بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا فاطمہؓ کے لئے یہ بیان کرنا اچھا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ (حضرت عائشہؓ ) کی مراد اُن(فاطمہ) کے اس قول سے تھی کہ اس کے لئے رہائش اور نفقہ نہیں ہے۔
زینب کہتی ہیں کہ میں حضرت زینبؓ بنت جحش کے پاس جب ان کے بھائی فوت ہوئے گئی۔ انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس میں سے لگائی پھرکہا اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہیں سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپؐ منبر پر فرما رہے تھے کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتی ہے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی میّت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن۔
ابو الزبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے سنا وہ کہتے تھے میری خالہ کو طلاق ہوگئی انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنی کھجوریں توڑیں ان کے نکلنے پر ایک شخص نے انہیں ڈانٹا۔ وہ نبیﷺ کے پاس آئیں۔ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں تم اپنی کھجوریں توڑو بعیدنہیں کہ تم صدقہ کرو یا کوئی اور نیکی کا کام کرو۔
ابن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعودنے بتایا کہ ان کے باپ نے عمر بن عبد اللہ بن ارقم الزُّہری کو حکم دیتے ہوئے لکھا کہ وہ سُبیعہ بنت حارث الاسلمیہ کے پاس اس کی روایت پوچھنے جائے اور جو اسے رسول اللہﷺ نے اس کے فتویٰ پوچھنے پر فرمایا تھا۔ عمر بن عبد اللہ نے عبد اللہ بن عتبہ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ سبیعہ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعدؓ بن خولہ کے نکاح میں تھیں۔ اور وہ بنی عامر بن لُؤیِّ سے تعلق رکھتے تھے اور وہ ان لوگوں میں تھے جو غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے اور وہ حجۃ الوداع میں فوت ہوئے۔ اور وہ حاملہ تھیں۔ ان کی وفات پر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ان کا وضعِ حمل ہوگیا۔ جب وہ نفاس سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے نکاح کا پیغام دینے والوں کے لئے سنگھار کیا ان کے پاس ابو سنابل بن بعکک جو بنی عبدالدار کے ایک شخص تھے آئے۔ اس نے ان سے کہا کیا بات ہے میں تمہیں بنا سنورا دیکھتا ہوں شاید تمہارا ارادہ نکاح کرنے کا ہے۔ اللہ کی قسم تم نکاح نہیں کر سکتی جب تک تم پر چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں۔ سبیعہ کہتی ہیں جب اس نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے شام کے وقت کپڑے پہنے۔ اور میں رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور آپؐ سے اس بارہ میں پوچھا۔ آپؐ نے مجھے فتویٰ دیا کہ جب میں نے وضعِ حمل کیا تو حلال ہوگئی اور مجھے ارشاد فرمایا کہ اگر میں چاہوں توشادی کر سکتی ہوں۔ ابن شہاب کہتے ہیں میں اس میں کوئی حرج نہیں دیکھتا کہ وہ وضعِ حمل کے بعد شادی کرے اگرچہ اسے خون جاری ہو سوائے اس کے کہ اس کا خاوند اس سے قربت نہ کرے۔ جب تک کہ وہ پاک نہ ہوجائے۔
ابو سلمہ بن عبد الرحمان اور ابن عباسؓ حضرت ابو ہریرہؓ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ اور وہ دونوں ایسی عورت کے بارہ میں گفتگو کرنے لگے جو اپنے خاوند کی وفات کی چند راتوں بعدنفاس میں ہوجائے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا اس کی عدّت دو مدتوں میں سے آخری ہے اور ابو سلمہ نے کہا وہ حلال ہوگئی ہے۔ وہ دونو ں اس بارہ میں اختلافِ رائے کرنے لگے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا میں اپنے بھائی کے بیٹے یعنی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں تو انہوں نے حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب کو حضرت ام سلمہؓ کی طرف اس بارہ میں پوچھنے کے لئے بھیجا۔ وہ ان کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ حضرت ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ سبیعۃ الاسلمیہ اپنے خاوند کی وفات کے چند راتوں بعد حالتِ نفاس میں آگئیں۔ اور اس نے اس بات کا رسول اللہﷺ کے پاس ذکر کیا تو آپؐ نے اسے شادی کے لئے ارشاد فرمایا۔ لیث اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ام سلمہؓ کی طرف کسی کو بھیجا مگر انہوں نے کُریب کا نام نہیں لیا۔
حُمَید بن نافع زینب بنت ابی سلمہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کو یہ تین روایات بتائیں۔ وہ کہتے ہیں حضرت زینبؓ نے کہا میں نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہؓ کے پاس گئی جب ان کے والد ابو سفیانؓ فوت ہوئے۔ تو حضرت ام حبیبہؓ نے زرد رنگ کی خلوق خوشبو یا اس کے علاوہ کوئی اور (خوشبو) منگوائی پھروہ ایک لڑکی کو لگائی۔ پھر اپنے رخساروں پر لگائی اور کہا اللہ کی قسم مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہیں تھی مگر میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے۔ آپؐ نے منبر پر فرما رہے تھے کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتی ہے جائز نہیں کہ وہ کسی میّت پر تین دن سے زائد سوگ منائے ہاں اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن۔
زینب کہتی ہیں میں نے اپنی والدہ حضرت ام سلمہؓ سے سنا وہ فرماتی تھیں ایک عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور کہا یا رسولؐ اللہ! میری بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا ہے اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہے کیا میں اس کو سُرمہ ڈالوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا نہیں اس نے دو یاتین مرتبہ کہا۔ ہر دفعہ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا صرف چار ماہ اور دس دن ہیں حالانکہ تم میں کوئی جاہلیت میں سال کے آخر میں مینگنی پھینکتی تھی۔ حمید کہتے ہیں میں نے زینب سے کہا اور یہ سال کے آخر میں مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ حضرت زینبؓ نے کہا جب کسی عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ ایک جھونپڑی میں داخل ہوتی اور اپنے سب سے خراب کپڑے پہنتی نہ خوشبو لگاتی نہ کچھ اور۔ یہاں تک کہ اس پر سال گزر جاتا پھر ایک جانور گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تو وہ اسے چھوتی پس جب بھی وہ کسی چیز کو چھوتی تو وہ (چیز) مرجاتی۔ پھر وہ نکلتی تو ایک مینگنی دی جاتی۔ وہ اسے پھینکتی پھر اس کے بعد وہ خوشبو یا کوئی اور چیز استعمال کرتی۔
حُمید بن نافع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے زینب بنت ام سلمہؓ سے سنا وہ کہتی ہیں حضرت ام حبیبہؓ کی کوئی گہری سہیلی فوت ہوگئی۔ آپؐ نے زرد رنگ(کی خوشبو) منگوائی اور اسے اپنے بازؤوں پر لگایا۔ پھر کہا میں یہ صرف اسی لئے کر رہی ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہے جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن٭۔
حُمَید بن نافع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے زینب بنت ام سلمہؓ سے سنا ہے وہ اپنی والدہؓ سے روایت کرتی تھیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا۔ لوگوں کو اس کی آنکھ(کی تکلیف) کے بارہ میں فکر ہوئی۔ وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آپؐ سے سرمہ کے بارہ میں اجازت مانگی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے ایک (عورت) اپنے گھر کے بدترین حصہ میں جانور کے اوپر ڈالے کپڑے میں ملبوس یا جانور پر ڈالے اپنے بدترین کپڑوں میں سال(بھر)اپنے گھر میں رہتی تھی۔ پھر جب کتا گذرتا وہ ایک مینگنی پھینکتی۔ پھر وہ نکلتی تو چار ماہ اور دس دن کیوں نہیں؟