بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کو میٹھا اور شہد بہت پسند تھا۔ جب آپؐ عصر پڑھ لیتے تو اپنی بیویوں کے گھروں کا چکر لگاتے اور ان کے پاس جاتے۔ آپؐ حضرت حفصہؓ کے ہاں آئے اور معمول سے زیادہ ان کے ہاں ٹھہرے۔ میں نے اس بارہ میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ ان کی قوم کی ایک عورت ان کے لئے شہد کا ایک چھوٹا سا مشکیزہ بطور ہدیہ لائی تو اس نے رسول اللہﷺ کو اس میں سے پلایا ہے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ہم آپؐ کی خاطر حیلہ کریں گے اور میں نے یہ بات سودہؓ کو بتائی اور میں نے کہا کہ جب رسول اللہﷺ تمہارے پاس آئیں اور تمہارے قریب ہوں تو تم ان سے کہنا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے مغافیر کھایا ہے وہ تم سے کہیں گے نہیں تو آپؐ سے کہنا یہ بو کیسی ہے اور رسول اللہﷺ پر سخت گراں گذرتا تھا کہ آپؐ سے بو آئے وہ تمہیں کہیں گے کہ مجھے حفصہؓ نے شہد پلایا ہے تو تم حضورؐ سے کہنا اس شہد کی مکھی نے عُر فُط سے کھایا ہے اور میں بھی ان سے ایسا ہی کہوں گی اور اے صفیہؓ تم بھی آپؐ سے ایسا ہی کہنا۔ پس آپؐ جب سودہ ؓ کے ہاں آئے انہوں نے بیان کیا سودہؓ کہتی تھیں اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبودنہیں قریب تھا کہ تمہارے ڈر سے میں آپؐ سے آتے ہی وہ بات کہہ دیتی جو تم نے مجھے کہی تھی جبکہ آپؐ ابھی دروازہ پر ہی ہوتے۔ جب رسول اللہﷺ قریب آئے تو انہوں (سودہؓ ) نے کہا کہ یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا پھر یہ بو کیسی ہے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے حفصہؓ نے شہد پلایا ہے۔ انہوں نے کہا اس شہد کی مکھی نے عُر فُط کھایا ہے۔ پھر جب آپؐ میرے پاس آئے میں نے بھی آپؐ سے ویسا ہی کیا۔ پھر آپؐ صفیہؓ کے پاس گئے انہوں نے بھی اسی طرح کہا پھر جب آپؐ حفصہؓ کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا یارسولؐ اللہ! کیا میں آپؐ کو اس میں سے نہ پلاؤں۔ آپؐ نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں سودہؓ نے کہا سبحان اللہ، اللہ کی قسم ہم نے اسے آپؐ پر حرام کردیا ہے۔ پھرآپؓ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں میں نے اس سے کہا خاموش رہو۔
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں ہمیں رسول اللہﷺ نے اختیاردیا اور ہم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا۔
مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے کوئی فکر نہیں کہ جب میری بیوی مجھے اختیار کر چکی ہے کہ میں خواہ اس کو ایک باراختیار دوں یاسو بار یاہزار بار، اور میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا رسول اللہ
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تھا اور وہ طلاق نہیں تھی۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کو اپنی ازواج کے بارہ میں اختیار دینے کا حکم دیا گیا تو آپؐ نے ابتداء مجھ سے کی اور فرمایا میں تمہارے سامنے ایک معاملہ کا ذکر کرنے لگا ہوں کوئی حرج نہیں کہ تم جلدی نہ کرویہانتک کہ اپنے والدین سے مشورہ نہ کرلو۔ وہ کہتی ہیں آپؐ جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپؐ سے علیحدگی کا مشورہ دینے والے نہیں۔ وہ کہتی ہیں پھر آپؐ نے فرمایا اللہ عزّ وجل نے فرمایا ہییَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِکَ۔ ۔ ۔ ترجمہ: اے نبیؐ ! اپنی بیویوں سے کہہ دے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہوتو آؤ میں تمہیں مالی فائدہ پہنچاؤں اور عمدگی کے ساتھ تمہیں رخصت کروں اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو اور اس کے رسولؐ کو اور آخرت کے گھر کو تویقینا اللہ نے تم میں سے حسنِ عمل کرنے والیوں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کیا ہے٭۔ آپؓ کہتی ہیں میں نے کہا یہ کونسی بات ہے جس کے متعلق میں اپنے والدین سے مشورہ کروں میں تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔ وہ کہتی ہیں پھر رسول اللہﷺ کی باقی بیویوں نے بھی وہی کیا جو میں نے کیا تھا۔ ٭
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ ہم میں سے جس بیوی کی باری میں ہوتے آپؐ ہم سے اجازت مانگتے بعد اس کے کہ یہ آیت نازل ہوئی تُرْجی مَنْ تَشاء مِنْھُنَّ وَتُؤْوِی اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ ٭تو معاذہ نے آپؓ سے کہا جب رسول اللہﷺ آپؓ سے اجازت مانگتے تھے تو آپ کیا جواب دیتی تھیں۔ انہوں نے کہا میں کہتی تھی یہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں کسی کو اپنے نفس پر ترجیح نہ دیتی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں ہمیں رسول اللہﷺ نے اختیاردیا اور ہم نے آپؐ (رسول اللہﷺ )کو چن لیا اور آپؐ نے اسے ہمارے تعلق میں کچھ بھی شمار نہیں کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابو بکرؓ آئے اور رسول اللہﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی انہوں نے کچھ لوگوں کو آپؐ کے دروازہ پر بیٹھے ہوئے پایا جن میں سے کسی کو اجازت نہیں دی گئی تھی۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابو بکرؓ کو اجازت دی گئی۔ آپ اندر داخل ہوئے پھر حضرت عمرؓ آئے انہوں نے اجازت مانگی تو انہیں (بھی) اجازت دی گئی انہوں نے نبیﷺ کو غم زدہ خاموش بیٹھے دیکھا۔ آپؐ کے گرد آپؐ کی بیویاں تھیں۔ راوی کہتے ہیں انہوں (حضرت عمرؓ ) نے کہا میں ضرور ایسی بات کہوں گا کہ رسول اللہﷺ کوہنسادوں گاانہوں نے کہایا رسولؐ اللہ! اگر آپؐ دیکھتے کہ بنتِ خارجہ مجھ سے نفقہ مانگتی ہے تو میں اس کے پا س جاکر اس کی گردن پر مارتا۔ رسول اللہﷺ ہنس دیئے اور فرمایا یہ بھی میرے گرد جیسے تم دیکھتے ہو مجھ سے نفقہ مانگ رہی ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ حضرت عائشہؓ کی طرف بڑھے کہ ان کی گردن پر ماریں اور حضرت عمرؓ حضرت حفصہؓ کی طرف بڑھے کہ ان کی گردن پر ماریں اور دونوں کہہ رہے تھے کہ تم رسول اللہﷺ سے وہ چیز مانگتی ہو جو آپؐ کے پاس نہیں ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم رسول اللہﷺ سے کبھی وہ نہیں مانگیں گی جو آپؐ کے پاس نہیں ہے پھر آپؐ ان سے ایک ماہ کے لئے یا اُنتیس دن کے لئے الگ ہوگئے پھر آپؐ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّّأَزْوَاجِکَ۔ ۔ ۔ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًاتک۔ ترجمہ: اے نبیؐ ! اپنی بیویوں سے کہہ دے۔ ۔ ۔ تم میں سے حسنِ عمل کرنے والیوں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کیا ہے٭۔
حضرت عمرؓ بن خطاب کہتے ہیں جب نبیﷺ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی فرمائی وہ کہتے ہیں میں مسجد گیا تو لوگ فکر مند بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے اور یہ عورتوں کو پردہ کا حکم دیئے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے کہا میں ضرور یہ بات آج معلوم کر کے رہوں گا۔ وہ کہتے ہیں میں حضرت عائشہؓ کے پاس گیا اور میں نے کہا ابو بکر کی بیٹی کیاتیرا معاملہ اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ تو رسول اللہﷺ کو تکلیف دینے لگی ہے ! انہوں نے کہا مجھے تم سے اور تمہیں مجھ سے کیا کام اے خطاب کے بیٹے! اپنی زنبیل کو سنبھالئے۔ وہ کہتے ہیں میں حفصہؓ بنت عمر ؓ کے پاس گیا اور اسے کہا اے حفصہ! کیا تمہارا معاملہ اتنا بڑھ گیاہے کہ تو رسول اللہﷺ کو تکلیف دیتی ہے۔ اور اللہ کی قسم تو جانتی ہے کہ رسول اللہﷺ تجھ سے محبت نہیں کرتے اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہﷺ تجھے طلاق دے دیتے۔ انہوں نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔ میں نے ان سے کہا رسول اللہﷺ کہا ں ہیں؟ وہ کہنے لگیں وہ اپنے چوبارہ کے گودام میں ہیں۔ میں گیا تو دیکھا کہ رسول اللہﷺ کاخادم رباح چوبارہ کی چوکھٹ کے کھوکھلے کئے ہوئے تنے پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھا تھا اور یہ وہ لکڑی کا تنا تھا جس کے ذریعہ رسول اللہﷺ چڑھتے اور اترتے تھے۔ میں نے آواز دی کہ اے رباح! میرے لئے رسول اللہﷺ کے پاس آنے کی اجازت لو۔ رباح نے بالاخانہ کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا مگر کچھ نہیں کہا۔ میں نے پھر کہا اے رباح میرے لئے رسول اللہﷺ سے اجازت لو۔ ر باح نے بالا خانہ کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا مگر کچھ نہ کہا پھر میں نے اپنی آواز بلند کی اور کہا اے رباح! میرے لئے رسول اللہﷺ سے اجازت لو۔ میرا خیال ہے کہ رسول اللہﷺ نے خیال فرمایا کہ میں حفصہؓ کی وجہ سے آیا ہوں۔ اگر مجھے رسول اللہﷺ اس کی گردن مارنے کا حکم دیں تو میں ضرور اس کی گردن مار دوں گا اور میں نے اپنی آواز بلند کی۔ اس نے مجھےاشارہ کیا کہ اوپر چڑھ آؤ۔ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپؐ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپؐ نے اپنا ازار اپنے اور قریب کر لیا اور آپؐ پر یہی لباس تھا اس کے سوا آپ کچھ نہ پہنے ہوئے تھے اور چٹائی نے آپؐ کے پہلو پر نشان ڈال دیئے تھے۔ میں نے رسول اللہﷺ کے گودام میں نظر دوڑائی تو میں نے دیکھا کہ کچھ جَو جو صاع کے قریب تھے اور اسی کی مانند قرظ (درخت) کے پتے کمرہ کے ایک کونہ میں پڑے ہوئے تھے اور چمڑے کی ایک کھال جو پوری طرح رنگی ہوئی نہیں تھی لٹکی ہوئی تھی۔ وہ کہتے ہیں میری آنکھیں بے ساختہ آنسو بہانے لگیں۔ آپؐ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے! تجھے کس چیز نے رُلایا؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! میں کیوں نہ روؤں اور اس چٹائی نے آپؐ کے پہلو پر نشانات ڈال دیئے اور یہ آپؐ کا گودام ہے جس میں صرف وہی کچھ ہے جو میں دیکھ رہا ہوں اور قیصرو کسریٰ پھلوں اور نہروں میں (مزے کر رہے) ہیں اور آپؐ اللہ کے رسولؐ ہیں اور اس کے خالص اور چُنیدہ ہیں اور یہ آپؐ کا گودام ہے۔ آپؐ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے! کیا تم اس بات پرراضی نہیں کہ ہمارے لئے آخرت ہو اور ان کے لئے دنیا۔ میں نے کہا کیوں نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں آپؐ کے پاس آیاتھا تو میں نے آپؐ کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار پائے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! عورتوں کے معاملہ میں آپ کو کیا مشکل ہے؟ اگر آپؐ نے انہیں طلاق دے دی ہے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور جبرائیل اور میکائیل اور میں اور ابوبکر اور تمام مومن آپؐ کے ساتھ ہیں اور کم ہی ہوا کہ میں نے بات کی ہو اور بات کے ساتھ اللہ کی حمد کی ہو تو مجھے امید ہوتی تھی کہ اللہ میری بات کی تصدیق فرمائے گا اور یہ اختیار دینے کی آیت نازل ہوئی { عَسیٰ ربُّہ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُبْدِلَہُ خَیراً مِنْکُنَّ* وَاِنْ تَظَاھَرَا عَلَیْہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوْلََاہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤ مِنِیْنَ وَالْمَلٓئِکَۃُ بَعْدَ ذَ لِکَ ظَھیرٌ} ترجمہ: قریب ہے کہ اگر وہ تمہیں طلاق دے دے (تو) اس کا رب تمہارے بدلے اس کے لیے تم سے بہتر ازواج لے آئے۔ ۔ ۔ اور اگر تم دونوں اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقینا اللہ ہی اس کا مولیٰ ہے اور جبرائیل بھی اور مومنوں میں سے ہر صالح شخص بھی اور مزید برآں فرشتے بھی اس کے پشت پناہ ہیں۔‘‘ اور رسول اللہﷺ کی تمام ازواج مطہرات میں سے حضرت عائشہ بنت ابو بکرؓ اور حفصہؓ دونوں نے ایک دوسرے کی مدد کی تھی میں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ !کیا آپؐ نے انہیں طلاق دے دی ہے؟فرمایا نہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں مسجد میں داخل ہوا تو مسلمان فکر مند بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ کیا میں اُتروں اور انہیں بتاؤں کہ آپؐ نے انہیں طلاق نہیں دی۔ آپؐ نے فرمایا ہاں اگر تم چاہو۔ میں آپؐ سے گفتگو کرتا رہا یہا نتک کہ آپؐ کے چہرہ سے ناراضگی جاتی رہی اور یہانتک کہ آپؐ کھل کھلا کر ہنس پڑے اور آپؐ کے دندانِ مبارک سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھے۔ پھر نبیﷺ اُترے اور میں بھی اُترا اور میں کھجور کے تنے کو پکڑ کر اترتا تھا اور رسول اللہﷺ ایسے اترے گویا زمین پر چل رہے ہوں۔ اور آپؐ نے اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کمرہ میں اُنتیس دن ٹھہرے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ میں مسجد کے دروازہ میں کھڑا ہو گیا اور بلند آواز سے پکارا کہ رسول اللہﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور یہ آیت نازل ہوئی وَاِذَا جَائَ ہُمْ أَ مْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ۔ ۔ ۔ اور جب بھی ان کے پاس کوئی امن یا خوف کی بات آئے تو وہ اسے مشتہر کر دیتے ہیں اور اگر وہ اسے (پھیلانے کی بجائے) رسول کی طرف یا اپنے میں سے کسی صاحبِ امر کے سامنے پیش کر دیتے تو ان میں سے جو اس سے استنباط کرتے وہ ضرور اس (کی حقیقت) کو جان لیتے٭ (حضرت عمرؓ کہتے ہیں ) کہ میں نے اس امر کا استنباط کیا اور اللہ عزوجل نے آیتِ تخییر نازل فرمائی۔