بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت یسیر بن عمروؓ کہتے ہیں میں نے حضرت سہل بن حُنیفؓ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبیﷺ کو خوارج کا ذکر کرتے سنا ہے؟ وہ کہنے لگے میں نے آپؐ سے سنا ہے اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ایک قوم ہوگی جو اپنی زبانوں سے قرآن پڑھیں گے جو اُن کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گا وہ دین سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں یَخْرُجُ مِنْہُ الْاَقْوَامُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایک کھجور پائی تو فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ راستہ میں ایک (پڑی ہوئی) کھجور کے پاس سے گذرے تو فرمایا اگر یہ صدقہ میں سے نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایک کھجور پائی تو فرمایا اگر یہ صدقہ نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔
حضرت سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا مشرق کی طرف ایک قوم سرگرداں پھرے گی ان کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن علیؓ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کِخ کِخ اسے پھینک دو، کیا تمہیں پتہ نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایاکہ ہمارے لئے صدقہ جائز نہیں۔
ہمام بن منبہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ وہ ہے جو ہم سے حضرت ابو ہریرہؓ نے محمد رسول اللہﷺ سے بیان کیا پھر انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اپنے اہل کے پاس واپس جاتا ہوں پھر اپنے بستر پر یا اپنے گھر میں ایک کھجور گری پڑی پاتا ہوں اور اسے اُٹھا تا ہوں کہ اسے کھاؤں پھر ڈرتا ہوں کہ وہ صدقہ کی نہ ہو یا (فرمایا) صدقہ سے نہ ہو پھر اسے رکھ دیتا ہوں۔
عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ ربیعہ بن حارث اور حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب اکٹھے ہوئے اور ان دونوں نے کہا بخدا اگر ہم ان دونوں لڑکوں کو رسول اللہﷺ کے پاس بھیجیں ان کی مراد مجھ سے اور فضل بن عباسؓ سے تھی۔ وہ دونوں آپؐ سے بات کریں اور آپؐ ان دونوں کوا ن صدقات پر امیر مقرر کردیں وہ دونوں وہ حق ادا کریں جو لوگ ادا کرتے ہیں اور اس سے وہ حصہ پائیں جو لوگ پاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں ابھی وہ یہ باتیں کر رہے تھے کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ آگئے وہ ان کے سامنے آکر کھڑے ہوئے۔ ان دونوں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو حضرت علی بن ابی طالبؓ نے کہا تم ایسا نہ کرنا اللہ کی قسم !آپؐ ایسا نہیں کریں گے۔ ربیعہ بن حارث انہیں ایک طرف لے گئے اور کہا اللہ کی قسم آپ ہمارے ساتھ صرف اس لئے ایسا کر رہے ہیں کیونکہ آپ ہم سے کچھ رنجش محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم آپ کو رسول اللہﷺ کی دامادی کا شرف حاصل ہوا اور ہم نے آپ سے اس پرکوئی حسد محسوس نہیں کیا۔ حضرت علیؓ کہنے لگے اچھا انہیں بھیج دو۔ پس وہ دونوں گئے اور حضرت علیؓ لیٹ گئے۔ جب رسول اللہﷺ نے نماز ظہر پڑھ لی ہم آپؐ سے پہلے حجرہ کی طرف بڑھے اور اس کے پاس کھڑے ہوگئے۔ یہانتک کہ آپؐ تشریف لائے اور ہمارے کان پکڑے پھر فرمایا جو تم نے (اپنے سینہ میں )رکھا ہوا ہے اسے نکالو۔ پھر آپؐ اندر تشریف لے گئے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ گئے اس روزآپؐ حضرت زینب بنت جحشؓ کے ہاں تھے۔ راوی کہتے ہیں پھر ہم بات کرنے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے پھر ہم میں سے ایک نے بات کی اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ سب لوگوں سے زیادہ حسن سلوک کرنیوالے اور سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے ہیں اور ہم شادی کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپ ہمیں کسی (جگہ) زکوٰۃ پر نگران مقرر کردیں اور ہم آپ کو وہ کچھ ادا کریں جس طرح لوگ ادا کرتے ہیں اور جیسے وہ فائدہ اُٹھاتے ہیں ہم بھی اُٹھائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضورؐ دیر تک خاموش رہے یہانتک کہ ہم نے چاہا کہ ہم (پھر) آپؐ سے بات کریں۔ راوی کہتے ہیں حضرت زینبؓ پردہ کے پیچھے سے ہمیں اشارہ کر رہی تھیں کہ آپؐ سے بات نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے فرمایا صدقہ آلِ محمدؐ کے لئے مناسب نہیں۔ یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے۔ محمیہ کوبُلالاؤ _وہ خمس پر مقرر تھے_ اور نوفل بن حارث بن عبد المطلب کو بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں وہ دونوں آپ کے پاس آئے۔ آپؐ نے محمیہ سے فضل بن عباس کے بارہ میں فر ما یا اس لڑکے سے اپنی بیٹی بیاہ دوتو انہوں نے ان سے نکاح کردیا اور نوفل بن حارث سے فرمایا کہ اس لڑکے کا نکاح اپنی بیٹی سے کر دو تو انہوں نے مجھ سے نکاح کر دیا اور محمیہ سے فرمایا کہ ان دونوں کا حق مہر اتنا اتنا خمس سے ادا کردو۔ زہری کہتے ہیں کہ راوی نے مجھ سے مہر کی مقدار کا ذکر نہیں کیا۔ عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث کہتے ہیں کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب اور عباس بن عبد المطلب نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس سے کہا تم دونوں رسول اللہﷺ کے پاس جاؤ اور آگے راوی نے مالک کی روایت کی طرح بیان کیا اس میں انہوں نے کہا ہے کہ حضرت علیؓ نے چادر بچھائی اور اس پر لیٹ گئے اور کہا میں ابو الحسن بھی کچھ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں اللہ کی قسم میں اپنی جگہ نہ چھوڑوں گایہانتک کہ تمہارے پاس تم دونوں کے بیٹے اس کا جواب لے کر آئیں جس کے لئے تم نے ان کو رسول اللہﷺ کی طرف بھیجا ہے اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ پھر آپؐ نے فرمایا یہ صدقات تو محض لوگوں کی میل کچیل ہیں اور یہ محمدؐ اور محمدؐ کی آل پر جائز نہیں اور راوی نے یہ بھی کہا پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے لئے محمیہ بن جَزء کو بلاؤ اور وہ بنی اسد کے ایک شخص تھے رسول اللہﷺ نے انہیں اموالِ خمس پر عامل مقرر فرمایا تھا۔
عبید بن سبّاق کہتے ہیں نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت جویریہؓ نے انہیں بتایا کہ نبیﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کھانے کے لئے کچھ ہے؟ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم! یا رسولؐ اللہ! ہمارے پاس کوئی کھانا نہیں سوائے بکری کی ہڈی کے جو میری آزاد کردہ لونڈی کو صدقہ دی گئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہ لے آؤ۔ وہ(صدقہ) اپنی جگہ پہنچ چکا۔