بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو اپنے صحابہؓ کی طرف سے کوئی (تکلیف)پہنچی تو آپؐ نے خطاب کیااور فرمایا کہ میرے سامنے جنت اور آگ کو پیش کیا گیا۔ پس میں نے آج کے دن کی طرح نہ خیر دیکھی ہے نہ شر دیکھا ہے۔ اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ضرور تھوڑا ہنستے اور بہت روتے رہتے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے صحابہؓ پر اس سے زیادہ سخت دن نہیں آیا۔ حضرت انسؓ نے کہا کہ انہوں نے اپنے سروں کو ڈھانک لیااور ان سے رونے کی آواز آتی تھی۔ وہ کہتے ہیں پھر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پراور اسلام کے دین ہونے پر اور محمدؐ کے نبی ہونے پر۔ وہ کہتے ہیں ایک آدمی کھڑا ہوا تھا اور اس نے کہا کہ میرا باپ کون ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا تمہارا باپ فلاں ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَاء َ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ یعنی اے مومنو! ان چیزوں کے بارہ میں سوال مت کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو وہ تمہیں تکلیف میں ڈال دیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں لوگوں میں سے ابن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ سب انبیاء آپس میں علاّتی بھائی ہیں اور میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ!میرا باپ کون ہے؟آپؐ نے فرمایا تمہارا باپ فلاں ہے اور یہ آیت نازل ہوئی یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَاء َ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ یعنی اے مومنو!ان چیزوں کے بارہ میں سوال مت کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو وہ تمہیں تکلیف میں ڈال دیں۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے حضرت انسؓ بن مالک نے بتایا کہ جب سورج خوب چمک گیا تھاتو رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے او ر انہیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ جب آپؐ نے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوئے اور اس گھڑی کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اس سے قبل بہت بڑے امور ظہور پذیر ہوں گے۔ پھر فرمایا جو پسند کرتا ہے کہ کسی چیز کے بارہ میں مجھ سے سوال کرے وہ اس بارہ میں مجھ سے پوچھ لے۔ اللہ کی قسم!جب تک میں اپنی اس جگہ پر ہوں تم مجھ سے جس چیز کے بارہ میں بھی سوال کرو گے میں تمہیں اس کے بارہ میں بتادوں گا۔ حضرت انسؓ بن مالکؓ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے اس بارہ میں رسول اللہﷺ سے سنا تولوگ بہت روئے اور جب رسول اللہﷺ نے بار بار فرمایا کہ مجھ سے سوال کرو تو اس پر حضرت عبداللہ بن حذافہؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یارسولؐ اللہ!میرا باپ کون ہے؟ حضورؐ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ پھر جب رسول اللہﷺ نے بار بار فرمایاکہ مجھ سے سوال کرو تو(حضرت) عمرؓ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے اور عرض کیاہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پراورمحمدﷺ کے نبی ہونے پر۔ راوی کہتے ہیں جب حضرت عمرؓ نے یہ کہا تو رسول اللہﷺ خاموش ہو گئے۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا ہلاکت قریب ہے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے ابھی اس دیوار کے پہلو میں جنت اور آگ میرے سامنے پیش کی گئیں۔ پس میں نے آج کے دن کی طرح نہ تو خیر دیکھی اور نہ شر۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن حذافہؓ کی ماں نے حضرت عبداللہ بن حذافہؓ سے کہا میں نے تجھ سے زیادہ کوئی نافرمان بیٹا نہیں سنا۔ کیا تو اس بات سے امن میں ہے کہ تیری ماں نے بھی زمانہ جاہلیت کی بعض عورتوں کی طرح گناہ کیا ہواور تو لوگوں کے سامنے اسے رسوا کرتا رہے۔ حضرت عبداللہؓ بن حذافہ نے کہا اللہ کی قسم! اگرآپؐ مجھے ایک حبشی غلام سے ملا دیتے تو میں ضرور اس کے ساتھ مل جاتا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبیﷺ سے سوال کئے یہانتک کہ انہوں نے حضورؐ سے کرید کرید کر سوال کئے۔ ایک روز آپؐ باہر تشریف لائے اور منبر پر چڑھے اور فرمایا مجھ سے پوچھو۔ تم مجھ سے جس چیز کے بارہ میں بھی سوال کرو گے میں اسے تمہارے لئے کھول کر بیان کروں گا۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ خاموش ہو گئے اور ڈر گئے کہ ضرور کوئی بات ہونے والی ہے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں میں اپنے دائیں اور بائیں دیکھنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر آدمی اپنے کپڑے میں سر لپیٹے ہوئے رو رہا ہے۔ پھر ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہواجس سے جھگڑا کیا جاتا تھا اور اسے اس کے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ !میرا باپ کون ہے؟آپؐ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمدؐ کے رسول ہونے پر۔ اور اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے، فتنوں کے شر سے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے آج کے دن کی طرح خیر اور شر کبھی نہیں دیکھا۔ میرے سامنے جنت اور آگ کا منظر دکھایا گیا۔ میں نے ان دونوں کو اس دیوار سے ورے دیکھا۔
حضرت ابو موسیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ سے بعض چیزوں کے بارہ میں پوچھا گیا جنہیں آپؐ نے ناپسند فرمایا پھر جب بہت زیادہ آپؐ سے پوچھا گیا توآپؐ ناراض ہوئے اور لوگوں سے فرمایا جو چاہو مجھ سے پوچھو۔ اس پر ایک آدمی نے کہا میرا باپ کون ہے؟آپؐ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے (بھی یہی) کہا یا رسولؐ اللہ!میرا باپ کون ہے؟ حضورؐ نے فرمایا تیرا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔ جب حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کے چہرہ پر جو ناراضگی تھی دیکھی تو عرض کیا یا رسولؐ اللہ!ہم اللہ کے حضور توبہ کرتے ہیں۔
موسیٰ بن طلحہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ بعض لوگوں کے پاس سے گزرا جو کھجورکے درختوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ حضورؐ نے فرمایا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ اس کی(pollination) زرپاشی کر رہے ہیں اس کے نر کے زرِ گل کو مادہ میں ڈالتے ہیں تو وہ بار آور ہو جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرا خیال نہیں کہ یہ کچھ فائدہ دیتاہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھراس بارہ میں لوگوں کو بتایا گیا تو انہوں نے اُسے چھوڑ دیا۔ رسول اللہﷺ کو اس بارہ میں جب بتایا گیا تو آپؐ نے فرمایا اگر یہ عمل انہیں فائدہ دیتا تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ اسے کرتے رہتے۔ میں نے تو ایک گمان کیا تھا پس اس گمان پرمجھے پکڑ نہ بیٹھو، ہاں اگر میں تمہیں اللہ کی طرف سے کچھ بتاؤں تو اسے قبول کرو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی طرف سے کوئی غلط بات تو نہیں کہہ سکتا۔
حضرت رافع بن خدیجؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور لوگ کھجور کی pollinationکر رہے تھے _جس کے لئے یُلَقِّحُونَ النَّخْلَ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں _حضورؐ نے فرمایا یہ تم کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا شاید اگر تم ایسا نہ کرو تو بہتر ہو۔ چنانچہ انہوں نے اسے ترک کر دیا۔ پھر پھل جھڑ گیا یا کم ہوا۔ راوی کہتے ہیں پھر لوگوں نے حضورؐ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایامیں صرف ایک بشر ہوں۔ جب میں تمہارے دین کے متعلق کوئی حکم دوں تو اسے لے لو اور جب میں تمہیں اپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں محض ایک بشر ہوں۔ ایک اور روایت میں (فَنَفَضَتْ اَوْفَنَقَصَتْ کی بجائے) فَنَفَضَتْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ اور حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو pollinationکر رہے تھے اس پر حضورؐ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو بھی ٹھیک ہے۔ حضرت انسؓ نے کہا پھر ردّی کھجور نکل آئی۔ پھر جب حضورؐ ان (لوگوں ) کے پاس سے گذرے توآپؐ نے فرمایا تمہاری کھجور کے درختوں کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ نے اس اس طرح فرمایا تھا۔ حضورؐ نے فرمایا اپنی دنیا کے کام تم زیادہ جانتے ہو۔
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ احادیث ہیں جوحضرت ابو ہریرہؓ نے ہمیں رسول اللہﷺ سے بتائیں اور انہوں نے کئی احادیث بیان کیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے تم میں سے اگرکسی پر ایسا دن بھی آئے گا کہ وہ مجھے دیکھ نہیں سکے گا اور پھر(اس وقت)اس کا مجھے دیکھنا اسے اس کے اہل و مال سے زیادہ محبوب ہوگا۔ ابو اسحاق کہتے ہیں میرے نزدیک اس کے معنی ہیں کہ اگر وہ مجھے اپنے ساتھ دیکھے تو اس کے اہل و مال سے زیادہ پسندنہ ہوگا میرے نزدیک اس میں تقدیم و تأخیر ہے۔