حضرت ام سلمہؓ اور حضرت ام حبیبہؓ سے روایت ہے وہ دونوں بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی۔ اس نے آپؐ سے ذکر کیا کہ اس کی بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا ہے اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہوگئی ہے۔ وہ سرمہ ڈالنا چاہتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی۔ اور یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں۔
زینب بنت ابی سلمہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں جب حضرت اُمِّ حبیبہؓ کے پاس حضرت ابو سفیانؓ کی وفات کی خبر آئی تو انہوں نے تیسرے دن زرد خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازؤوں اور رُخساروں پر لگایا اور کہا مجھے اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ میں نے نبیﷺ سے سنا آپؐ فرمارہے تھے کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہے جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زائد سوگ منائے سوائے خاوند کے۔ وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔
عُبَيْدٍ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ .
صفیہ بنت ابی عبید بیان کرتی ہیں کہ حضرت حفصہؓ یا حضرت عائشہؓ سے یا ان دونوں سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے یا فرمایا اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان رکھتی ہے جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے سوا کسی مرنے والے پر تین دن سے زائد سوگ کرے۔
ایک اور روایت میں یہ مزید ہے کہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے نبیﷺ نے فرمایا کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتی ہے جائز نہیں کہ وہ سوائے اپنے خاوند کے کسی مر نے والے پر تین دن سے زائدسوگ کرے۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی میّت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے سوائے اپنے خاوند پر۔ چار ماہ دس دن۔ وہ نہ تو زرد رنگ کے کپڑے پہنے سوائے عصب کے کپڑوں کے اور نہ سرمہ لگائے اور نہ خوشبو لگائے مگر جب حیض سے پاک ہوجائے تو قُسط یا اظفار میں سے کچھ استعمال کرلے۔
ایک اور روایت میں (اِذَا طَہُرَتْ کی بجائے) عِنْدَ أَدْنَی طُہْرِھَا کے الفاظ ہیں۔
حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں ہمیں مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ سوائے خاوند کے کہ اس پر چار ماہ دس دن اور ہم نہ سُرمہ لگائیں نہ خوشبو استعمال کریں اور نہ رنگے ہوئے کپڑے پہنیں اور عورت جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو کر نہائے تو قسط اور اظفار کا استعمال کرسکتی ہے۔