائق تھا اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے تھا اور اس کے بعد یہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہے۔
سالم بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جبکہ آپؐ منبر پر تھے فرمایا اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو _آپؐ کی مراد حضرت اُسامہ بن زیدؓ تھے_ تو یقینا تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کرچکے ہو اللہ کی قسم! وہ ضرور اس کے لائق تھا اللہ کی قسم! وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھا اللہ کی قسم! یہ بھی ضرور اس (امارت) کے لائق ہے_ آپؐ کی مراد اس سے حضرت اُسامہ بن زیدؓ تھے _ اور اللہ کی قسم یہ اس کے بعدمجھے ان لوگوں میں سے سب سے پیارا ہے پس میں تمہیں اس سے حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارے صالحین میں سے ہے۔
عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ نے حضرت ابن زبیرؓ سے کہا کیا آپؓ کو یاد ہے جب ہم (یعنی) میں، آپ اور حضرت ابن عباسؓ رسول اللہﷺ سے ملے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں حضورؐ نے ہمیں سوار کر لیا تھا اور آپؓ کو چھوڑ دیا تھا۔
حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ سفر سے تشریف لاتے توآپؐ کے گھرانے کے بچے سب سے پہلے آپؐ سے ملوائے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ آپؐ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو سب سے پہلے مجھے آپؐ کے پاس لایا گیا۔ آپؐ نے مجھے اپنے آگے سواری پر بٹھا لیا پھر حضرت فاطمہؓ کے دو بیٹوں میں سے کسی کو لایا گیا تو آپؐ نے اسے اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ وہ کہتے پھر ہم تینوں ایک ہی سواری پر مدینہ میں داخل ہوئے۔
حضرت علیؓ نے کوفہ میں بیان کیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ان عورتوں میں سے مریمؑ بنت عمران سب سے بہتر تھیں اور ان عورتوں میں خدیجہؓ بنتِ خویلد سب سے بہتر ہیں۔