حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جنت کے دروازے پیرکے دن اور جمعرات کے دن کھولے جاتے ہیں پھر ہر بندہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا بخش دیا جاتا ہے۔ سوائے اس آدمی کے کہ جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو۔ پھر کہا جاتا ہے کہ ان دونو ں کو مہلت دو یہانتک کہ یہ دونوں صلح کر لیں ان دونو ں کو مہلت دو یہانتک کہ یہ دونوں صلح کر لیں ان دونو ں کو مہلت دو یہانتک کہ یہ دونوں صلح کر لیں۔ ایک روایت میں اِلَّا الْمُتَھَاجِرَیْنَ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں اِلَّا الْمُہْتَجِرَیْنِ ہے۔
ابوصالح سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کوسُنا _ اور ایک دفعہ وہ اس بات کو مرفوع کر رہے تھے _کہ ہر جمعرات اور پیر کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں پھر اللہ عزوّجل اس روز ہر آدمی کو جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا بخش دیتا ہے سوائے اس آدمی کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو۔ تب کہا جاتا ہے ان دونوں کو مہلت دو یہانتک کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو کہ یہ صلح کر لیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو دفعہ پیرکے دن اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر مومن بندہ بخش دیا جاتا ہے سوائے اس بندہ کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو پھر کہا جاتا ہے انہیں چھوڑ دو یا ان دونو ں کو پیچھے ہٹا دو یہانتک کہ وہ دونوں رجوع کرلیں۔
نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہاں ہیں میرے جلال کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا جس دن میرے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایاکہ ایک آدمی اپنے بھائی سے ایک دوسری بستی میں ملنے گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے انتظار میں کسی فرشتہ کو راستہ میں کھڑا کردیا۔ چنانچہ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا کہ میں اس بستی میں اپنے بھائی کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں اس (فرشتہ)نے کہا کہ کیا تمہارا اس پر کوئی احسان ہے جسے تم بڑھانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ میں اس سے اللہ عزوّجل کی خاطر محبت کرتا ہوں اس پر اس (فرشتہ)نے کہا کہ میں تیری طرف اللہ کا پیغامبر ہوں اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے جس طرح تو اس سے اس(اللہ) کی خاطر محبت کرتا ہے۔
رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خُرْفَۃ الْجَنَّۃ میں رہتا ہے۔ عرض کیا گیا یارسولؐ اللہ ! خُرْفَۃ الْجَنَّۃسے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے فرمایا جنت کا پھل۔