بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 112 hadith
ابو صخرہ کہتے ہیں کہ میں نے حُمران بن ابان سے سنا انہوں نے کہا کہ میں حضرت عثمانؓ کے لئے وضوء کا پانی رکھا کرتا تھا۔ وہ ہر روز تھوڑے سے پانی سے نہا لیتے تھے حضرت عثمانؓ نے کہا ہمارے اس نماز سے فارغ ہونے پر رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا۔ (مسعر کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں وہ عصر کی نماز تھی۔)میں نہیں جانتا کہ میں تمہیں ایک بات بتاؤں یا خاموش رہوں؟ ہم نے کہا یا رسول اللہ! اگر یہ خیر کی بات ہے تو ہمیں ضرور بتائیے اور اگر اس کے علاوہ کوئی بات ہے تو اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا جو مسلمان وضوء کرے اور مکمل وضوء کرے جو اللہ نے اس پر فرض کیا ہے اور پھر یہ پانچ نمازیں ادا کرے تو وہ (نمازیں ) جو (کمزوریاں ) ان کے درمیان ہوں اُن کا کفارہ ہو جائیں گی۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ کفارہ ہیں ان (گناہوں ) کا جو اِن کے درمیان ہوں۔
جامع بن شدادسے روایت ہے کہ میں نے بشر کی امارت میں حمران کو ابو بردہ سے اس مسجد میں یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عثمانؓ بن عفان نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے پوری طرح وضوء کیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیاہے تو فرض نمازیں اس کے لئے ان (کمزوریوں ) کا جو ان کے درمیان ہے کفارہ ہوجائیں گی۔ غندر کی روایت میں اِمَارَۃِ بِشْرٍ کا ذکر نہیں اور نہ ہی مکتوبات (فرض نمازوں ) کا ذکر ہے۔
حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عثمانؓ بن عفّان نے اچھی طرح وضوء کیا پھر فرمایا میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے آپؐ نے وضوء کیا اور بہت اچھی طرح وضوء کیاپھر فرمایا جس نے اس طرح وضوء کیا پھر مسجد کے لئے نکلا اور صرف نماز ہی اس کو لے گئی تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
حضرت عثمانؓ بن عفان کے آزاد کردہ غلام حمران نے حضرت عثمانؓ بن عفان سے روایت بیان کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے نماز کے لئے وضوء کیا اور مکمل وضوء کیا پھر فرض نماز کے لئے چلا اور لو گوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں وہ نماز پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کی خاطراس کے گناہ معاف کردے گا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ کفارہ ہیں (ان گناہوں کا) جو ان کے درمیان ہیں بشرطیکہ بڑے گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان کفارہ ہیں ان(گناہوں ) کا جو ان کے درمیان ہیں جبکہ اس نے کبائر گناہوں سے اجتناب کیا ہو۔
حضرت عقبہؓ بن عامر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اونٹوں کی دیکھ بھال ہمارے ذمہ تھی۔ میری باری آئی تو میں سرِ شام اونٹ چَرا کر واپس لایا۔ میں نے رسول اللہﷺ کو کھڑے، لو گوں سے باتیں کرتے ہوئے پایا۔ میں نے آپؐ کی بات سے یہ حصہ سنا کہ جو مسلمان وضوء کرتا ہے اور اچھی طرح وضوء کرتاہے پھر کھڑے ہوکر قلبی لگاؤ اور پوری توجہ سے دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا یہ کیسی عمدہ بات ہے تو اچانک ایک شخص جو میرے سامنے کھڑا تھا کہنے لگا کہ جو اس سے پہلی بات تھی وہ اس سے بھی عمدہ تھی۔ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمرؓ تھے وہ کہنے لگے میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم ابھی آئے ہو۔ آپؐ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی تم میں سے وضوء کرے اور پورا وضوء کرے اور پھر کہے ’’اَشْہَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ‘‘یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں اور محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں تواس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کہ وہ جس دروازے میں سے چاہے داخل ہو۔ عقبہ بن عامرؓ جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاپھر راوی نے وہی روایت بیان کی مگر کہا کہ آپؐ نے فرمایا جس نے وضوء کیا اور کہا ’’اَشْہَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ‘‘یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کاکوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن زیدؓ بن عاصم انصاری جنہیں رسول اللہﷺ کی صحبت کا شرف حاصل تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ اُن سے کہا گیا کہ ہمارے سامنے رسول اللہﷺ جیسا وضوء کیجئے۔ چنانچہ انہوں نے (پانی کا) برتن منگوایااور اس میں سے اپنے ہاتھوں پر (پانی)انڈیلااور انہیں تین مرتبہ دھویا پھر اپنا ہاتھ اس(برتن) میں داخل کیا اور نکال کے ایک ہتھیلی سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر صفائی کی۔ ایسا انہوں نے تین دفعہ کیا پھر اپنا ہاتھ اس (برتن) میں داخل کیا اور اسے نکال کر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس (برتن) میں داخل کیا اور اسے نکال کرکہنیوں تک اپنے ہاتھ دودو مرتبہ دھوئے پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا اور اسے نکال کر دونوں ہاتھوں سے سر کامسح کیااور اپنے دونوں ہاتھ آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لائے پھر ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھوئے پھر کہا کہ رسول اللہﷺ کا وضوء ایسا تھا۔ عمرو بن یحیٰ سے اسی اسناد سے اس جیسی روایت ہے لیکن انہوں نے ٹخنوں کا ذکر نہیں کیا۔ عمرو بن یحیٰ اسی اسناد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے تین مرتبہ کلی کی اور (تین مرتبہ) ناک میں پانی ڈال کر اس کی صفائی کی لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ایک ہی ہتھیلی سے اور اس بات کے بعد مزید یہ کہا کہ آپ اپنے ہاتھوں کو آگے اور پیچھے لے گئے اور سر کے اگلے حصہ سے (مسح کرنا) شروع کیا پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی گردن کے پچھلے حصّہ کی طرف لے گئے پھر ان دونوں کو واپس لائے یہاں تک کہ اسی جگہ واپس آگئے جہاں سے شروع کیا تھا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ عمرو بن یحیٰ کی روایت میں ہے کہ آپؓ نے تین چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر صفائی کی۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے ایک دفعہ آگے اور پیچھے سے اپنے سر کا مسح کیا۔
حضرت عبد اللہؓ بن زید بن عاصم المازنی نے بیان کیاکہ انہوں نے رسو ل اللہﷺ کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا۔ آپؐ نے کلی کی پھر ناک میں پانی ڈال کر صاف کیا پھر تین دفعہ اپنا چہر ہ دھویا اور تین دفعہ دایاں اور تین دفعہ دوسرا ہاتھ دھویا پھر آپؐ نے (نیا) پانی لے کر اپنے سر کا مسح کیا نہ کہ ہاتھ سے لگے ہوئے پانی سے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہانتک کہ انہیں اچھی طرح صاف کیا۔