بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پندرہ سال مکہ میں رہے سات سال تک آپؐ آواز سنتے اور روشنی دیکھتے رہے۔ لیکن کچھ (اور)نہیں دیکھااور آٹھ سال آپؐ کی طرف وحی کی گئی٭ اور مدینہ میں آپؐ نے دس سال قیام فرمایا۔
عامر بن سعد اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں جرم کے لحاظ سے سب سے زیادہ وہ ہے جس نے اس چیزکے بارہ میں سوال کیا جو مسلمانوں پر حرام نہیں تھی لیکن اس کے سوال کی وجہ سے ان پر حرام کی گئی۔
زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعمؓ سے سنا۔ انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبیﷺ نے فرمایا میں محمدؐ ہوں اور میں احمدؐ ہوں، میں الماحیؐ ہوں (یعنی مٹانے والا)میرے ذریعہ کفر مٹایا جائے گااور میں حَاشِر ہوں جس کے قدموں پر لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور میں العاقب ہوں اور العاقب سے مراد وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں
محمد بن جبیر بن مطعمؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا میرے کئی نام ہیں میں محمدؐ ہوں اور میں احمدؐ ہوں اور میں ماحیؐ ہوں میرے ذریعہ اللہ کفر مٹائے گا اور میں حَاشِر ہوں میرے قدموں پر لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں۔ جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور اللہ نے آپؐ کا نام رؤف و رحیم بھی رکھا ہے۔ عقیل کی روایت میں ہے کہ میں نے زہری سے کہا عاقب سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ایک روایت میں (یَمْحُو اللَّہُ بِیَ الْکُفْرَ کی بجائے) یَمْحُو اللَّہُ بِیَ الْکَفَرَۃَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کوئی کام کیا اور اس میں رخصت پر عمل کیا۔ آپؐ کے صحابہؓ میں سے بعض لوگوں کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے گویا اسے ناپسند کیا اور اس سے بچنا چاہا۔ حضورؐ کو اس کی اطلاع پہنچی توآپؐ خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اُن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہیں میری طرف سے بات پہنچی جس میں میں نے رخصت پر عمل کیا لیکن انہوں نے اسے ناپسند کیا اور اس حکم سے بچنا چاہا۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کے بارہ میں ان سے زیادہ علم رکھتاہوں اور اس کی خشیت بھی ان سے زیادہ رکھتا ہوں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک معاملہ میں رخصت عنایت فرمائی لیکن لوگوں میں سے بعض نے اس سے بچنا چاہا۔ جب یہ بات نبیﷺ تک پہنچی توآپؐ ناراض ہوئے یہانتک کہ ناراضگی آپؐ کے چہرہ پر نمایاں ہوگئی۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس (معاملہ)میں بے رغبتی کرتے ہیں جس بارہ میں مجھے رُخصت دی گئی ہے۔ اللہ کی قسم!میں ان (سب) سے زیادہ اللہ کو جانتاہوں اور ان (سب)سے زیادہ اس کی خشیت رکھتا ہوں
عروہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے انہیں بتایاکہ انصارؓ میں سے ایک آدمی نے رسول اللہﷺ کی موجودگی میں پتھریلی زمین میں پانی کے نالوں کے بارہ میں حضرت زبیرؓ سے جھگڑا کیا جن کے ذریعہ وہ کھجورکے درختوں کو پانی دیتے تھے۔ انصاریؓ نے کہاکہ پانی چھوڑ دو کہ وہ چلتا رہے لیکن انہوں نے انکار کیا۔ وہ رسول اللہﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لے کر گئے۔ رسول اللہﷺ نے زبیرؓ سے فرمایا کہ تم (درختوں کو)پانی دو پھر اپنے پڑوسی کے لئے پانی چھوڑدو۔ اس پر انصاریؓ غصہ میں آگیا اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ!(اس لئے) کہ آپؐ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔ اس پر اللہ کے نبیﷺ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو گیا۔ پھرآپؐ نے فرمایا اے زبیرؓ ! تم پانی لگاؤپھر پانی روکے رکھویہاں تک کہ پانی منڈیروں تک پہنچ جائے۔ حضرت زبیرؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم میرا گمان ہے کہ یہ آیت اس بارہ میں نازل ہوئی۔ فَلَا وَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتَّی یُحَکِّمُوْنَکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًاترجمہ: نہیں تیرے رب کی قسم وہ کبھی ایمان نہیں لا سکتے جب تک کہ وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنالیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔ ۔ ۔ ۔ وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں جس چیزسے منع کروں۔ اس سے رُک جاؤ اور جس کا میں تمہیں حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے کثرت سے سوال کرنے اور ان کے انبیاء سے اختلاف نے ہلاک کیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں۔ اور ایک روایت میں (مَا تَرَکْتُکُمْ کی بجائے) مَا تُرِکْتُمْ کے الفاظ ہیں اور (فَإِنَّمَا أَہْلَکَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ کی بجائے) فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کے الفاظ ہیں۔
عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس نے کسی غیر حرام چیز کے بارہ میں سوال کیا تو اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر حرام کی گئی۔ایک روایت میں (مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ یُحَرَّمْ کی بجائے) رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَیْئٍ وَنَقَّرَ عَنْہُ کے الفاظ ہیں یعنی وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارہ میں سوال کیا اور بہت کرید کی۔