بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 160 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ عزّوجل فرمائے گا اے ابن آدم! میں بیمار ہوا لیکن تو نے میری عیادت نہ کی وہ کہے گا اے میرے رب ! میں کس طرح تیری عیادت کرتا جبکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اللہ فرمائے گا کیا تجھے علم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا لیکن تونے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تجھے علم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا وہ کہے گا اے میرے رب میں تجھے کس طرح کھلا سکتا ہوں جبکہ تُوسب جہانوں کا رب ہے۔ وہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایاکیا تو جانتا نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلادیتا تو اسے میرے پاس پاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا وہ کہے گا اے میرے رب میں تجھے کس طرح پانی پلاسکتا ہوں جبکہ تو ُتمام جہانوں کا رب ہے۔ وہ فرمائے گا کہ تجھ سے میرے فلاں بندہ نے پانی مانگا لیکن تو نے اسے پانی نہیں پلایا اگر تو اسے پانی پلادیتا تواسے ضرور میرے پاس موجود پاتا۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے بڑھ کر کسی شخص کی بیماری میں ایسی شدّت نہیں دیکھی۔ ایک روایت میں (اَلوَجَعکی بجائے) وَجَعًا کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپؐ کو بخار تھا۔ میں نے آپؐ کو اپنے ہاتھ سے چھوا تو عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کو تو شدید بخار ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا ہاں تمہارے دو آدمیوں کے بخارکے برابر مجھے بخار ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یہ(اس لئے ہے) کیونکہ آپ کے لئے دو اجر ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ٹھیک پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا جب بھی کسی مسلمان کو بیماری وغیرہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے ذریعہ اللہ اس کی بدیوں کو اس طرح گرا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتا ہے۔ ایک روایت میں فَمَسَسْتُہُ بِیَدِیکے الفاظ نہیں ہیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا نَعَمْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا عَلَی الْاَرْضِ مُسْلِمٌ ہاں مجھے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے زمین پر کوئی مسلمان نہیں۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے۔
اسود سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہؓ جب منٰی میں تھیں تو قریش کے کچھ لڑکے آپؓ کے پاس ہنستے ہوئے آئے حضرت عائشہؓ نے کہا کہ تم کس بات پر ہنستے ہو؟انہوں نے کہا کہ فلاں آدمی خیمہ کی رسی پر گرا ہے۔ قریب تھا کہ اس کی گردن یا اس کی آنکھ ضائع ہوجاتی۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے کہا مت ہنسو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی مسلمان نہیں جس کو کانٹا چبھے یا اس سے بھی کم تر کوئی تکلیف پہنچے تو اس کے عوض اس کے لئے ایک درجہ لکھا جاتا ہے اور اس وجہ سے اس کی ایک بدی کو مٹا دیا جاتا ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کسی مومن کو کانٹا یا اس سے بڑھ کرتکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا ایک درجہ بڑھا دیتا ہے یا اس وجہ سے ایک بدی کو دور کردیتا ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کسی مومن کو کانٹا (چبھنے کی) یا اس سے بھی بڑھ کر تکلیف نہیں پہنچتی مگراللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے اس کی ایک بدی کم کردیتا ہے۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کسی مومن کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی حتّی کہ ایک کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے۔ اس کے عوض اس کی خطائیں کاٹ دی جاتی ہیں یا اس کے عوض اس کی خطاؤں کو دور کیا جاتا ہے۔راوی یزید کو معلوم نہیں کہ ان دونوں (جملوں ) میں سے عروہ نے کیا کہا تھا۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی مومن کو جو تکلیف بھی پہنچتی ہے حتّی کہ ایک کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے تو اللہ اس کے عوض اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس وجہ سے اس سے ایک خطا دور کر دی جاتی ہے۔
حضرت ابو سعیدؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مومن کو کوئی تکلیف تھکان بیماری یا غم نہیں پہنچتا یہانتک کہ اگر کوئی فکر اسے لاحق ہوتی ہے تو اس کے عوض اس کی بعض برائیوں کو دور کر دیا جاتا ہے۔